حسن نثارکالملکھاری

بغض ، غصہ نہ انتقام : چوراہا / حسن نثار

’’مجھ سے میرا نام بھی چھین لیں‘‘نواز شریف تو نثری شاعری پر اتر آئے ہیں نام چھن جائے تو بندہ تقریباً گمنام ہو جاتا ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ بدنام ہونے سے بے نام یا گمنام ہونا کہیں بہتر ہے لیکن اس سوچ کے لئے ایک خاص قسم کی تربیت ضروری ہے اور اس سے بھی کہیں زیادہ ضروری یہ کہ تربیت بچپن میں نصیب ہو ۔ بوڑھے طوطوں یا توتوں کو بھلا کون سکھا سکتا ہے؟نواز شریف نے ایک بار پھر ’’بغض ، غصہ اور انتقام‘‘ کی بات کی ہے تو مجھ سے رہا نہیں جا رہا اور میں یہ پوچھنے پر مجبور ہو گیا ہوں کہ حضور!یہ بھی تو بتائیں کہ اس بغض ، غصہ اور انتقام کے اسباب کیا ہیں؟وجوہات کیا ہیں؟پس منظر کیا ہے؟اور وہ کون لوگ ہیں، آپ کی ان سے کون سی آبائی دشمنی ہے کہ ’’سب کےسب‘‘آپ کے خلاف بغض، غصہ اور انتقام لئے بیٹھے ہیں۔؟پاکستان کیا، جدید دنیا کی تاریخ میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں جو اسٹیبلشمنٹ کی ایسی خالص پیداوار اور اس کا اتنا چہیتا ، لاڈلا ہو جتنے آپ تھے ورنہ آپ تھے کیا؟ ایک ایسا ’’شوقین‘‘ جو کونسلر منتخب ہونے کے قابل بھی نہ تھا، رہ گیا خاندانی پس منظر ، بحوالہ سیاست تو وہ بھی دنیا جانتی ہے کہ نہ تین میں تھے نہ تیرہ میں۔ کاروباری اعتبار سے بھی صف اول تو کیا، دوسرے درجہ کے کاروباری گھرانوں میں بھی آپ کا شمار نہ تھا۔ وہ تو بھلا ہو بریگیڈئیر قیوم اور جنرل جیلانی مرحوم کا جنہیں آپ کی تابعدارانہ عادات، صفات اور دیگر خدمات بھا گئیں اور سیاسی منڈی میں آپ کا بھائو پڑ گیا۔ پھر آپ کے یہی محسن آپ کو آمر مطلق جنرل ضیاء الحق تک لے گئے،وہی جنرل ضیا الحق جس کے مشن کی تکمیل کی آپ قسمیں کھایا کرتے تھے۔ یہ علیحدہ بات کہ آج تک کوئی نہ جان پایا کہ اپنے اقتدار کے استحکام و طوالت کے سوا جنرل ضیا کا مشن کیا تھا۔پیا من بھانے اور اسے مکمل طور پر رجھانے کے بعد آپ نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا کیونکہ ……..کیونکہ……..کیونکہ ملک کے مقتدر حلقوں اور حقیقی حکمرانوں نے محاورتاًنہیں حقیقتاً آپ کو سیاسی ’’بلینک چیک‘‘ اور ’’لائسنس ٹوکل‘‘ دے رکھا تھا جس کی وجہ آپ کی اہلیت نہیں بلکہ پیپلز پارٹی سے حکمرانوں کی شدید نفرت اور خوف تھا تو ادھر آپ بھی بھٹو نیشنلائیزیشن کے باعث پیپلز پارٹی بارے بغض، غصہ، عناد اور انتقام سے بھرے بیٹھے تھے…….. جی ہاں بڑے میاں!وہی ’’بغض، غصہ اور انتقام‘‘ جس کے آج آپ جعلی شاکی ہیں کہ آپ کا اپنا بغض، غصہ انتقام تو ضرب المثل سے کم نہیں۔ہر قسم کا ’’NOC‘‘ اور ’’لائسنس ٹوکل‘‘پانے کے بعد آپ نے ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں چمڑے کے جو سکے چلائے، ان پر والیومز لکھے جا سکتے ہیں۔ اداروں میں نقب لگانے،ذاتی وفاداریاں پالنے، پالتوؤں میں نوکریاں اور پلاٹ بانٹنے، ہر قسم کا میرٹ ملیا میٹ کرنے، ہارس ٹریڈنگ کو ’’ادارہ‘‘ بنانے، لفافہ جرنلزم پروموٹ کرنے اور نت نئی سیاسی و جمہوری اقدار متعارف کرانے کے بعد آپ کے ’’پنجے‘‘ سسٹم میں پیوست ہوتے چلے گئے لیکن تب تک بھی آپ جعلی لیڈر تھے جو سسٹم میں تو سرطان کی مانند سرائیت کر چکا تھا، عوام میں اب بھی کوئی اوقات نہیں تھی۔ انگریزی کے ایک مشہور اکھان کا ترجمہ ہے’’کچھ لوگ پیدائشی طور پر عظیم ہوتے ہیں، کچھ لوگ محنت اور ذہانت سے مقام عظمت پر فائز ہوتے ہیں لیکن کچھ لوگوں پر حالات ’’عظمت ‘‘تھوپ یا ٹھونس دیتے ہیں‘‘۔ آپ کا تعلق تیسری قسم سے ہے اور اسی قسم کے لوگ ہی ’’خبط عظمت‘‘کا شکار ہو کر آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اور پھر پوچھتے پھرتے ہیں ’’مجھے کیوں نکالا‘‘؟پھر خوش قسمتی یا بدقسمتی سے یہ ہوا کہ مسلسل اقتدار سے ملے اعتماد کی بنیاد پر آپ نے ’’ڈکٹیشن نہیں لوں گا‘‘ والی باغیانہ تقریر کی جس کے نتیجہ میں پہلی بار عوامی پذیرائی تقدیر ہوئی یعنی کریلا نیم پر چڑھ گیا۔جس کی گود میں پرورش پائی، پروان چڑھے، اسی ’’بزرگ ‘‘ کی داڑھی سے کھیلنے لگے اور کھیلتے کھیلتے وہاں تک جا پہنچے جہاں اپنے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ بندہ خود کو ناگزیر ، ناقابل تسخیر کیا، ریاست سے بھی بلند تر اورقانون سے بھی ماورا سمجھنے لگتا ہے۔ پھر وہ ختم نبوت جیسی شقوں کے ساتھ بھی ٹمپرنگ کرتا ہے، بہت ہی محدود عقل کے ساتھ مودیوں کے ساتھ لامحدود ہونا چاہتا ہے۔میں بوجوہ بہت کچھ سنسر کر گیا ہوں، بیوفائیوں سے لیکر شرمناک ٹیلی فون کالوں اور سپریم کورٹ پر چڑھائیوں تک سب چھوڑیں اور واپس چلیں اس سوال کی طرف کہ آپ کی کسی کے ساتھ کون سی ذاتی، آبائی، سیاسی ، کاروباری دشمنی تھی جو کوئی آپ بارے بعض، غصہ پالے اور کس بات کا انتقام؟آپ کو اپھارہ ہو گیا تھا حضور!آپ بدہضمی کا شکار ہو گئے تھے ،آپ ملکی وسائل کے ساتھ بے رحمانہ ٹمپرنگ کے عادی ہو گئے تھے۔آپ خود کو ہی ریاست، حکومت، جمہوریت، آئین، قانون وغیرہ سمجھ کر اس کے مطابق ’’منصوبہ بندیوں ‘‘ میں مصروف تھے جن کی تفصیلات میں جانا ضروری نہیں ہے کہ سمجھنے والوں کے لئے اشارے ہی بہتممکن ہو تو ’’ری وزٹ‘‘ فرمائیںاپنے اعمال ہی نہیں، اقوال پر بھی نظر ثانی کریں اور سوچیں کہ کبھی جن کے لاڈلے، چہیتے اور فیورٹ تھے……..آج ان سے اس قدر گلے شکوے کیوں ہیں؟لیکن نہیں خبط عظمت کے شکار ہر فانی شخص نے بالآخر ایسے حالات کا شکار ہونا ہی ہوتا ہے۔زمین پر ریاست اور اس کا مفاد اتم ترینکوئی فانی ناقابل تسخیر نہ ناگزیرنہ غصہ نہ بغض نہ انتقام کہ یہی کچھ اپنے انداز میں شہباز اور نثار جیسوں نے بھی سمجھانے کی کوشش کی تھی۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker