چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) ایک عظیم الشان منصوبہ ہے، جس کا آغاز 2015 میں 46 ارب ڈالر کی ابتدائی لاگت سے کیا گیا۔ وقت کے ساتھ یہ رقم بڑھ کر 62 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ یہ منصوبہ صرف سڑکوں اور بجلی گھروں کا نیٹ ورک نہیں بلکہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کا سب سے اہم ستون ہے، جو تین براعظموں کو جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ سی پیک کے ذریعے چین کو مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور خلیجی ریاستوں تک مختصر ترین زمینی راستہ فراہم ہونا ہے۔
اب تک سی پیک کے تحت 22 بڑے منصوبے مکمل ہو چکے ہیں جن میں موٹرویز، توانائی کے منصوبے، صنعتی زونز اور گوادر کی جزوی ترقی شامل ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کی رپورٹ کے مطابق 2023 تک 3000 کلومیٹر سے زائد سڑکیں تعمیر کی جا چکی ہیں جبکہ 8000 میگاواٹ کے بجلی منصوبے فعال ہو چکے ہیں جن میں حب پاور پلانٹ، پورٹ قاسم کول پلانٹ، ساہیوال کول پلانٹ، اور قراقرم ہائی وے کی توسیع شامل ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق جون 2024 تک پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر 9.4 ارب ڈالر تھے جبکہ صرف بیرونی قرضہ 130 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا تھا۔ پاکستان نے 2022 سے 2024 تک چین سے 9 ارب ڈالر سے زائد کے قرض کی تجدید یا رول اوور کروائی، جس سے پاکستان کے لیے قرضوں کا بوجھ مزید بڑھ گیا۔ چینی مالیاتی ادارے جیسے چین ڈیولپمنٹ بینک اور ایکسپورٹ-امپورٹ بینک آف چائنا، اب پاکستان کو قرض دینے سے پہلے سخت شرائط اور سیکیورٹی ضمانتیں مانگ رہے ہیں۔
سی پیک میں سرمایہ کاری کرنے والی 80 فیصد چینی کمپنیاں فنڈز کی تاخیر، زمین کے مسائل اور سیکیورٹی خدشات کی شکایت کر چکی ہیں۔ 2023 میں چینی سفارت خانے نے حکومت پاکستان کو آگاہ کیا کہ 17 منصوبے مکمل تعطل کا شکار ہیں۔ ان میں گوادر ایئرپورٹ، مغربی روٹ کے کچھ حصے، اور گوادر واٹر سپلائی اسکیم جیسے منصوبے شامل ہیں۔
گوادر بندرگاہ سی پیک کا مرکزی نکتہ ہے، جسے چین کا بحرِ ہند تک رسائی کا دروازہ کہا جاتا ہے۔ یہ بندرگاہ آبنائے ہرمز سے صرف 630 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جہاں سے دنیا کا 30 فیصد تیل گزرتا ہے۔ چین چاہتا ہے کہ گوادر کے ذریعے سنکیانگ کو عرب دنیا اور افریقہ سے جوڑا جائے تاکہ مالاکا اسٹریٹ پر انحصار کم ہو۔ مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ گوادر میں اب بھی روزانہ صرف 5 سے 10 کنٹینرز کی آمدورفت ہوتی ہے، جبکہ کراچی بندرگاہ پر یہ تعداد روزانہ 600 سے زائد ہے۔ گوادر کی مقامی آبادی کا 60 فیصد پینے کے صاف پانی، 70 فیصد بجلی اور 80 فیصد طبی سہولیات سے محروم ہے (بیورو آف سٹیٹسٹکس بلوچستان رپورٹ 2023)۔
سیکیورٹی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ 2019 سے 2024 تک بلوچستان میں چینی شہریوں اور کمپنیوں پر 18 سے زائد حملے ہو چکے ہیں جن میں کئی ہلاکتیں بھی ہوئیں۔ وزارتِ داخلہ کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق سی پیک سے وابستہ چینی شہریوں کو تحفظ دینے کے لیے 12,000 سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جا چکے ہیں، جس پر سالانہ 10 ارب روپے سے زائد خرچ آ رہا ہے۔
سی پیک صرف ایک اقتصادی منصوبہ نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اسٹریٹیجک رسہ کشی کا محور بھی بن چکا ہے۔ بھارت اسے اپنے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے کیونکہ یہ راہداری گلگت بلتستان سے گزرتی ہے، جسے بھارت متنازع علاقہ مانتا ہے۔ امریکہ نے بارہا چین کے "ڈیٹ ٹریپ” یعنی قرض کے جال کی پالیسی پر تنقید کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے 2022 میں کہا تھا کہ "ہم ترقی پذیر ممالک کو چین کے غیر شفاف قرضوں سے بچانا چاہتے ہیں”۔
ایسے میں امریکی صدر کی جانب سے حالیہ بیان کہ وہ جلد چین کا دورہ کریں گے، عالمی سفارتی حلقوں میں چہ میگوئیاں پیدا کر چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دورہ اگر مثبت رہتا ہے تو چین اور امریکہ کے درمیان تناؤ میں کمی آ سکتی ہے جس سے سی پیک پر پڑنے والا عالمی دباؤ کچھ کم ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ دورہ کشیدگی کو بڑھاتا ہے تو امریکہ پاکستان پر دباؤ ڈال سکتا ہے کہ وہ چین کے ساتھ اپنے اسٹریٹیجک تعلقات محدود کرے۔
عالمی اسٹریٹیجک تھنک ٹینک "کارنیگی انڈومنٹ” کے مطابق پاکستان اب اس مقام پر آ چکا ہے جہاں اسے دونوں سپر پاورز — چین اور امریکہ — کو بیک وقت خوش رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ایک طرف چین سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر لا رہا ہے، دوسری طرف امریکہ پاکستان کا سب سے بڑا برآمدی منڈی اور فوجی امداد دہندہ رہا ہے۔
سی پیک کی موجودہ سست روی کی بڑی وجہ پاکستان کا اندرونی نظام بھی ہے۔ نیشنل اکاؤنٹیبلیٹی بیورو، وزارت منصوبہ بندی، اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کے بیچ پالیسی تضادات اور کرپشن سے متعدد منصوبے تاخیر کا شکار ہوئے۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن انڈیکس 2024 میں پاکستان 180 میں سے 140ویں نمبر پر رہا۔ ایسے ماحول میں بیرونی سرمایہ کاری کا آنا معجزہ ہی کہلائے گا۔
اگر پاکستان سی پیک کو ایک زندہ حقیقت بنانا چاہتا ہے تو اسے مقامی سطح پر اعتماد سازی، ادارہ جاتی شفافیت، سیکیورٹی اور کاروباری آسانی کی فضا پیدا کرنی ہو گی۔ گوادر کو کراچی اور پورٹ قاسم کی طرز پر جدید بنانا ہوگا جہاں یومیہ سینکڑوں بحری جہاز لنگر انداز ہوں اور ایک مکمل ایکو سسٹم موجود ہو۔ لوکل کمیونٹی کو تعلیم، صحت، روزگار، اور انفراسٹرکچر کی سہولت دینا ہو گی تاکہ گوادر صرف ایک اسٹریٹیجک مقام نہیں بلکہ ایک فعال تجارتی بندرگاہ بنے۔
سی پیک اب فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ یا تو یہ پاکستان کی معاشی ترقی کی شاہراہ بنے گا، یا عالمی اسٹریٹیجک کشمکش کا شکار ہو کر ایک اور کھویا ہوا موقع ثابت ہو گا۔ فیصلہ پاکستان کے ہاتھ میں ہے ۔
فیس بک کمینٹ
#CPEC #CPECGeopolitics #StrategicConflicts #ChinaPakistanCorridor #CPECandGlobalPolitics #CPECUnderThreat #GeopoliticalTensions #ChinaIndiaConflict #USChinaRivalry #CPECGameChanger #سی_پیک #سی_پیک_اور_عالمی_تنازعات #سی_پیک_کی_جیو_پالیٹکس #عالمی_اسٹریٹجک_تنازعے #پاک_چین_راہداری #سی_پیک_کا_مستقبل #چین_امریکہ_چپقلش #بھارت_چین_کشیدگی #سی_پیک_گیم_چینجر #علاقائی_سلامتی_اور_سی_پیک تجزیہ

