تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : عمران خان= دیانت دار (سند یافتہ)

کورونا وبا نے پاکستانی سیاست کے ایسے پہلو نمایاں کردیے ہیں جنہیں بظاہر خفیہ رکھا جاتا ہے لیکن یہ ایک کھلے راز کے طور پر زبان زد عام بھی رہتے ہیں۔ ان پہلوؤں کا سراغ لگانے کے لئے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ وزیر اعظم اور حکومتی نمائیندوں کی طرف سے ’ایک پیج‘ کی گردان، منتخب وزیر اعظم کے لئے نامز دیا سلیکٹڈ کی پھبتی، میڈیا کی ہر دوسری رپورٹ میں مقتدر حلقوں یا اسٹبلشمنٹ کا ذکر اور عام مباحث میں اس حقیقت کا اعتراف کہ ملکی معاملات اس وقت تک مناسب طریقے سے پایہ تکمیل نہیں پا سکتے جب تک عسکری حلقے ان کی مکمل طور سے تائد نہ کریں۔
یوں تو ملک میں فعال آئین بھی موجود ہے، قانون سازی کا ادارہ پارلیمنٹ بھی قائم دائم ہے اور آئین کے علاوہ حکومت کے ہر جائز و ناجائز اقدام پر نظر رکھنے کے لئے سپریم کورٹ بھی متحرک و مستعد ہے لیکن اس کے باوجود کچھ ہے جس کی پردہ داری بھی مقصود ہے لیکن اس کا اظہار بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔ ستم ظریفی یہ نہیں ہے کہ اس انتظام میں عسکری اداروں کو بالادست اور فیصلہ کن حیثیت حاصل ہوچکی ہے بلکہ المیہ یہ ہے کہ اس ماورائے آئین انتظام کو پاکستانی سیاست کا لازمہ قرار دیا جاچکا ہے۔ مثال کے طور پر کون سا پاکستانی دانشور یا تجزیہ نگار ہوگا جو اپنی گفتگو ایسے فقروں سے مکمل نہ کرے: تمام اداروں کو ایک پیج پر ہونا چاہئے۔ یا یہ کہ فوج کو قومی معاملات سے علیحدہ رکھ کر سیاست دانوں کو بے لگام نہیں چھوڑا جاسکتا۔ فوج کی مرضی کے بغیر ملکی سیاست میں کوئی قابل عمل فیصلہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ فلاں شخص کے اقتدار کے دن گنے جاچکے ہیں کیوں کہ درپردہ قوتوں نے اب حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔
ایسے فقروں کی جزئیات بیان کرنے کے لئے وزیر اعظم کی ’بگ باس‘ کے ساتھ تصاویر اور ان سے اخذ کئے جانے والے نتائج، شہباز شریف کے رابطوں سے لے کر چوہدری نثار علی خان کی مصروفیات یا شیخ رشید کے بیانات میں شامل ذو معنی فقروں پر استوار طویل مباحث اور رپورٹیں منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔ تصویر تو مکمل ہے لیکن احتیاط اور ’قومی مفاد‘ کا تقاضہ ہے کہ اسے بیک وقت پورا دیکھنے یا دکھانے کی کوشش نہ کی جائے کیوں کہ اس کی اجازت نہیں ہے۔ یہ معاملہ دراصل نصف النہار پر آئے ہوئے سورج کی مانند ہے۔ سب جانتے ہیں کہ موجود ہے، لیکن ہے کوئی جو تپتے جگمگاتے سورج سے آنکھیں چار کرسکے۔ اور کہہ سکے کہ ہاں میں نے سورج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا ہے تو اس میں عجب کیا ہے۔ معاملہ آسان ہے۔ آپ روشنی سے فائدہ اٹھائیں ، حدت کو محسوس کریں اور اپنے کام سے کام رکھیں۔ اس سے آپ کو غرض نہیں ہونی چاہئے کہ معاملات کون چلا رہا ہے، ایسا کیوں ہورہا ہے اور ماضی میں اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے اور اس ڈگر پر چلتے چلتے مستقبل کا منظر نامہ کیا ہوسکتا ہے۔ یہ سلوک کے وہ مراحل ہیں جن میں پائے شوق کو دراز ہونے کی اجازت نہیں ہے۔
کورونا کا عذاب کچھ اس انداز سے وارد ہؤا کہ پاکستانی سیاست کے افق کے نصف النہار پر آئے ہوئے سورج کی بھیانک سچائی پر ایک معصوم بچے کی نگاہ پڑگئی ہے اور وہ ہر کسی کا دامن تھام تھام کر صدا دے رہا ہے کہ یہ تو دہلتا انگارہ ہے۔ پوچھ رہا ہے کیا یہ جلا دے گا۔ کیا اسے ہاتھ لگایا جاسکتا ہے، کیا اسے ڈھانپا جاسکتا ہے۔ کوئی بزرگ یا عقل مند لاکھ بچے کے منہ پر ہاتھ رکھے لیکن بے لباس شہنشاہ کی سماعت تک اس بچے کی صدا مسلسل پہنچ رہی ہے۔ اپنے تخت کی شان اور تاج کی عظمت کو برقرار رکھنے کے لئے بادشاہ کو بچے کی آواز کو درگزر کرنا ہے اور درباریوں کی اس بات پر پورے یقین کا اظہار کرنا ہے کہ اس کا لباس فاخرہ قیمتی موتیوں سے آراستہ ہے، اس پر نہایت نفاست سے نقاشی کی گئی ہے اور آج تک کسی بادشاہ کو ایسی بیش قیمت پوشاک زیب تن کرنے کی توفیق نہیں ہوئی تھی۔ بادشاہ کی رعایا اس نایاب عبا میں ظل الہیٰ کو دیکھ کر خوشی سے پھولی نہیں سماتی اور دشمنوں کا کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ سچ مگر یہ ہے، درباریوں کا شور تاریخ کے پنوں میں گم ہوجاتا ہے لیکن بچے کی آواز پوری معصومیت اور سچائی کے ساتھ موجود رہتی ہے۔
فرق صرف یہ ہے کہ اپنے وقت کے شہنشاہ کے سامنے کوئی درباری بچے کی صداقت کی تائد کرنے کا حوصلہ نہیں کرتا۔ پاکستانی سیاست میں کورونا وائرس عریاں کو عریاں کہنے والا بچہ ثابت ہورہا ہے لیکن زمام اقتدار سنبھالے صاحب وصف کو یقین ہے کہ اس ایک بچے کے علاوہ سچائی کسی کے علم میں نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم پوری تمکنت سے قوم سے مخاطب ہوتے ہیں، چندہ کے چیک وصول کرنے کے فوٹو سیشن کرتے ہیں، صحافیوں سے مل کر ’فیک نیوز‘ کا راز فاش کرتے ہیں اور پوری شان سے بتاتے ہیں کہ اب صرف پاکستان ہی نہیں پوری دنیا کی قیادت عمران خان کی آواز پر کان دھرتی ہے۔ سند کے لئے ثابت قدم اور اسی حد تک وفا شعار شاہ محمود قریشی کا بیان پیش کیا جاتا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے اگرچہ ہر ملک کی معیشت کو اندیشے لاحق ہوگئے ہیں لیکن جب پاکستانی وزیر اعظم نے بتایا کہ امیر ملکوں کو غریب ملکوں کی حالت زار پر غور کرتے ہوئے ان کی مدد کرنی چاہئے تو جی ۔20 والوں نے بھیگی بلی بن کر اس بات کو تسلیم کرنے میں ہی عافیت سمجھی۔
اتنی کامیابیاں سمیٹنے والے کے اقتدار کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے اور نہ کسی میں ان کی قیادت کو للکارنے کا حوصلہ ہے۔ عمران خان میں ہزار کمزوریاں ہوں گی لیکن ان کے اس وصف سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ وہ دیانت دار ہیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ وہ سند یافتہ دیانت دار ہیں۔ کون سا ایسا لیڈر ہے جسے ایک چیف جسٹس نے ’صادق و امین‘ کے خطاب سے نوازا ہو اور دوسرے نے اس پر آمنا و صدقنا کہا ہو۔ عمران خان بجا طور سے دیانت دار کہلانے کے حقدار ہیں۔ اگر کسی ذاتی وصف کے کاپی رائیٹ کا کوئی طریقہ وضع کیا گیا ہوتا تو ’دیانت دار‘ کو عمران خان اپنے توصیفی نام کے طور پر پیٹنٹ کروا چکے ہوتے۔ ابھی حال ہی میں عدالت عظمیٰ نے ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران سوال اٹھایا کہ کابینہ میں نااہل اور بدعنوان بھرے ہیں اور اتنی بڑی کابینہ کی کیا ضرورت ہے۔ دس لوگ رکھیں اور کام کریں۔ اس پر اٹارنی جنرل کا جواب تھا کہ ’جناب والا یہ بھی تو دیکھیں وزیر اعظم ایماندار ہیں‘۔ چیف جسٹس کے پاس اس کی تصدیق کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ ان ہی کے عزت مآب پیش رو دشمنوں کی سب دلیلوں کے باوجود عمران خان کو پاکستانی تاریخ کا عدالت سے سند یافتہ دیانت دار سیاست دان قرار دے چکے تھے۔
