افسانےزعیم ارشدلکھاری

زعیم ارشد کا افسانہ : حلالہ

اشنا اضطراری حالت میں کئی بار جب راشد صاحب کے کمرے کے سامنے سے گزری تو راشد صاحب کو ایسا لگا جیسے وہ ان سے کچھ کہنا چاہتی ہے مگر کہہ نہیں پا رہی ، تو اس بار جب وہ گزرنے لگی تو راشد صاحب نے اسے آواز دے کر بلا لیا، اور معلوم کیا، کہ کیا بات ہے؟ تو وہ خاموش کھڑی رہی مگر اس کی نگاہیں کہہ رہی تھیں کہ وہ کمرے میں موجود لوگوں کی وجہ سے ہچکچا رہی ہے۔
راشد صاحب نے کمرے میں موجود لوگوں سے کہا کہ وہ بعد میں آئیں تو پھر بات کریں گے، جب لوگ اٹھ کر چلے گئے تو اشنا راشد صاحب کے سامنے والی کرسی پر آکر بیٹھ گئی، وہ نہایت ہی مضطرب و د ل گرفتہ لگ رہی تھی، بار بار ناخن چبا رہی تھی اور کرسی پر بار بار پہلو بدل رہی تھی، راشد صاحب نے نہایت ہی نرم لہجے میں اس سے کہا کہ اشنا کیا بات ہے تم اتنی پریشان کیوں ہو؟ تو اس نے جھوٹ بولنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا کہ نہیں سر ایسی تو کوئی بات نہیں، تو پھر کیا بات ہے؟ تو وہ کہنے لگی کہ سر اگر میں آپ سے ایک بالکل ذاتی بات کروں تو آپ ناراض تو نہیں ہوجائیں گے؟ دوئم یہ کہ میں آپ درخواست کروں گی کہ اس بات کا تذکرہ آپ کبھی بھی کسی سے نہیں کریں گے۔ راشد صاحب ذ را حیران تو ہوئے مگر انہوں نے کہا کہ میں وعدہ کرتا ہوں، تم مجھے بتاؤ تو سہی کیا بات ہے، اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی اس کی آنکھوں سے آنسو نکل نکل کر اس کے گالوں پر بہنے لگے، راشد صاحب اب حیران ہونے کے ساتھ ساتھ پریشان بھی ہوگئے، کہنے لگے کہ تم ہمت رکھو، اور مجھے بتاؤ کیا معاملہ ہے، اللہ نے چاہا تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ تب اشنا نے نگاہیں چراتے ہوئے کہا کہ سر آپ کیا مجھ سے حلالہ کر سکتے ہیں؟ کیا؟؟؟
راشد صاحب پر جیسے کسی نے بم گرادیا، وہ قریب قریب چیخ اٹھے، تم ہوش میں تو ہو، کیا کہہ رہی ہو؟ ایسا بھلا کیسے ہوسکتا ہے۔ بہرحال معاملہ کیا ہے کھل کر بتاﺅ، تو وہ ہچکیوں کے درمیان یوں گویا ہوئی کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی ہے، اور اب مجھ پہ دباؤڈال رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ میں حلالہ کرکے دوبارہ اس سے نکاح کرلوں۔ تو راشد صاحب تڑک کر بولے کہ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ وہ تمہیں دوبارہ طلاق دے کر پھر اسی کام کیلئے دوبارہ مجبور نہیں کرے گا؟ راشد صاحب کے سوال پر وہ خاموش رہی، کچھ دیر سوچ کر کہنے لگی کہ میرے پاس کوئی راستہ نہیں ہے ، میرا چھے ماہ کا بچہ اس کے قبضہ میں ہے جسے وہ ڈھال بنا کر مجھے بلیک میل کر رہا ہے اور کسی صورت دینے پر آمادہ نہیں ہے۔ وہ مجھ پر اور میرے گھر والوں پر مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے کہ میں جلد سے جلد حلالہ کراکر اس سے نکاح کرلوں، ورنہ وہ مجھے اور میرے بچے کو جان سے مار دے گا۔
