بوہرہ گجراتی لفظ دوہروں کی بگڑی ہوئی شکل ہے جس کے معنی تاجر کے ہیں ۔ بوہرہ برادری کے تمام لوگ تجارت پیشہ ہوتے ہیں ممبئی کے بعد کراچی بوہرہ برادری کا دوسرا بڑا مسکن کہلاتا ہے۔ ۔ کراچی اور ممبئی کے بعد سری لنکا، تھائی لینڈ، مصر، عراق، عرب امارات، کینیڈا، برطانیہ، ترکی سنگاپور اور افریقہ میں بھی ان کی آبادیاں موجود ہیں بوہرہ برادری کی دنیا بھر میں مجموعی آبادی 17یا 18لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ ان کی اکثریت ممبئی میں مقیم ہے، جہاں ان کا پایہ تخت بھی ہے ۔ موجودہ بوہرہ برادری کے آباوٴ اجداد بھارتی ریاست گجرات کے قدیم باشندے تھے ۔
محمودہ رضویہ اپنی کتاب "ملکۂ مشرق” میں بوہرے کے عنوان سے لکھتی ہیں کہ ان کے تین فرقے (1) داؤدی بوہرے (2) سلیمانی بوہرے (3) سنی بوہرے، موخرالذکر فرقے سے اکثر نمایاں خاندان وابستہ ہیں۔ اگرچہ ان کی تعداد معدودے چند ہے، بدرالدین طیب جی جسٹس، سراکبر حیدری، حاتم جی، طیب جی جسٹس کراچی اور لقمانی خاندان وغیرہ وغیرہ سنی بوہرے ہیں۔
بوہرہ اسماعیلی شاخ کا ایک ذیلی فرقہ ہے۔ ہندوستانی بوہرے فرقے نے داؤد قطب شاہ کی حمایت کی اور اس لحاظ سے وہ داؤدی بوہرہ کہلانے لگے۔
یمن والوں نے سلمان بن حسن کو اپنا داعی مطلق تسلیم کیا۔ وہ سلیمانی بوہرہ کہلائے۔ اس طرح ان کے دو فرقے ہو گئے۔ یمن مین سلیمانیوں کی اکثریت ہے اور پاکستان و بھارت میں داؤدیی بوہرہ کی۔
گجرات کی اسلامی سلطنت کے زمانے میں ان میں سے بعض سنی ہو گئے جو صغیری بوہرہ کہلاتے ہیں ۔شیعہ حضرات بارہ امام کو مانتے ہیں جبکہ بوہری فرقے کے لوگ حضرت امام جعفر صادق کے بعد کسی بھی امام کو نہیں مانتے وہاں سے ان کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے ۔ بوہرہ برادری کے مرد سر پر ایک خاص قسم کی سفید ٹوپی پہنتے ہیں جس پر سنہری رنگ کا سونے کی چمک جیسا دائرہ بنا ہوا ہوتا ہے اورسفید رنگ کا پاجامہ، قمیص اور شیروانی لباس ہے۔ مردوں کے لئے داڑھی رکھنا ضروری ہے ۔ اس کا منڈوانا گناہ تصور ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی بالغ بوہرہ داڑھی کے بغیر نظر نہیں آتا ہے جبکہ خواتین دو حصوں پر مشمل مختلف رنگوں کا ایک برقع زیب تن کرتی ہیں جسے ’ردا‘ کہا جاتا ہے۔اس کی بناوٹ اور تراش خراش ، یہاں تک کہ اس کے رنگ اور سلائی کڑھائی بھی عام برقعوں سے قطعی مختلف ہوتی ہے۔ بوہرہ خواتین چہرے پر حجاب نہیں پہنتیں البتہ سر ڈھکا ہوتا ہے۔ اور لمبا سا لہنگا زیب تن کرتی ہیں جسے ’گھاگرا کہا جاتا ہے۔ بوہروں میں لڑکی کا بھی ختنہ ہوتا ہے اور یہ ایک بوڑھی عورت کرتی ہے جو مکہ ، مدینہ اور کربلا معلی ہوکر آئی ہو اور حضرت فاطمہ مزار کو بوسہ دے چکی ہو ۔ اس خطنہ کی تقریب میں مرد شریک نہیں ہوتے ہیں
کراچی میں زیادہ تر داؤدی بوہرے ہیں۔ کراچی میں انکی آمد انیسویں صدی میں برطانوی راج کے دوران ہوئی تمام لوگ اپنے داعی سیدنا مفضل سیف الدین طاہر کے حکم پر چلتے ہیں اور ان کے ارشادات کو ورد زبان رکھتے ہیں ۔ سیدنا مفضل سیف الدین کی طرف سے ’عامل‘ شیخ اور ملّا مقرر ہیں، کافی شائستہ اور مہذب قوم ہے۔ ان کا اپنا بڑا ٹرسٹ ہے۔ اسکاؤٹ، بینڈ اور جماعت خانے موجود ہیں۔ بوہریوں میں چھر یوں اور زنجیروں سے ماتم کا رواج تھا مگر بعد میں بوہریوں کے سابق پیر سیدنا برہان الدین مرحوم نے چھر یوں اور زنجیروں سے ماتم کرنے سے منع کر دیا اُنھوں نے اپنے مریدین سے صرف ہاتھ سے ماتم کرنے کا حکم جاری کیا ہے لہٰذا وہ اب ہاتھ سے ماتم کرتے ہیں ۔
کراچی آنے والے بوہرہ برادری نے 1895 سے 1899 کے دوران برطانوی راج میں تعمیر ہونے والی قدیم ایمپریس مارکیٹ کے اطراف پریڈی اسٹریٹ، مینسفیلڈ اسٹریٹ اور ڈاکٹر داود پوتا روڈ کے علاقوں کو رہائش کے لئے منتخب کیا ۔ 1939 ءسے قبل یہ علاقہ برطانوی فوجوں کے کیمپوں کے لئے قائم کیا گیا تھا مگر بوہرہ برادری کی آمد اور کاروباری سرگرمیوں کے باعث یہ علاقہ ایک بازار کی شکل اختیار کرگیا۔ لہذا اس بازار کانام بوہرہ برادری کے نام پر بوہری بازار رکھا گیا ۔

بوہری بازار ان دنوں کراچی کے قدیم ترین بازاروں میں سے ایک ہے ۔ اس مصروف بازار میں ضروریات زندگی کی ہر چیز مل جاتی تھی۔اس بازار میں تقریبا پانچ ہزار سے زائد دکانیں ہیں ان دکانوں کے اوپر کئی منزلہ رہائشی عمارتیں ہیں ۔اسی طرح کراچی میں مقیم بوہری افراد زیادہ تر ہارڈوئیر اور شیشے کے کاروبار سے جڑے ہیں کراچی میں بوہرا پیر نارتھ کراچی میں یوپی موڑ پر انکی بڑی ہارڈ ویئر مارکیٹیں ہیں 1958ءکے اوائل میں بوہری بازار میں کراچی کی تاریخ کا سب سے بھیانک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا ۔ بازار میں واقع پٹاخوں کی ایک دکان میں لگنے والی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے آس پاس کی دکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا ۔ کافی مالی نقصان ہوا تھا

اس بازار میں 14 جولائی 1987 کو ملک کی تاریخ میں پہلا خوفناک دھماکہ ہو ا تھا بوہری بازار میں شام کے وقت لوگ شاپنگ میں مصروف تھے کہ اچانک زوردار دھماکا ہوا ۔ دھماکہ بازار میں کھڑی گاڑیوں کے اندر نصب 2ٹائم بم پھٹنے سے ہوا تھا ۔جس کے نتیجے میں 87 لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 100 سے زائد افراد اس دلخراش واقعے میں زخمی ہوئے تھے ۔ اس افسوسناک سانحہ کی یادیں آج بھی میرے ذہن میں موجود ہے، جب یہ دھماکا ہوا اس وقت ہم طالبعلم تھے اور ایس ایم کالج میں پڑھتے تھے دھماکہ کے بعد دوستوں کے ہمراہ خون دینے اسپتال پہنچے ۔تمام اسپتال زخمیوں اور لاشوں سے بھر چکے تھے ہر طرف خون ہی خون بکھرا نظر آرہا تھا ۔ ہر شہری اپنی بساط سے بڑھ کر زخمیوں کی مدد میں آگے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہاتھا ۔کراچی کا ہر شہری سوگوار نظر آرہا تھا۔ ہر علاقے سے جنازے اٹھ رہے تھے۔ ہر آنکھ اس دن اشکبار تھی
فیس بک کمینٹ

