حفیظ خانکالملکھاری

حلقۂ حاکمیت کے جھروکوں سے : سَرکشی / حفیظ خان

پندرہ جولائی 2017ء کی صبح اپنی تمام تر تازگی کے باوجود گذشتہ دن کی تکان سے نجات نہیں پا سکی تھی اِس لیے ناشتے کی میز تک آتے آتے کئی ’’حوصلہ شکن مقامات‘‘بارہا درمیان میں آیا کئے۔اگر میزبانوں کے بروقت ’’سائبانِ تجارت‘‘ سدھارنے کا اندیشہ لا حق نہ ہوتا تو شاید کچھ دیر اور بستر سے یارانہ باقی رہتا۔ناشتے کے بعد ایک مسحور کن مہک سے بھرپور چائے کا لطف لیتے ہوئے اپنے ندیم کے ساتھ آج کے دن کی مصروفیات مع جزیات اِس طرح طے کیں کہ شام سے پہلے کسی ’’رانا سعادت‘‘ کی محبت آمیزیاں اُن میں رخنہ اندازی نہ کر سکیں۔سو گذشتہ کل کے تجربات کی روشنی میں آج ہم ایک بار پھر دن گیارہ بجے کے لگ بھگ واشنگٹن ڈی سی جانے والی شاہراہ پرعازمِ سفر ہو چکے تھے۔گو کہ آج کا دن بھی کچھ زیادہ مائل بہ گرمی تھا مگر واشنگٹن شہر کے ’’خطۂ حاکمیت‘‘ تک پہنچتے پہنچتے بادلوں نے بھی ’’سچی مُچی‘‘ آسمان کا رُخ کرنے یا شاید ہمیں دھوکے میں رکھنے کا ارادہ کر لیا تھا۔
واشنگٹن کے اِس خطۂ حاکمیت کی ’’زیارت‘‘ کے لیے بلا شبہ ہزراوں لوگ اپنے اپنے طریقوں اور ذرائع سے روزانہ یہاں آتے اور آتے ہی چلے جاتے ہیں۔اِس شہر کی تاریخ جاننا مطلوب ہو تو سمجھ لیں کہ جیسے ترپن برس قبل پاکستان میں اسلام آباد بنایا اور بسایا گیا تھا اُسی طرح کوئی پونے دوسو سال پہلے1791ء میں واشنگٹن بنایا اور بسایا گیا ۔امریکیوں نے اپنا دارلحکومت اپنے محبوب صدر جارج واشنگٹن کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے یکجہتی کی علامت کے طور پر آباد کیا اور ہم نے اسلام کو محض نام کی حد تک محدود کرنے کے لیے اسلا م آباد کی بنیاد رکھی۔ اسلام آباد کی طرح واشنگٹن بھی کسی صوبے یا امریکی ریاست کا حصہ نہیں بلکہ 1790ء کے The Residence Act کے تحت دو ملحقہ ریاستوں میری لینڈ اور ورجینیا سے دریائے پوٹو میک (Potomac) کے کنارے کچھ علاقے عطیہ لے کر سابقہ النگزینڈریہ اور جارج ٹاؤن میں ضم کرتے ہوئے ایک سو مربع میل پر محیط رقبے کو دارلخلافے کی شکل دی گئی جس پر انتظامی کنٹرول مقامیوں کی بجائے کانگریس کو تفویض کر دیا گیا۔ریاست ورجینیا کے مقامی باشندوں نے دارلحکومت کا حصہ بن جانے کے باوجودکانگریس کے اِس انتظامی کنٹرول کو اپنے حقوق کی نفی پر تعبیر کیالہذااِس تنازع کے پس منظر میں بہتر جانا گیا کہ ریاست ورجینیا سے لی گئی 31مربع میل اراضی اُسے واپس کر دی جائے جو کہ 1846ء میں عملاً واپس کر دی گئی اور یوں واشنگٹن پر باقی عملداری کی حد تک’’ واحد میونسپل حکومت‘‘ وجود میں آئی ۔اِسی قسم کا معاملہ ریاست میری لینڈ کی عطیہ کردہ اراضی کی نسبت بھی چلا مگر ابھی تک طے نہیں پایا جا سکا کہ ’’حافظ صاحب‘‘ نے ٹھہرنا ہے کہ جانا ہے یعنی مقامی حکومت کا انتظام وانصرام میری لینڈ کے ’’مقامیوں‘‘ کے حوالے کرنا ہے یا یہاں کی ’’چوہدراہٹ‘‘ بدستورکانگریس کے پاس رہے گی۔
وائٹ ہاؤس کے گرد چکر لگاتے ہوئے طے ہوا کہ گاڑی کو دریائے پوٹومیک کے کنارے دوردور تک پھیلی ہوئی سبز شاہراہوں کے کنارے پارک کرنے کے بعد حسبِ توفیق پیدل یا بصورت دیگر ٹیکسی کار کے ذریعے دیدنی مقامات تک رسائی کی جائے۔مگر ہوا یوں کہ جہاں بھی جاتے وہاں پارک شدہ گاڑیوں کی طویل قطاریں کہ جن پر پارکنگ فیس چارج کرنے کی مشینیں بھی لگائی جا چکی تھیں۔جھلاہٹ میں ظہور ندیم بار بار یہی کہتے کہ ’’پتہ نئیں کیا بُکھ پئے گئی اے اِتھوں دے میئر کوں جو ساہ گھنن تے وی ٹیکس لائی آندے‘‘۔اُن کے مطابق چند دن پہلے تک دریاکا پورا کنارا مفت پارکنگ کے لیے مختص تھا۔مگر اب نجانے کیا ہوا کہ ساری سہولت واپس۔آخر خدا خدا کرکے ایک دوردراز کی پارکنگ میں جگہ ملی بھی تو اُس کی فیس چارجنگ مشین کسی دیہاتی کی بیوی کی طرح ناراض کہ سِکے اینٹھے چلی جا رہی تھی مگر رسید دینے پر آمادہ نہیں تھی۔ندیم کو مشین کا منت ترلاکرنے اور اُس سے ’’متھا مارنے‘‘کے عمل نے طول کھینچا تو میں سڑک کے اُس پار دریا پوٹومیک کے کنارے رکھی سیاہ آہنی بینچ پر بیٹھ کر دریا کے دوسرے کنارے پر واقع رن وے سے فضا میں بلند ہوتے جہازوں کو دیکھنے لگا کہ جو یوں آسمان کی طرف اُٹھ رہے تھے کہ جیسے کسی زیر آب گھروندے سے ڈبکی لگا کر یکے بعد دیگرے پر سکھانے نکل رہے ہوں۔دھوپ اگرچہ بہت چمک دار تھی مگر تمازت سے تہی اور ماں کی ممتا کی طرح حلیم وخوشگوار۔اتنے میں کہیں سے ظہور ندیم بھی ظاہر ہوئے ۔چہرے پر مسکراہٹ تھی ، صاف عیاں تھا کہ پارکنگ کا مرحلہ بخوبی طے پا گیا ہے۔
اگرچہ ندیم صاحب اوبر کیب کوطلبی کا برقی سندیسہ بھیج چکے تھے مگر پھر بھی اُس کے انتظار میں ہم ایک ایسی پُل تک پہنچے کہ جس کے عقب میں شفاف پانیوں کے جھیل نما تالابوں کے درمیان صدرلنکن کی یادگار پورے احتشام کے ساتھ موجود تھی۔دن کو سفیدیوں کو شرمندہ کرنے والی یہ عمارت چاندنی راتوں میں دودھ میں نہا جاتی ہے۔ابھی سیلفیاں لینے کا عمل شروع ہوا ہی تھا کہ کیب آن دھمکی ۔یہ جانتے ہوئے کہ ہمارے لیے وہاں کوئی منتظر نہیں تھامگر پھر بھی دنیا بھر کے ہر شخص کی طرح واشنگٹن کے اِس خطۂ حاکمیت میں ہماری پہلی ترجیح وائٹ ہاؤس تھا۔ کیب والے نے ہمیں اوول آفس کی عمارت سے بہت پہلے مین روڈ پر اتارا کیونکہ باقی کے مراحل اب بہ سبب سیکورٹی پیدل ہی طے کرنے تھے۔مگریہ سیکورٹی ہمیں کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ اِس سے کئی گنا زیادہ اور بارعب اسکیورٹی تو ہمارے ہاں ڈپٹی کمشنر کو دستیاب ہوتی ہے۔ یوں لگ رہا تھا کہ ہم کسی عام سی عمارت کے سامنے کھڑے اُن کے خود ساختہ طنطنے کا منہ چڑا رہے ہیں ۔نہ کوئی ہٹو بچو کا شور اور نہ کوئی روک ٹوک۔عجیب سا مجمع تھا ۔دنیا کے گوشے گوشے سے آئے ہوئے سیاح اپنی اپنی عمر اور توفیق کے مطابق سرشار و شاداں لمحات کواپنے اپنے کیمروں میں محفوظ و مقید کرتے ہوئے۔اُن کے عقب میں آہنی باڑ کے ساتھ ایستادہ ، اپنے کام سے کام رکھنے والے دوچار سیکورٹی گارڈزاور بس۔