راشد صاحب کو یاد آیا کہ جب اشنا کو انہوں نے اپنے دفتر میں بھرتی کیا تھا تو وہ کسی اور کے نکاح میں تھی، پھر اس نے اپنے پہلے شوہر سے خلع لے کر طارق سے نکاح کرلیا تھا، راشد صاحب کی آنکھوں میں وہ سارا منظر گھوم گیا جب اس نے پہلے شوہر سے خلع لی تھی، اشنا کا پہلا شوہر ایک نہایت ہی نفیس اور سادہ طبیعت انسان تھا، اور اشنا کو چھوڑنا نہیں چاہتا تھا، ان دونوں کا نکاح قریب چھ یا سات سال قائم رہا، پھر درمیان میں یہ طارق جو اشنا کے میکے کے قریب ہی رہتا تھا اس کی زندگی میں آگیا اور اشنا نے خلع لے کر طارق سے نکاح کرلیا، راشد صاحب کو یاد ہے کہ جب وہ عدت کی چھٹیاں لینے ان کے پاس آئی تھی تو انہوں نے اس کو سمجھانے کی کوشش کی تھی مگر وہ بالکل بھی کوئی بات ماننے کو تیار نہ تھی، اور اس وقت اس نے بتایا تھا کہ طارق دراصل اس کی بچپن کی محبت ہے یہ دونوں ایک ہی محلے میں رہتے تھے اور ایک دوسرے کو پسند بھی کرتے تھے ، مگر طارق بالکل ہی نکھٹو تھا اس کے پاس نہ کوئی ہنر تھا نہ تعلیم، وہ دن بھر آوارہ گردی کرتا تھا یا ڈبّو کھیلا کرتا تھا۔ لہذا جب اس نے رشتہ بھیجا تو اشنا کے والدین نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ یہ خود اپنے آپ کو تو سنبھال نہیں پا رہا تو ہماری بیٹی کو کیا خوش رکھے گا۔ اور جیسے ہی صمد کا رشتہ آیا انہوں نے اشنا کی شادی صمد سے کردی جو ایک اچھا کھاتا پیتا مگر کچھ بڑی عمر کا بندہ تھا، شادی کے چند سال تو اچھے سے گزر گئے مگر معاملات میں تبدیلی تب آنا شروع ہوئی جب طارق نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور دوبارہ اشنا کی طرف مائل ہونے لگا، اشنا کی شادی کے فورا بعد طارق نے بھی شادی کرلی تھی، اب جب طارق اشناکی طرف مائل ہوا تو اشنا نے خود بھی زیادہ مزاحمت نہ کی، یوں بات جہاں سے ٹوٹی تھی وہیں سے دوبارہ شروع ہوگئی، اور نوبت یہاں تک آگئی کہ وہ چھپ چھپ کر ملنے لگے، اشنا نے ضد کرکے نوکری شروع کردی اور وہ اکثر دفتر سے طارق کے ساتھ جانے لگی، یوں بات صمد سے خلع پر آکر ختم ہوئی اور آج وہ راشد صاحب کے سامنے بیٹھی ان سے حلالہ کیلئے کہہ رہی تھی۔
راشد صاحب اشنا کی آواز پر خیالات سے باہر نکل آئے، اور انہوں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ کوئی ہنسی کھیل نہیں ہے بلکہ اگر ارادہ باندھ کر حلالہ کیا جائے تو یہ گناہ ہے، اس کی صحیح ترتیب یہ ہے کہ جب پہلا شوہر طلاق دےدے تو ایّام عدت پورے کئے جائیں اس کے بعد نکاح کیا جائے اور خدانخواستہ دوسرے شوہر سے بھی نہ بن سکے اور وہ کسی وجہ سے طلاق دیدے تو ایّام عدت پورے کرنے کے بعد عورت چاہے تو اپنے پہلے شوہر یا جسے چاہے اس سے نکاح کرسکتی ہے، راشد صاحب کہنے لگے کہ دیکھو، تم سب سے پہلے اپنے ایّام عدت پورے کرو، اس کے بعد دیکھتے ہیں کہ کیا کرنا ہے، مگر میرا مشورہ یہ ہے کہ تم اس آدمی سے دوبارہ ہرگز نکاح نہ کرو جو تمہاری کمائی پر عیاشی کر رہا ہے اس کے باوجود تمہیں نہ صرف تماشہ بنا رہا ہے بلکہ بلیک میل بھی کر رہا ہے۔ رہا سوال بچے کا تو وہ قانونی و شرعی طور پر تمہارے پاس ہی رہنا چاہئے، اس کا بندوبست بھی ہوجائے گا، تم پہلے ایّام عدت پورے کرلو، اس کے بعد ہم اگلہ لائحہ عمل طے کرلیں گے اور طارق کے دباﺅ میں آنے کی ضرورت نہیں ہے اگر وہ تین پانچ کرے تو اپنے گھر والوں سے کہنا مجھ سے رابطہ کرلیں، علاقہ کا تھانیدار میرا واقف کار ہے اس کا بندوبست بھی ہو جائے گا۔ اشنا یہ سن کر کچھ مطمئن ہوکر اٹھ کر چلی گئی۔
اشنا ایک نہایت ہی خوبصورت دراز قد عورت تھی جو اب اٹھائیس سال کی ہونے کو تھی مگر لگتی نہ تھی، پڑھی لکھی بھی تھی اچھے دفتر میں کام کرتی تھی، کپڑے پہننے کا خوب سلیقہ تھا لہذا ہر کوئی اس کی تعریف کئے بنا نہیں رہ پاتا تھا اور وہ تھی بھی ذ را دل پھینک قسم کی ، اپنی اداؤں اور لچھے دار باتوں سے وہ بڑی عمر کے مردوں کو گھیر لیا کرتی تھی اور ان سے خوب مالی فوائد حاصل کیا کرتی تھی جس کا فائدہ اس کا شوہر طارق بھی خوب اٹھاتا تھا، اس نے اب بالکل ہی کام کرنا بند کردیا تھا اور اشنا کی تنخواہ پر ہی انحصار کر رہا تھا، جھگڑے کی بنیادی وجہ بھی طارق کا پیسے مانگنا اور اشنا کا انکار تھا۔
راشد صاحب ان سب باتوں سے واقف تھے مگر کیوں کہ ایک اچھے دل کے انسان ہونے کے ناطے وہ کچھ اور ہی سوچ رہے تھے، ان کے ایک بہت ہی اچھے دوست کی بیوی کرونا کی وجہ سے انتقال کرگئی تھی، جن کا ایک پندرہ سولہ سال کا بیٹا تھا ، انہوں نے اپنے دوست کو پوری بات بات بتائی تو وہ اشنا سے نکاح کرنے پر راضی ہو گیا ، راشد صاحب اشنا کے ایّام عدت پورے ہونے کے بعد ان کے گھر چلے گئے اور ان کے والدین سے کہا کہ بیٹی کو ایک نکھٹّو کے حوالے دوبارہ نہ کیا جائے، میرا ایک دوست ہے جو اچھا کھاتا پیتا پڑھا لکھا اور خوش شکل بھی ہے آپ کی بیٹی کو اپنا لے گا اور عزت احترام سے اپنی بیوی بنا کر رکھے گا، میں اسے اشنا کے حالات سے اگہی دے چکا ہوں، آپ لوگ اگر ہاں کریں تو میں آپ کی ملاقات کرادیتا ہوں، اس طرح آپ کی بیٹی نہ صرف حلالہ کی اذیت سے بچ جائے گی بلکہ ایک نکمّے کے جال میں دوبارہ پھنسنے سے بھی بچ جائے گی۔ اشنا کے والدین تو پہلے ہی طارق کو ناپسند کرتے تھے ، راشد صاحب ان کیلئے گویا رحمت کا فرشتہ بن کر آئے تھے انہوں نے فوراً ہی ہاں کردی، اشنا بھی مان ہی گئی ۔ طارق نے رخنہ ڈالنے کی بہت کوشش کی مگر اس بار سابقہ اثر رسوخ رکھنے والے لوگوں سے تھا، لہذا اس کی دال بالکل بھی نہ گلی بلکہ کورٹ کے پہلے ہی آرڈر پر اسے بچہ بھی اشنا کے حوالے کرنا پڑا ۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker