کالمگل نوخیز اخترلکھاری

گل نو خیز اخترکا کالم۔۔Love میرج کا بخار

سیانے لومیرج اور ارینج میرج میں بڑا باریک سا فرق بیان کرتے ہیں کہ لو میرج اپنی گرل فرینڈ سے ہوتی ہے اور ارینج میرج کسی کی گرل فرینڈ سے۔معاشرہ چونکہ روز بروز جدید ہوتا جارہا ہے لہٰذالڑکا لڑکی سب کچھ خود ہی ارینج کر کے شادی کرلیتے ہیں اور اسے ارینج میرج کہتے ہیں۔ محبت کی شادی کی عمر چھ ماہ سے ڈیڑھ سال تک ہوتی ہے۔ جو شادی اس سے زیادہ چل جائے وہ کئی دفعہ پوری عمر چل جاتی ہے تاہم پھر درمیان میں سے محبت نکل جاتی ہے صرف شادی ہی شادی رہ جاتی ہے۔ میرے ایک دوست کی اپنی بیگم سے لڑائی ہوئی تو بیگم نے روتے ہوئے کہا کہ آپ تو کہتے تھے کہ شادی کے بعد بھی مجھ سے بے پناہ محبت کریں گے۔ دوست نے بے بسی سے کہا’’مجھے کیا پتا تھا کہ میری شادی تم ہی سے ہوجائے گی۔‘‘جو لوگ محبت کی شادی کرتے ہیں ان کے ذہن میں پلان یہی ہوتاہے کہ ’’ہم دونوں آپس میں دوستوں کی طرح رہیں گے‘‘۔تاہم شادی کے کچھ عرصے بعد احساس ہوجاتاہے کہ دوستی نہ ہوتی تو شادی بہت اچھی ثابت ہوتی۔شادی سے پہلے لڑکا لڑکی ایک عجیب سے رومانس میں مبتلا ہوتے ہیں، انہیں لگتا ہے کہ جونہی ان کی شادی ہوگی،ہر طرف بہار آجائے گی۔اکثر کنوارے لڑکے شوق شوق میں شادی سے پہلے ہی لڑکی کو ’’بیگم ‘‘ کہنا شروع ہوجاتے ہیں ۔آپس میں ہزاروں منصوبے بنائے جاتے ہیں۔ پہلے بچے کا نام کیا ہوگا‘ کس کس ملک کی سیر کریں گے‘ کون کون سے گانے گائیں گے‘ ایک دوسرے کو کیسے تنگ کیا کریں گے؟اس موقع پر ہر بات وجود میں گدگدی کرتی محسوس ہوتی ہے۔دونوں اس بات پر متفق ہوتے ہیں کہ زندگی صرف محبت کے سہارے بھی بہترین انداز سے گزاری جاسکتی ہے، تاہم جب شادی ہوتی ہے تو احساس ہوتا ہے کہ ’’اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا‘‘۔تب محبت زہر لگنے لگتی ہے اور بندہ وارفتگی کا بھی اظہار کرے تو بیوی کی طرف سے یہی سننے کو ملتا ہے’’کچھ شرم کریں‘‘۔
محبت کی شادی درحقیقت پورے خاندان سے بغاوت ہوتی ہے۔ ماں باپ سمیت رشتے دار بھی منہ بنا لیتے ہیں لیکن لڑکا لڑکی بہت خوش ہوتے ہیں۔ انہیں چونکہ آنے والے وقت کی خبر نہیں ہوتی لہٰذا اچھل اچھل کر سب کو بتاتے ہیں کہ ہم دونوں پہلی بار کہاں ملے‘ کیسے محبت ہوئی ‘ کیسے حال ِ دل کہا اور کیسے شادی ہوگئی؟لڑکیاں چونکہ اپنی اہمیت برقرار رکھنا چاہتی ہیں لہٰذا ہنستے ہوئے یہی بتاتی ہیں’’میں تو بالکل بھی نہیں راضی تھی لیکن یہ تو میرے ماں باپ کے پیروں میں پڑ گئے لہٰذا میں نے بھی ہاں کر دی‘‘۔لڑکوں کے پاس اگر دو چوائسز ہوںتو ان کی شادی جس کسی لڑکی سے بھی ہوجائے پانچ سال بعد شدت سے احساس ہونے لگتاہے کہ دوسری چوائس ٹھیک تھی۔محبت کا زیادہ تذکرہ بھی بوریت کا باعث بن جاتاہے۔محبت ایک میٹھی چیز ہے اور میٹھی چیز زیادہ نہیں کھائی جاسکتی۔ ہمیں اپنے ماں باپ بہن بھائیوں سے بہت محبت ہوتی ہے لیکن ہم ہر روز اس کا اعلان نہیں کرتے جبکہ محبت کی شادی میں یہ اعلان روز کرنا پڑتاہے۔ دنیا کو بتانا پڑتاہے کہ ہم کتنے خوش قسمت ہیں۔ عموماً محبت کی شادی کرنے والے باقی ساری زندگی محبت کی شادیوں کے مخالف ہی رہتے ہیں۔ان کے پاس چونکہ دلائل بھی بہت جمع ہوچکے ہوتے ہیں لہٰذا یہ اپنی سات نسلوں تک کو وصیت کرجاتے ہیں کہ لو میرج کبھی نہ کرنا۔ محبت کی شادی کے بہت سے فوائد بھی ہیں مثلاً والدین کو دلہن کی تلاش میں گھر گھرکی خاک نہیں چھاننا پڑتی ، بیشتراوقات تو بارات اور ولیمے وغیرہ کا خرچہ بھی بچ جاتاہے۔جہیز اور بری وغیرہ بھی نہیں بنانا پڑتی…بس ایک دن اچانک برخوردار ایک خاتون کا ہاتھ تھامے نمودار ہوتے ہیں اوراُسے ماں کے سامنے کھڑا کر کے کہتے ہیں’’امی جی یہ آپ کی بہو ہے‘‘۔ اکثر مائیں یہ الفاظ سنتے ہی جوتی اتار لیتی ہیں تاہم بیٹا جب بہو لے آتاہے تو گھر والوں کو اسے تسلیم کرنا ہی پڑتاہے‘ بے شک ایک سال بعد ہی سہی۔
لومیرج کرنے والوں کو ہمیشہ یہ خیال رکھنا پڑتاہے کہ وہ دوسروں کے سامنے اپنی جھوٹی محبت کی شان بنائے رکھیں لہٰذا یہ گھر میں بے شک ایک دوسرے سے جنگ پلاسی لڑتے رہیں باہر آتے ہی دنیا کے سامنے محبت کی ایسی شاندار ایکٹنگ کرتے ہیں کہ دیکھنے والے جل بھن جاتے ہیں۔ یہ ایکٹنگ باقی کنواروں پر بڑا گہرا اثر ڈالتی ہے اور وہ بھی سوچنے لگتے ہیں کہ جب بھی موقع ملا’’شکیل بھائی‘‘ کی طرح لو میرج ہی کریں گے۔ شکیل بھائی خود بھی چاہتے ہیں کہ جیسے وہ برباد ہوئے ہیں باقی بھی ایسے ہی ہوں تاکہ دل کو کچھ تو سکون ملے۔میرے ایک دوست نے شدید محبت کی شادی کی۔آج دس سال بعد اس کا کہنا ہے کہ جتنی محنت میں نے بیوی سے محبت کرنے میں کی تھی اتنی روزگار کمانے میں کر لیتا تو آج میری بیوی کو مجھ سے سچی محبت ہوتی۔شادی کے کچھ عرصے بعد میاں بیوی محبت میں نہیں مجبوری میں بندھ جاتے ہیں ۔ تب دونوں ایک دوسرے سے شکوے شروع کر دیتے ہیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ مخالف فریق کو اس کی کوئی پروا نہیں۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے مان سنگھ سے ایک دفعہ اس کی گرل فرینڈ نے کہا’’سردار جی!مجھے لگتاہے آپ کو میری کوئی پروا نہیں‘‘۔ مان سنگھ سینہ تان کر بولا’’اوئے محبت کرن والے کسے دی پروا نئیں کردے‘‘۔میاں بیوی گاڑی کے دو پہئے نہیں بلکہ ترازو کے دو باٹ ہوتے ہیں۔ ان کے درمیان بیلنس نہ رہے تو معاملہ گڑبڑ ہوجاتاہے۔ یہی بیلنس محبت ہے اور جہاں جہاں بھی یہ بیلنس برقرار ہے وہاں گھر میں عجیب طرح کی برکت ہے ایسے گھروں پر نہ کوئی تعویز اثر کرتاہے نہ کسی کی نظر لگتی ہے نہ ہر وقت چیخنے چلانے کی آوازیں آتی ہیں ‘یہاں کوئی محبت کا دعویدار نہیں ہوتا اس کے باوجود گھر کی فضا میں محبت کا ان دیکھا راج ہوتاہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker