واشنگٹن : پاکستان اور امریکا کے مابین تجارتی معاہدہ کامیابی سے طے پا گیا ہے، اس معاہدے کا مقصد دو طرفہ تجارت کا فروغ ، منڈی تک رسائی کو بڑھانا، سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 25 فیصد ٹیرف اور اضافی جرمانہ عائد کرنے کے اعلان کے بعد بھارت میں قائم 7 کمپنیوں پر بھی پابندی لگا دی ہے
وزارت خزانہ کے مطابق پاک امریکا تجارتی معاہدہ وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لوٹنک اور امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر سے ملاقات کے دوران ہوا ۔۔ ملاقات میں سیکرٹری کامرس جواد پال اور امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ بھی موجود تھے۔
اس معاہدے کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر اپنی پوسٹ کے ذریعے کیا تھا۔ وزارت خزانہ کے مطابق پاک امریکا معاہدے کے نتیجے میں باہمی ٹیرف خاص طور پر امریکا میں پاکستانی مصنوعات پر لگنے والے ٹیرف میں کمی آئے گی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان اہم اقتصادی شعبوں خاص طور پر توانائی، معدنیات، آئی ٹی، کرپٹو کرنسی اور دیگر میں اقتصادی تعاون کے ایک نئے دور کے آغاز کا باعث بنے گا۔
وزارت خزانہ کے مطابق یہ معاہدہ امریکا کے ساتھ پاکستان کے تجارتی تعلقات کو فروغ دینے خصوصاً ان تعلقات کو امریکی ریاستوں تک بڑھانے کے حوالے سے جاری کوششوں میں معاون ثابت ہوگا۔ وزارت خزانہ کے مطابق اس معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کی منڈیوں تک بہتر رسائی میسر آئے گی اور پاکستان کے بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی منصوبوں میں امریکی سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ تجارتی معاہدہ دونوں ممالک کی قیادت کی جانب سے دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور تجارت اور سرمایہ کاری روابط کو مضبوط بنانے کے لیے تمام کوششوں کو برؤے کار لانے کے عزم کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس سے پہلے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں اس ڈیل کا خیر مقدم کیا تھا۔ اسحاق ڈار نے کہاتھا کہ امریکا سے تجارتی ڈیل طے پاگئی ہے۔بی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 25 فیصد ٹیرف اور اضافی جرمانہ عائد کرنے کے اعلان کے بعد بھارت میں قائم 7 کمپنیوں پر بھی پابندی لگا دی۔
بی بی سی کے مطابق امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت میں قائم 7 کمپنیوں پر پابندیاں لگائی ہیں۔ پابندیوں کا شکارساتوں کمپنیاں ایران سےتیل کی تجارت کرتی ہیں۔ امریکا کا کہنا ہے کہ ایران تیل سے حاصل آمدنی کو مشرق وسطیٰ کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے اور اپنے عوام کا استحصال کرتا ہے۔ امریکا کے مطابق محکمہ خارجہ ایسی 20 کمپنیوں پر پابندی لگارہا ہےجو ایرانی پیٹرولیم، پیٹرولیم مصنوعات یا پیٹرو کیمیکل تجارت میں شریک ہیں اور 10 جہازوں کے خلاف بھی کارروائی کررہا ہے۔کہا جارہا ہے کہ ان 20 میں سے 7 کمپنیاں بھارت میں قائم ہیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر بھارت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس پر 25 فیصد ٹیرف اور اضافی جرمانہ عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بھارت امریکا کا اچھا دوست ہے لیکن ہم نے اس کے ساتھ بہت کم کاروبار کیا ہے کیونکہ بھارت کے ٹیرف بہت زیادہ ہیں اور اس کی طرف سے عائد کردہ غیر مالیاتی تجارتی رکاوٹیں سخت ترین اور ناقابلِ قبول ہیں۔
( بشکریہ : جیو نیوز )
فیس بک کمینٹ

