اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے پورے غزہ پر قبضہ کرنے اور یرغمالی اسرائیلیوں کو رہا کرانے کا عندیہ دیا ہے۔ غزہ کے دو تہائی علاقے پر اسرائیلی فوج کا قبضہ ہے جبکہ ایک تہائی علاقے میں فلسطینیوں کے کیمپ ہیں جس پر فی الوقت اسرائیل قابض نہیں ہے۔ غزہ پر مکمل قبضہ کے سوال پر اسرائیلی اپوزیشن نے مخالفت کی ہے کیوں کہ اس سے باقی ماندہ ہرغمالیوں کی ہلاکت کا اندیشہ ہے۔ حماس نے بھی متنبہ کیا ہے کہ اسرائیل غزہ پر قبضہ کرنے کے لیے یرغمالیوں کی زندگیاں داؤ پر لگا رہا ہے۔
غزہ کی صورت حال ہر لحاظ سے دگرگوں اور المناک ہے۔ خوراک کی شدید قلت کی وجہ سے لوگ بھوک سے مرنا شروع ہوگئے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق جولائی کے آخر تک کم از کم 64 افراد بھوک کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں 35 بچے بھی شامل ہیں جن میں سے 29 کی عمریں 5 برس سے کم تھیں۔ عالمی ادارہ صحت کا تخمینہ ہے کہ غزہ میں کم از کم اڑھائی ہزار بچوں کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے اور روزانہ اس تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غذائی قلت کا شکار ہونے والے فلسطینی بچے ساری زندگی کے لیے معذور یا محتاج ہوسکتے ہیں۔ اس عمر میں مناسب غذا نہ ملنے سے دماغ کی پرداخت رک جاتی ہے جو پورے جسم کو متاثر کرتی ہے۔ اندیشہ ہے کہ چند مزید ہفتے یہ صورت حال قائم رہی تو فلسطینیوں کی ایک پوری نسل برباد ہوسکتی ہے۔ بھوک، احتجاج، بیماری اور مسلسل بمباری سے پہلے ہی ہزاروں لوگ جاں بحق ہوچکے ہیں اور لاکھوں زخمی حالت میں علاج سے محروم ہیں۔
اسرائیلی حکومت نے غزہ کو خوراک کی محدود سپلائی کے لیے یورپین ملکوں کے ساتھ معاہدہ کیا ہے لیکن اس پر بھی پوری طرح عمل نہیں ہورہا۔ بہت کم تعداد میں خوراک کے ٹرکوں کو غزہ آنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ یا متحدہ عرب امارات اور چند دوسرے ممالک فضائی طور سے خوراک گراتے ہیں لیکن یہ مقدار غزہ کے تئیس چوبیس لاکھ باشندوں کی ضرورت پورا کرنے کے لیے اونٹ کے منہ میں زیرے کی مانند ہے۔ اس کا مشاہدہ امدادی ٹرکوں سے خوراک وصول کرنے کی خواہش میں ہجوم کی چھینا جھپٹی اور ہاتھا پائی سے کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح جب کوئی طیارہ فضاسے امداد پھینکتا ہے تو بھوکے و نڈھال انسان اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ اس موقع پر یا تو اسرائیلی فوجی گولیوں سے انہیں بھونتے ہیں یا وہ ہجوم میں مارے جاتے ہیں۔ گزشتہ روز ہی ایک امدادی ٹرک لوگوں کی دھکم پیل میں الٹ گیا اور وہاں جمع بیس افراد اس حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔ محدود غذائی امداد کی تقسیم میں اس بدنظمی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل نے انتظامی معاملات کی نگرانی کرنے والی حماس کی پولیس کے کئی سو اہلکاروں کو چن چن کر قتل کردیا ہے۔ اس لیے اب امدادی ٹرکوں کو حفاظت سے منزل تک پہنچانے اور امداد کو منظم طریقے سے تقسیم کرنے کے لیے کوئی اتھارٹی موجود نہیں ہے۔ یہ صورت حال لاتعداد معصوم لوگوں کی جان لینے کا سبب بن رہی ہے۔
دنیا بھر میں ہونے والے احتجاج اور یورپ کے شدید دباؤ کے باوجود یہ صورت حال ختم ہونے کا امکان نہیں ہے۔ کیوں کہ امریکہ اگرچہ اسرائیل کی حمایت کرنے والا واحد ملک ہے لیکن اسرائیلی حکومت کو بظاہر یہ سہارا کافی لگتا ہے۔ اور وہ یورپ یا دینا کے مطالبوں پر کان دھرنے اور غزہ میں جنگ بندی یا خوراک کی مناسب فراہمی پر آمادہ نہیں ہے۔ امریکہ نہ صرف غزہ میں اسرائیلی جنگ جوئی میں مکمل شراکت دار کا کردار ادا کر رہا ہے بلکہ وہ لوگوں کو بھوکا مارنے کے اسرائیلی منصوبے میں بھی پوری طرح حصہ دار ہے۔ گو کہ گزشتہ دنوں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ غزہ کے لوگ بھوکے لگتے ہیں ، انہیں بھوکا نہیں رہنا چاہئے۔ لیکن وہ عملی طور سے اسرائیلی حکمت عملی کی تائد کررہے ہیں اور غزہ پر قبضہ کے معاملہ میں بھی نیتن یاہو کو امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ ماضی میں دو ریاستی حل کے طے شدہ امریکی مؤقف سے بھی راہ فرار اختیار کررہی ہے۔ بلکہ امریکی حکومت اب بھی صدر ٹرمپ کے اس مؤقف پر عملدرآمد کی خواہاں ہے کہ کسی طرح غزہ کو فلسطینیوں سے پاک کیا جائے اور اسے ایک تجارتی و تفریحی مرکز میں تبدیل کرکے امریکہ کے قبضے میں دے دیا جائے۔ نیتن یاہو کی حکومت اس منصوبے کو درست قرار دے کر اس پر عمل درآمد کے لیے میدان ہموار کررہی ہے۔ جبکہ دوسری طرف عرب ممالک نے فلسطینیوں کو نکالنے کے مشورہ کے برعکس ان کی موجودگی میں غزہ کی تعمیر نو اور نئے انتظام کا جو منصوبہ پیش کیا تھا، اس پر کسی قسم کی کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ اس کی ایک بنیادی وجہ حماس کی طرف سے جنگ جوئی سے گریز اور کسی بھی قیمت پر ہتھیار پھینکنے سے انکار ہے۔
کوئی نہیں جانتا کہ اس وقت حماس کے جنگجوؤں کی کتنی تعداد زندہ ہے۔ لیکن یہ لوگ ہر طرف سے گھیرے میں ہیں اور ان کی عسکری صلاحیت بری طرح متاثر ہوچکی ہے۔ وہ کسی بھی سطح پر اسرائیلی جنگ جوئی کامقابلہ کرنے یا اپنے شہریوں کی حفاظت کا فرض پورا نہیں کرسکتےلیکن بے بنیاد دعوؤں اور دھمکیوں سے حماس کی قیادت معاملات پر حاوی ہونے کا تاثر دینے کی کوشش ضرور کرتی ہے ۔ اکتوبر2023 میں حماس نے اسرائیل پر حملہ کرکے جس جنگ جوئی کا آغاز کیا تھا، اس کے نتیجے میں آج غزہ کا بچہ بچہ خوراک و علاج جیسی بنیادی انسانی ضرورتوں سے محروم کیا جاچکا ہے۔ کوئی بھی عسکری گروہ اگر دشمن سے مقابلے کا عزم کرتا ہے تو اسے اپنی صلاحیتوں کا ادراک بھی ہونا چاہئے۔ حماس نے ایران، حزب اللہ ،حوثیوں ،شام و عراق میں حامی گروہوں کی پشت پناہی کے حوصلے پر اسرائیل سے چھیڑ چھاڑ کی تھی۔ لیکن گزشتہ دو سال کے دوران اسرائیل نے ان میں سے ایک ایک کو چن چن کر مارا ہے اور سر اٹھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ حتی کہ جون کے دوران ایران پر حملہ کرکے یہ رہی سہی امید بھی ختم کردی کہ ایران براہ راست کسی طرح حماس کی مدد کرسکے گا۔
ایسی صورت میں حماس کے جنگجوؤں کے پاس غزہ چھوڑنے اور مسلح جد و جہد بند کرنے کی تجویز ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ گزشتہ ایک سال کے دوران امن قائم کرنے کے متعدد مواقع سامنے آئے لیکن حماس کی طرف سے مسلح جد و جہد جاری رکھنے پر اصرار نے ان مواقع کو ضائع کردیا۔ اب یہ صورت حال ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ سے فلسطینیوں کو نیست و نابود کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے لیکن حماس کے جنگجو اپنی جان بچانے کے لیے فلسطینیوں کے مہاجر کیمپوں میں پناہ لے کر شہریوں کو اسرائیل عتاب کا نشانہ بنانے کا سبب بن رہے ہیں۔ روازانہ کی بنیاد پر درجنوں لوگ ان حملوں میں مارے جاتے ہیں۔
کوئی فوج یا مسلح گروہ وسائل اور مواقع ختم ہونے کے بعد جنگ جاری نہیں رکھتا لیکن حماس کا یہ اصرار اس کے اپنے لوگوں کی ہلاکت اور معصوم بچوں کی موت کا سبب بن رہا ہے۔ ان حالات میں حماس ہی درحقیقت فلسطینیوں کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ حماس اگر ہوشمندی سے کام لیتی تو اپنے جنگجو غزہ سے نکال کر اس خطے کاانتظام کسی عرب فورس کے حوالے کرنے پر راضی ہوجاتی ۔ یرغمالیوں کو رہا کیا جاتا اور اسرائیل سے مستقل امن قائم کرنے کی بات کی جاتی۔
اسرائیل کی جارحیت، سفاکی اور بربریت کے باوجود یہ ماننا چاہئے کہ فلسطین کو طاقت کے زور پر آزاد کرانے کا نعرہ لگانے والی حماس اور اس کی حمایت کرنے والے عناصر ہی درحقیقت اس وقت غزہ کے مظلوموں پر قیامت اتارنے کا باعث ہیں۔ یہ رویہ تبدیل ہوئے بغیر غزہ کے لوگوں کی حفاظت کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

