انسان کا دماغ ایک پوری کائنات ہے۔ ایک بہترین انسان وہ ہے جو اپنے دماغ کو انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کرے۔ ایک دماغ کا مثبت استعمال ایک پوری کائنات کو مثبت انداز میں چلانے کے مترادف ہے۔ لیکن منفی لہریں ہمارے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ لہریں ہمیں آگے بڑھنے سے روکتی ہیں۔ ایک مرحلہ ایسا بھی آتا ہے جب ہمارا دماغ منجمد ہو جاتا ہے۔ یہ حالت مینٹل بلاک کہلاتی ہے۔ مینٹل بلاک میں زندہ رہنا ایک بےحد مشکل کام ہے۔ یہاں آپ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک ذہنی اپاہج کی زندگی جینا ہے۔ اس حالت میں ہم نہ اپنے لیے کچھ کر سکتے ہیں نہ اوروں کے لیے۔ ہم خود پر اور معاشرے پر بوجھ بن جاتے ہیں۔ ہماری سماجی وقعت ختم ہو جاتی ہے۔ یوں یہ حالت ہمیں ذہنی اپاہج پن کی ان نامعلوم گہرائیوں میں لے جاتی ہے جہاں سے نکلنا ہمارے لیے ناممکن ہو جاتا ہے۔
مینٹل بلاک سے نکلنے کے لیے ہمیں اپنی انسٹنکٹس یا طبعی رجحانات پر انحصار کرنا چاہیے۔ ہمارے ریفلیکسز یا غیرارادی حرکات یہاں ہمارے ریسکیو کے لیے پہنچتی ہیں۔ مینٹل بلاک میں ہم فائٹ، فرائٹ اور فلائٹ کی کیفیت میں آ جاتے ہیں۔ ہمیں اپنی پیراشوٹ کھولنا پڑتی ہے کیونکہ ہم بلندیوں سے پستیوں کی طرف انتہائی تیزرفتاری سے گرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس صورتحال میں ہمارے تجربات بھی ہمارے کام آتے ہیں۔ ہماری یادداشت کے خلیے ہمارے لیے جان بچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ کیا آپ کو یاد ہے کہ جب پچھلی دفعہ آپ مینٹل بلاک سے گزرے تھے تو آپ نے اپنی جان کیسے بچائی تھی؟ جی ہاں۔ آپ بہتر ماحول کی طرف چلے گئے تھے۔
ہمارا ماحول ہماری دماغی صحت پر سب سے زیادہ اثرانداز ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہم جینیاتی طور پر دوسروں سے زیادہ حساس ہوں۔ لیکن پھر بھی ہم اپنے جینز کو باآسانی بدل نہیں سکتے۔ شاید مستقبل میں ایسے علاج میسر ہو جائیں جو ہمیں کچھ بےحس بنا سکیں تاکہ ہم اپنے ماحول کی سختیاں برداشت کر سکیں۔ لیکن فی الحال یہ ممکن نہیں ہے۔ ابھی ہمیں اپنا ماحول بدلنے پر ہی دھیان دینا ہو گا جو پچھلی بار بھی ہمارے لیے سود مند ثابت ہوا تھا۔
کیا مینٹل بلاک کی طرف آنے میں ہمارا اپنا کوئی کردار تھا؟ جی نہیں۔ لوگ یہ ثابت کریں گے۔ لیکن لوگ ہی تو ماحول ہیں۔ اور یہ ماحول ہی تو سازگار نہیں ہے۔ ہمارے مینٹل بلاک میں کردار ہمارا نہیں بلکہ لوگوں کا ہے۔ اس لیے خود پر الزام دھرنا بند کر دیں۔ ورنہ ذہنی اپاہج پن کی پستیوں کی طرف سفر تیز تر ہو جائے گا۔
کیا ہم موجودہ ماحول ہی کو اپنے لیے سازگار بنا سکتے ہیں؟ نہیں۔ یہ سعی لاحاصل ہے۔ اس کے لیے ہمیں مشورے دیے جائیں گے کہ خود کو بدل دیجیے۔ بقول جون ایلیا:
ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیں
شکریہ مشورت کا چلتے ہیں
یہ خودکشی کے مترادف ہو گا۔ یاد ہے پچھلی دفعہ جب آپ اپنا ماحول نہیں بدل پا رہے تھے تو کیسے ہر روز مر رہے تھے۔ یہ موت اذیت ناک ہو گی۔ اس سے بڑی اذیت اور کیا ہو گی کہ جب آپ طبعی موت مریں گے تو ذہنی طور پر آپ آپ نہیں ہوں گے۔ آپ اوہام کو مسترد کرتے ہیں اور حقیقتوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ یہی آپ کی حقیقت ہے۔ آپ اپنی حقیقت کو تسلیم کیجیے۔
دوسرا ماحول آپ کی حقیقت کو تسلیم کرتا ہے۔ وہ آپ ہی کی نہیں بلکہ ہر اس شخص کی حقیقت کو تسلیم کرتا ہے جو وجود رکھتا ہے۔ جی ہاں، وہ شخص بھی جو آپ کے موجودہ ماحول میں مشین کا ایک ناکارہ پرزہ ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ یہ بہت بڑی بات ہے۔ یہ ایک ناقابل یقین خوبی ہے۔ ایک ایسا ماحول اس کرہ ارض پر موجود ہے جو ہمیں ہماری خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ قبول کرتا ہے۔ جو ہمیں جج نہیں کرتا۔ جو ہم پر فتوے بازی نہیں کرتا۔ وہ ماحول جو ہماری بات سنتا ہے۔ جو ہمیں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ جو ہمارا خیال رکھتا ہے۔ جو قوانین کو ہمارے لیے استعمال کرتا ہے اور جو ہمیں قوانین کی بھینٹ نہیں چڑھاتا۔ جہاں ہمیں احتجاج کرنے کی آزادی ہے۔ جہاں صاحب اختیار خدا نہیں ہوتا بلکہ اپنے اختیار کے استعمال پر ہمیں جواب دہ ہوتا ہے۔ جہاں ہر جگہ ہماری اجازت درکار ہوتی ہے اور جہاں ہمیں ہر اس جگہ جانے کی اجازت ہوتی ہے جس کی ہمیں ضرورت ہو۔
فیس بک کمینٹ
#MentalBlockRecovery #BreakTheMentalBlock #MindHealing #MentalWellness #OvercomingMentalBlock #BrainFogRelief #ClarityOfMind #MentalHealthAwareness #FocusAndMotivation #RebootYourMind #ذہنی_رکاوٹ_سے_نجات #دماغی_صحت #ذہنی_بحالی #ذہنی_دباؤ_کا_حل #دماغی_وضاحت #یادداشت_کی_بہتری #ذہن_کو_تازہ_کریں #ذہنی_مسائل_کا_حل #حوصلہ_اور_توجہ #ذہنی_بلاک_ختم_کریں