اس دیانت کی چمک کچھ اس قدر زیادہ ہے کہ چیف جسٹس کو یہ پوچھتے بھی نہیں بن پڑی کہ کیا بدعنوانوں کے ٹولے کی قیادت کرنے والا بدستور دیانت دار کہلا سکتا ہے؟ یہ سوال اٹھانا دراصل وقت کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ ضرورت پڑنے پر اقامہ کی کوئی شق کسی وزیر اعظم پر بھاری پڑ سکتی ہے۔ کورونا وائرس کی معصومیت سے اٹھنے والے سیاسی طوفان میں دراصل یہی نکتہ واضح کرنے کی ضرورت تھی۔ لیکن مرد ناداں پر چونکہ کلام نرم و نازک بے اثر ہوتا ہے لہذا کراچی کے دو مولویوں کو ایک نہیں دو بار پریس کانفرنس کرکے واضح کرنا پڑا کہ میاں وزیر اعظم اپنے اقتدار کو اپنی خوبی نہیں خدا کا تحفہ سمجھو اور اس کی قدر کرو۔ قدر کرنے کا راستہ اللہ کے نزدیک اطاعت شعاری ہوتا ہے۔ ہوسکتا ہے وزیر اعظم نے گزشتہ روز مولانا طارق جمیل سے ملاقات میں یہی پوچھا ہو کہ انہوں نے کب گستاخی کی۔ وہ تو روز اوّل سے اطاعت ہی کو اپنا نصب العین سمجھتے آئے ہیں۔ لیکن ایسے کسی ’حاکم‘ کی اطاعت گزاری قابل قبول نہیں ہوتی جو الزامات کے وار اور نتائج کی ذمہ داری خود برداشت کرنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو اور کسی بچے کی نگاہ بادشاہ کی عریانی کا پردہ فاش کرنے کے لئے بلند ہورہی ہو۔
جمہوریت کی پیداوار عمران خان نے ہر اس شاخ کو قلم کرنے کی سعی کی ہے جس سے امید کا یہ پودا برگ و بار دے سکتا ہو۔ پارلیمنٹ کو غیر مؤثر کیا، اپوزیشن لیڈروں کی طرف سے غیر مشروط تعاون کی پیشکش کو ’چوروں سے بات چیت نہیں ہوسکتی‘ کہہ کر نظر انداز کیا، جس میڈیا کے کندھوں پر سوار ہوکر بنی گالہ سے وزیر اعظم ہاؤس تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے ، اس کے بال و پر قطع کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ انہوں نے مسلسل یہ سمجھا کہ انہوں نے بدعنوانی کا جو منتر پھونک کر اپنے مخالفین کو مطعون اور بے بس کیا ہے، اسی کا ورد انہیں ہر مشکل سے بچانے اور اقتدار پر سرفراز رکھنے کے لئے کافی ہوگا۔ تسبیح کے دانے تو گھومتے ہیں لیکن وظیفہ مکمل ہونے میں نہیں آتا۔ یہ وظیفہ تسبیح کے دانے گرانے کے علاوہ عمل کا تقاضہ بھی کرتا ہے۔ عمران خان بھول رہے ہیں کہ انہیں دو وجوہ کی بنیاد پر اقتدار عطا ہؤا تھا۔ الف) مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو غیر مؤثر کرنا ۔ ب) کچھ کرکے دکھانا۔
مستند دیانت دار وزیر اعظم یہ بھی بھول رہے ہیں کہ نواز شریف یا زرداری کو بے آبرو کرنے کے لئے ان کی زبان ہی استعمال کی گئی تھی۔ اس کا اہتمام تو وہیں سے ہؤا تھا جہاں سے گرم ہواؤں کا پیغام اب خان صاحب کو بھی بھیجا گیا ہے۔ ہمارے دیانت دار اور بہادر وزیر اعظم میں حوصلہ ہے تو پارلیمنٹ کا اجلاس بلائیں۔ بتائیں کہ اگر منتخب وزیر اعظم کو کام ہی کرنے نہ دیا جائے تو وہ کیا کرسکتا ہے؟ اسمبلیاں توڑنے کی دھمکیاں پلانٹ کروانے سے یہ صیاد زیر دام نہ آئے گا۔ اگر یہ نہ ہوسکے تو یہ جواب ارزاں کردیں کہ اگر یہ اقتدار کی ہوس نہیں ہے تو کیا ہے؟
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker