اسلام آباد : سپریم کورٹ نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاون کی جائیدادوں کی نیلامی کے خلاف درخواست پر فوری حکم امتناع کی استدعا مسترد کردی ہے۔ دوران سماعت عدالت کا کہنا تھا کہ پورے کیس کو سنے بغیر کیسے حکم امتناع دے سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ جمعرات کو بحریہ ٹاؤن کی چھ کمرشل پراپرٹیز کی نیلامی کی تقریب کے دوران ایک پراپرٹی کی نیلامی کامیاب ہوئی ہے۔
پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ روبیش مارکی نامی پراپرٹی کو 50 کروڑ 80 لاکھ روپے میں نیلام کیا گیا ہے اور یہ قیمت ریزرو پرائس سے دو کروڑ روپے زیادہ ہے۔
جمعے کے روز جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بحریہ ٹاؤن کی اپیل کی سماعت کی۔
بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ مرکزی کے بجائے صرف متفرق درخواستیں سماعت کے لیے مقرر ہیں اور مرکزی کیس سنے بغیر متفرق درخواستیں کیسے سنی جاسکتی ہیں۔
بحریہ ٹاؤن کے وکیل فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ مجھے رات بارہ بجے بتایا گیا کہ کیس مقرر ہوگیا ہے۔ ابھی تک اس کیس کے مقرر ہونے کی کاز لسٹ ویب سائٹ پر بھی جاری نہیں ہوئی۔عدالت نے بحریہ ٹاون کے وکیل کو کیس سے متعلق مزید دستاویزات جمع کرانے کی ہدایت کردی۔
اس تین رکنی بینچ میں موجود جسٹس نعیم اختر افغان کا کہنا تھا کہ ریفرنسز کی کاپیاں ہمارے سامنے نہیں ہے اور بحریہ ٹاؤن کا کیس تین نیب ریفرنسز پر مشتمل ہے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ درخواست کے ساتھ ان تین ریفرنسز کی کاپیاں بھی لگائیں تاکہ پتہ چلے کہ اصل غبن کیا ہے۔
بحریہ ٹاؤن کے وکیل کا کہنا تھا کہ میں تمام دستاویزات کل تک جمع کر دیتا ہوں۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ پلی بارگین کےلیے نیب کا قانون کہتا ہے کہ اگر ملزم اسے چیلنج کرے تو غیر فعال ہو جاتی ہے اور موجودہ کیس میں ملزم نے پلی بارگین چیلنج کر رکھی ہے۔
انھوں نے ریمارکس دیے کہ پلی بارگین زیر سماعت ہے اور یہاں تیزی میں جائیدادوں کی نیلامی کی جا رہی ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس نعیم افغان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب ریفرنسز کی کاپیاں بھی اپیلوں کے ساتھ لگائیں تاکہ معلوم ہو اصل غبن کیا ہے۔
جسٹس نعیم اختر نے کہا ملزمان نے نیب کے ساتھ پلی بارگین کی تھی۔ پلی بارگین میں آٹھ پراپرٹیز نیب کو دی گئیں۔ اب ملزم کا بیان ہے پلی بارگین رضاکارانہ نہیں دباؤ کے تحت تھا۔
جسٹس نعیم افغان کا کہنا تھا کہ ملزم نے پلی بارگین ختم کرنے کی درخواست چیئرمین نیب کو دے دی ہے اور پلی بارگین ختم کرنے کی درخواست کے بعد کیس پہلے کی سٹیج پر آگیا۔
جسٹس نعیم اختر نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ نیب جائیدادوں کی نیلامی کی طرف کیسے چلا گیا؟
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے کہا کہ پلی بارگین ختم کرنے کی درخواست کے بعد تو اب ریفرنس پر ملزمان کا ٹرائل ہوگا اور ریفرنس پر اگر سزا ہوئی تب پراپرٹیز ضبط ہوگی۔
بحریہ ٹاؤن کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہی کیس ہے۔ ہماری پلی بارگین ختم کرنے کی درخواست اور نیب ریفرنس التوا پرہیں۔ کیس کی سماعت 13 اگست تک ملتوی کر دی گئی۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
فیس بک کمینٹ