کسی نے کوئی احتجاجی بینر یا پلے کارڈ اُٹھا رکھا ہے تو کوئی ہاتھ میں بھونپو(میگا فون)تھامے امریکہ اور امریکیوں کے خلاف اپنے دل کی بھڑاس نکال رہا ہے ۔کوئی سن رہا ہے تو کوئی سن کر بھی سنی ان سنی کر رہا ہے۔ دھوپ والے چھاؤں میں جا رہے ہیں تو چھاؤں والے دھوپ کی طرف۔ایک میلہ لگا ہوا ہے جس میں زبانیں نہیں چہرے بولتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔ایسے چہرے جو اپنے آپ ہی میں اہم ترین ہوئے جارہے تھے۔
ایسے میں پیاس کی شدت نے گھیرا تو ہم وائٹ ہاؤس کی سامنے والے سڑک پر جا پہنچے ، پانی کی دو چھوٹی بوتلیں لیں ، کیب کو روکا اور کیپٹل ہِل (Capitol Hill) کی جانب جا نکلے جو اِس سے ملحقہ روڈ پر چند سو گز کے فاصلے پر تھی۔کیپٹل ہِل اپنے اندر صرف دارلحکومتی دفاتر ہی کو نہیں سموئے ہوئے بلکہ سینٹ، عدالتِ عظمیٰ،کانگریس لائبریری، واشنگٹن نیوی یارڈ اور1807ء سے قائم چلا آرہا قومی قبرستان بھی اِسی میں شامل ہیں۔ کیب والے نے ہمیں خاصی اونچائی پر بنے ہوئے ایک بہت بڑے چبوترے کی طرف جاتی ہوئی نیم دائرہ نماسیڑھیوں کے بالکل قریب جا کر اُتارا جہاں ایک انڈین فیملی پہلے سے کسی سواری کے انتظار میں ہلکان دکھائی دیتی تھی۔بے خبر ٹیلی وژن چینلز پر عام طور پر وائٹ ہاؤس کے طور پر دکھائی جانے والی گنبد نما چھت والی عمارت کا یہ وہ معروف چبوترہ تھا کہ جہاں امریکی صدور اپنی آئینی مدت کاحلف اٹھاتے ہیں۔اِس چبوترے پر کھڑے ہو کر دیکھیں تو بالکل سامنے بہت چھوٹی دکھائی دینے والی وہ انتہائی کشادہ شاہراہ ہے کہ جسے روندتے ہوئے ہماری کیب نے ہمیں یہاں اُتارا تھا۔ یہی وہ گزرگاہ ہے کہ جہاں حلف کی تقریب میں شرکت کرنے والے دنیا بھرکے حکمران اور مندوبین اپنی نشستیں جما کر بیٹھنا فخر سمجھتے ہیں۔ مگر اپنی اپنی دنیاؤں کے یہ جاہ طلب خدا چبوترے پر حلف اٹھاتے ہوئے امریکی صدر کو حقیقت میں فرشِ راہ دکھائی دے رہے ہوتے ہیں۔
اگرچہ بادلوں کی اوٹ میں دھوپ چھاؤں کی آنکھ مچولی جاری تھی مگر پھر بھی گرمی اتنی ناگوار ہو چلی تھی کہ پوری عمارت کے ایک جانب گھوم کر امریکی پارلیمنٹ کے دروازے کی جانب پیدل جانا مشکل لگ رہا تھا۔پارلیمنٹ کی عمارت کے اس زیر تعمیرحصے کا راستہ کسی گاؤں کی سڑک جیسا تھا۔کچا کچا سا جس پر درختوں کی محراب سی بنی ہوئی مگر اطراف میں دھرے سامان کے سبب ویرانی کا سا ساماں کئے ہوئے۔میں سستانے کے لیے رکا تو میرے ساتھ ہی ایک رکشہ نمالوڈر دھیرے سے آکرتھم گیا کہ جسے تھکے ماندے سیاحوں کو اُن کی منزل تک پہنچانے کے لیے بلا معاوضہ استعمال کیا جارہا تھا۔ نیم بزرگ ڈرائیور نے اپنی پی کیپ کو دائیں ہلا کر ہمیں بیٹھنے کاا شارہ کیا اور یوں چند لمحوں میں ہم سینٹ کی اِس عمارت کے داخلی دروازے تک پہنچ گئے کہ جہاں کا سفید چکنا فرش دھوپ میں نہا کر خود ہی دھوپ ہو گیا تھا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker