حسن نثارکالملکھاری

میر جاوید رحمٰن، کچھ یادیں، کچھ باتیں۔۔حسن نثار

برسوں پرانی بات ہے جب نواز شریف اقتدار سے ہاتھ دھونے کے بعد رونے دھونے اور طیارہ کیس بھگتنے میں مصروف تھے تب میں نے اک بےضرر سا کالم لکھا جس کا عنوان تھا ’’نواز شریف کے یحییٰ بختیار‘‘۔ مرکزی خیال اس کالم کا یہ تھا کہ پاور پلے میں جھوٹا کیس بھی سچا سمجھ کر سو فیصد پروفیشنل انداز میں لڑنا چاہئے ورنہ کچھ بھی ہو سکتا ہے اور پروفیشنل انداز کا مطلب یہ کہ اس پر سیاست کا سایہ نہ پڑنے دیا جائے۔ تب مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یحییٰ بختیار کو ’’جنگ‘‘ سے اک خاص قسم کی ’’محبت و عقیدت‘‘ ہے۔ یحییٰ بختیار نے کیس بلکہ کیسز کر دیے جس کے نتیجہ میں وقفہ وقفہ سے ہمیں لگاتار کوئٹہ جانا ہوتا۔میر شکیل اور میر جاوید صاحبان کراچی سے کوئٹہ پہنچتے جبکہ میرا پینڈا لمبا تھا۔ لاہور سے کراچی جاتا، ٹرانزٹ میں چند گھنٹے جھک مارتا پھر کراچی سے کوئٹہ پہنچتا۔ اگلی صبح عدالت میں پیش ہوتے اور پھر اسی روز کراچی سے براستہ اسلام آباد لاہور۔ نئی نسل کی اکثریت کو علم نہ ہوگا کہ یحییٰ بختیار کون تھے اس لئے پہلے ان کا مختصر تعارف، آپ بلوچستان کے نامور وکیل تھے جو بعد ازاں بھٹو حکومت میں اٹارنی جنرل قرار پائے اور پھر بھٹو کی پھانسی والے کیس میں ان کے وکیل بھی رہے۔ دوسری وجۂ شہرت ان کی صاحبزادی تھیں۔ ماضی کی اک ہیروئین زیبا بختیار جنہوں نے کسی بھارتی فلم میں بھی کام کیا تھا۔اب ہم واپس کیس اور کوئٹہ کی طرف چلتے ہیں کہ اگر یہ کیس نہ ہوتا تو شاید زندگی بھر میر جاوید رحمٰن سے نہ تعارف ہوتا نہ تعلق بنتا تو کتنا اچھا ہوتا کہ ان کی دنیا سے رخصتی صرف افسوس تک محدود رہتی، گہرے دکھ تک لامحدود نہ ہوتی۔ ابتدائی ملاقاتوں میں ہی جاوید صاحب نے پوچھا ’’آپ کی تاریخ پیدائش‘‘؟ میں نے کہا 5جولائی 1951ء ’’پھر یہ جاوید صاحب کیا ہوا آپ مجھے جاوید بھائی کہا کرو کیونکہ مجھ سے 5،6سال چھوٹے ہو‘‘ یوں وہ جاوید رحمٰن سے پروموٹ ہو کر جاوید بھائی ہو گئے۔ بہت ہی پیارے، منہ پھٹ اور مختلف قسم کے شخص تھے مثلاً کوئی انہیں ’’جاوید الرحمٰن‘‘ کہتا تو فوراً تصیح کرتے کہ بھائی !میرے نام میں ’’اُر(UR)نہیں، میں ’’جاوید رحمٰن‘‘ ہوں۔ پرانی فلمیں اور گیت ہمارے درمیان اک دلچسپ قدرِ مشترک تھی اور اس سلسلہ میں ’’معلومات‘‘ کا تبادلہ ہی نہیں مقابلہ بھی جاری رہتا۔ پہلی بار جاوید بھائی سے ہی سنا کہ بڑے میر صاحب (میر خلیل الرحمٰن) نے کچھ فلمیں بھی پروڈیوس کی تھیں جن میں سے ایک فلم ’’سلطنت‘‘ کا نام مجھے آج بھی یاد ہے جس کے ہیرو سنتوش کمار تھے۔ یہ کیس شاید دو اڑھائی سال چلا جو یحییٰ بختیار صاحب کی وفات پر ہی ختم ہوا لیکن اس دوران ہمارے تعلق کی سنوبالنگ ہوتی رہی۔ انہیں ’’عدالتی دنیا‘‘ بارے بڑی جانکاری تھی۔ مجھے عدالت میں کھڑا ہونے کے ’’آداب‘‘ سے لیکر ڈریس کوڈ تک بہت کچھ بتایا کرتے۔ کوئٹہ میں کوئی خاص بیکری تھی جس کی چند چیزیں ’’سوغات‘‘ کا درجہ رکھتیں۔ زبردستی کھلاتے، کراچی بھی لے جاتے اور اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے کہ مجھے کھانے وانے کا شوق نہیں۔اک دن بولے ’’ضروری بات کرنی ہے‘‘ میں نے کہا ’’کریں‘‘ تو کچھ دیر کی خاموشی کے بعد پوچھا ’’آپ اخبارِ جہاں کیلئے کیوں نہیں لکھتے؟‘‘ … ’’میں نے کبھی سوچا نہیں آپ نے کبھی کہا نہیں‘‘ ہنستے ہوئے کہا ’’میں نے کہہ دیا آپ سوچ کے ابھی بتائیں‘‘ میں نے حامی بھرلی تو کچھ عرصہ کالم کا عنوان ہمارے درمیان زیر بحث رہا اور پھر جب میں نے ’’بادبان‘‘ تجویز کیا تو بہت اچھا لگا۔ دو ڈھائی سال ’’بادبان‘‘ چھپتا رہا ’’اخبارِ جہاں‘‘ کی ریڈرشپ بےتحاشہ اور بہت نرالی ہے، میرے لئے یہ بہت ہی انوکھا تجربہ تھا، رسپانس بھی غضب کا رہا لیکن پھر مجھ پر باقی کاموں کا پریشر بتدریج بڑھتا گیا۔ اک اور وجہ یہ تھی کہ میں اک خاص حد سے زیادہ ’’پابند‘‘ ہو نہیں سکتا جبکہ ہفت روزہ میں یہ بیحد ضروری ہے، روزناموں میں گنجائش اور لچک ہوتی ہے کہ موڈ ہو تو لگاتار لکھو، نہ ہو تو دو تین دن غائب بھی ہو جائو تو چلتا ہے۔موت سے کس کو رستگاری ہےآج تم کل ہماری باری ہےاہلِ خانہ خصوصاً ان کی والدہ اور اہلیہ کا سوچتا ہوں تو ملال دو چند خصوصاً ان حالات میں کہ سگے چھوٹے بھائی کو اکلوتے بڑے بھائی سے ملنے کی اجازت نہ ملی لیکن پھر سوچتا ہوں کہ تدفین کیلئے ہی جانے دیا گیا تو بڑی بات ہے۔’’اے ماں! تو نے ہمیں کن زمانوں میں کن زمینوں پر جنم دیا‘‘سینوں میں دل اور دلوں میں درد نہ ہوں تو سفاکیوہاں گھر کر لیتی ہے اور انسان بھول جاتے ہیں کہ ………قبر کا چوکھٹا خالی ہے اسے یاد رکھو جانے کب کون سی تصویر سجا دی جائے صرف یادیں، باتیں اور تصویریں ہی باقی رہ جاتی ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker