حامد میرکالملکھاری

حامد میرکا کالم:مقبول بٹ غدار، عمران خان محبّ ِوطن؟

تضادات کے ساتھ سمجھوتہ منافقت کہلاتا ہے۔ جب ایک فرد اپنی زندگی کو آسان بنانے کے لئے تضادات سے سمجھوتہ کرتا ہے تو اُسے کچھ وقتی کامیابیاں تو مل جاتی ہیں لیکن وہ منافق کہلاتا ہے۔ وہ ایک فرد کسی ادارے یا جماعت کا سربراہ بن جائے تو پوری کی پوری جماعت منافق بن جاتی ہے۔
ذرا سوچئے کہ جب کوئی ریاست بہت سے تضادات کے ساتھ سمجھوتہ کر لے تو اُس ریاست میں بسنے والی پوری قوم منافقت سے کیسے بچ سکتی ہے؟ زیادہ دور نہ جائیے۔
ہمسایہ ملک بھارت پر نظر دوڑائیے۔ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتا ہے۔ بھارت کا آئین سیکولر ہے لیکن اس جمہوریت میں اقلیتیں غیرمحفوظ ہیں۔
سیکولر بھارت میں ایک ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کی حکومت ہے جس نے بابائے بھارت مہاتما گاندھی کے قاتل نتھو رام گوڈسے کو ہندوئوں کا ہیرو بنا دیا ہے۔ تضادات سے بھرے آج کے بھارت کی نئی نسل اپنے بزرگوں سے صرف منافقت سیکھ رہی ہے۔
اب آئیے ذرا اپنے گریبان میں بھی جھانک لیتے ہیں۔ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر کو ہر پاکستانی ہر وقت اپنی جیب میں رکھتا ہے کیونکہ بانیٔ پاکستان کی تصویر ہر کرنسی نوٹ پر موجود ہے۔ بانیٔ پاکستان کی تصویروں والے کرنسی نوٹوں کی مدد سے پاکستان میں سیاسی وفاداریاں نہیں بلکہ ایمان بھی خرید لئے جاتے ہیں کیونکہ یہاں طاقتور کے لئے قانون اور ہے توکمزور کے لئے قانون اور۔
پاکستانی ریاست نے حب الوطنی اور غداری کے ایسے معیار بنا رکھے ہیں جو وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ قائداعظم کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کو اپنے بھائی کی زندگی میں ہی مادرِ ملت کہا جانے لگا لیکن جب مادرِ ملت نے 1965میں جنرل ایوب خان کے خلاف صدارتی الیکشن لڑا تو بھارتی ایجنٹ قرار پائیں۔
مادرِ ملت کی انتخابی مہم کے انچارج آزاد کشمیر کے سابق صدر اور قائداعظم کے سابق پرائیویٹ سیکرٹری کے ایچ خورشید تھے۔ کے ایچ خورشید بھی بھارتی ایجنٹ قرار پائے۔
کے ایچ خورشید کے ایک قریبی ساتھی مقبول بٹ تھے جنہوں نے ایوب دور میں پشاور شہر سے بنیادی جمہوریت کے نظام کے تحت وادیٔ کشمیر کی مہاجر نشست پر کامیابی حاصل کی اور پھر کے ایچ خورشید کو صدر آزاد کشمیر بنوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جب کے ایچ خورشید نے محترمہ فاطمہ جناح کی انتخابی مہم شروع کی تو مقبول بٹ نے بھی اُن کی مدد کی۔
مقبول بٹ ایک پڑھے لکھے نوجوان تھے۔ مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے پشاور میں آباد ہوئے اور معروف شاعر احمد فراز کے ساتھ بھی دوستی تھی۔ ایک دفعہ انہوں نے پاکستان ایئر فورس میں شمولیت کے لئے تحریری امتحان دیا لیکن جب اُن سے پاکستانی شہری ہونے کا ثبوت مانگا گیا تو اُنہوں نے ایئر فورس کی نوکری کا خیال دل سے نکال دیا۔ انہوں نے صحافت کا شعبہ اختیار کر لیا۔
1965کی پاک بھارت جنگ اور معاہدۂ تاشقند کے بعد مقبول بٹ پاکستانی ریاست سے مایوس ہو گئے اور انہوں نے اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ مل کر سیالکوٹ کے قریب سوچیت گڑھ کے محاذ کی مٹی ہاتھ میں لے کر جموں و کشمیر کی آزادی کے لئے محاذ رائے شماری بنایا۔ پھر وہ خاموشی سے مقبوضہ کشمیر چلے گئے اور وہاں اُنہوں نے مسلح جدوجہد کے لئے نوجوانوں کو تیار کرنا شروع کر دیا۔
مقبوضہ کشمیر میں وہ گرفتار ہو گئے اور سی آئی ڈی کے ایک افسر امرچند کے قتل کے الزام میں انہیں سزائے موت سنا دی گئی۔ دسمبر 1968میں مقبول بٹ اپنے دو ساتھیوں امیر احمد اور غلام یاسین کے ہمراہ سرینگر جیل کے اندر سرنگ کھود کر فرار ہو گئے اور دشوار گزار برفانی راستوں سے ہوتے ہوئے واپس آزاد کشمیر آئے۔
اُن کے دونوں پاؤں فراسٹ بائیٹ سے زخمی تھے لیکن اُنہیں گرفتار کر کے مظفر آباد قلعے میں بند کر دیا گیا اور الزام لگایا گیا کہ تم بھارتی ایجنٹ ہو۔ مارچ 1969میں جنرل ایوب خان کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عروج پر تھی اور ایوب خان نے سیاسی رہنماؤں کی ایک گول میز کانفرنس بلائی۔
محاذ رائے شماری نے اعلان کر دیا کہ اگر مقبول بٹ کو رہا نہ کیا گیا تو محاذ رائے شماری گول میز کانفرنس کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرے گی۔ یہ اعلان سن کر مقبول بٹ کو بھارتی ایجنٹ قرار دینے والے ڈکٹیٹر ایوب خان نے اس حریت پسند کی رہائی کا حکم دے دیا۔
6؍نومبر 1969کو یومِ شہدائے جموں پر محاذ رائے شماری کا چوتھا سالانہ کنونشن مظفر آباد میں ہوا جس میں مقبول بٹ کو محاذ کا صدر چن لیا گیا۔ اس کنونشن میں تنظیم آزادیٔ فلسطین (پی ایل او) کے نمائندے خالد حلیمی نے بھی شرکت کی اور یوں مقبول بٹ نے تحریکِ آزادی کشمیر اور تحریکِ آزادی فلسطین کے درمیان وہ رشتہ دوبارہ جوڑ دیا جسے مفتیٔ اعظم فلسطین امین الحسینی اور چودھری غلام عباس نے قائم کیا تھا۔
1970میں آزاد کشمیر اسمبلی کے انتخابات ہوئے تو مقبول بٹ اور اُن کے ساتھیوں نے گلگت بلتستان کو بھی آئینی حقوق دینے کا مطالبہ کیا۔ مقبول بٹ ایک جلسے کے لئے گلگت پہنچے تو انہیں امان اللہ خان، عبدالخالق انصاری اور میر عبدالمنان کے ہمراہ گرفتار کر کے ایبٹ آباد جیل بھیج دیا گیا۔
تین ماہ کے بعد رہا ہو کر مقبول بٹ دوبارہ گلگت پہنچ گئے تو دوبارہ گرفتار کر کے راولپنڈی بھیج دیے گئے۔ اس دوران ایک بھارتی طیارہ گنگا اغوا ہو گیا۔ حکومتِ پاکستان نے مقبول بٹ کو بھارتی ایجنٹ قرار دے کر طیارے کے اغوا کی ذمہ داری اُن پر ڈال دی۔
1973میں پاکستانی عدالت نے مقبول بٹ کی رہائی کا حکم دے دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے میر پور میں اُن سے ملاقات کی اور آزاد کشمیر کا صدر بنانے کی پیشکش کی لیکن مقبول بٹ نے معذرت کر لی۔
مقبوضہ کشمیر میں انہیں سزائے موت دی جا چکی تھی لیکن وہ ایک دفعہ پھر مقبوضہ کشمیر چلے گئے۔ وہاں دوبارہ گرفتار ہو گئے۔ گیارہ فروری 1984کو اُنہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی اور لاش اسی جیل میں دفن کر دی گئی۔
گیارہ فروری کو دنیا بھر کے کشمیری ایک ایسے شخص کا یومِ شہادت مناتے ہیں جو بھارت میں پاکستان کا ایجنٹ اور پاکستان میں بھارت کا ایجنٹ کہلایا۔ دونوں ریاستوں کی تضادات سے بھری پالیسیوں کے خلاف مقبول بٹ نے خود مختار کشمیر کا نعرہ لگایا تھا۔
5؍فروری 2021کو وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کوٹلی میں کہا کہ جب کشمیر کے لوگ پاکستان کے حق میں فیصلہ کر دیں گے تو اس کے بعد کشمیریوں کو یہ حق دیا جائے گا کہ وہ پاکستان کے ساتھ یا خود مختار رہنا چاہتے ہیں۔
عمران خان کے اس بیان کو پاکستان کی ریاستی پالیسی سے متصادم قرار دیا گیا تو جواب آیا کہ عمران خان کا بیان آئین کی دفعہ 257کے عین مطابق ہے۔
اگر خود مختار کشمیر کی بات 257کے عین مطابق ہے تو پھر مقبول بٹ کا کیا قصور تھا؟ مقبول بٹ کے خطوط پر مشتمل کتاب ’’شعورِ فردا‘‘ پر 21؍اگست 1998کو پابندی کیوں لگائی گئی؟
پاکستانی ریاست کے یہ تضادات کب ختم ہوں گے؟ کیا عمران خان نے خود مختار کشمیر کی بات محض آزاد کشمیر کے آئندہ انتخابات میں خود مختاری کے حامیوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے کی؟ کشمیر کے نام پر یہ دھوکہ دہی کب ختم ہو گی؟
(بشکریہ: روزنامہ جنگـ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker