حسنین جمالکالملکھاری

پاتریا او میورتے : جمال گفت / حسنین جمال

پاتریا او میورتے؛ یہ دلفریب نعرہ فیڈل کاسترو کے قریبی ساتھی چی گویرا نے کیوبن انقلاب سے پہلے اقوام متحدہ کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے اینڈ پہ لگایا تھا۔ مطلب، اپنا ملک یا موت!
کیا آپ ایک ایسے ملک میں رہنا پسند کریں گے جہاں سے باہر جانے کے لیے بھی آپ کو ویزہ چاہئے ہو؟ یعنی آپ کا اپنا ملک پہلے آپ کو اجازت دے اور اس کے بعد آپ کسی دوسرے ملک جانے کا سوچیں؟ یا جہاں ایک چھوٹی سی آٹھ سو سی سی گاڑی تک خریدنا آپ کی زندگی کا سب سے بڑا اور ناممکن خواب ہو؟ جہاں ایک عام سا پلاسٹک کا ہیئر کلپ، ایک چھوٹا موٹا ٹوتھ برش یا ایک اچھا لکھنے والا بال پین تک آٹھ نو سو پاکستانی روپے میں ملتا ہو؟ جہاں گائے کا گوشت کھانا بندہ مارنے سے زیادہ بڑا جرم ہو اور اس گناہ عظیم پہ چھ سے دس برس تک کی سزا ہونے کا اندیشہ ہو؟ جہاں انٹرنیٹ صرف بڑے شہروں میں چار یا پانچ جگہ (میونسپلٹی پارکس میں) ملتا ہو؟ جہاں کیبل یا سیٹلائٹ ٹی وی کا تصور ہی نہ ہو؟ جہاں نئے فیشن کے کپڑے اور جوتے خریدنا تو دور کی بات، کسی بھی طرح کے کپڑے لتے ٹھیک سے بنا لینا ممکن نہ ہو؟ جہاں گھر تعمیر کرنے کو سیمنٹ، ریت، مٹی نہ ملتی ہو؟ جہاں آپ اپنے پیسوں سے ہوٹل کھولنا چاہیں تو وہ سرکار کی ملکیت قرار پائے اور آپ کا سٹیٹس ایک تنخواہ دار ملازم کا ہو؟ اور جہاں آپ کی بہترین تنخواہ پچاس ڈالر مہینہ ہو؟ یعنی آپ ایک سپیشلسٹ ڈاکٹر ہیں، بہت سینئر ہیں اور آپ کو حکومت پچاس ڈالر (چھ ہزار روپے) مہینہ دیتی ہو؟ اور اگر آپ ڈاکٹر نہیں ہیں تو آپ کو بیس سے تیس ڈالر پر منتھ ملے گا یعنی تین ہزار بتیس سو روپے۔ کیا خیال ہے؟ کون رہے گا؟ چاہے وہ اپنا ہی ملک ہو؟
یہ فیڈل کاسترو (اور چی گویرا) کا کیوبا ہے جس کی سربراہی بیمار ہونے پہ انہوں نے اپنے بھائی راول کاسترو کے حوالے کر دی تھی۔ وہی فیڈل کاسترو جن کی صاحبزادی تک امریکہ میں رہتی ہیں اور عرصہ پہلے کیوبا سے بھاگ گئی تھیں کیونکہ جس طرح ہمارے یہاں تھوڑا سا ریسورس فل ہوتے ہی لوگ دوسری شادی کا سوچتے ہیں، کیوبا والے ملک سے باہر بھاگنے کا سوچتے ہیں، اور وہ خوش قسمت ترین ہوتے ہیں جو واقعی میں بھاگ جاتے ہیں۔ کیوبا میں کوئی بھوکا نہیں مرتا کیونکہ کھانا آپ کو حکومت کی طرف سے کچھ کیسز میں مفت اور کچھ میں انتہائی سستا ملتا ہے‘ لیکن لمبی لمبی لائنوں میں لگ کے بعض اوقات موت ہو سکتی ہے۔ سوچیں صبح اٹھ کے دو ڈبل روٹی اور ایک انڈہ لینے کے لیے انسان لائن میں لگا ہو؟ یا مہینے کے پچیس انڈے، ایک کلو مرغی، ایک آدھ پاؤ گھی اور دس کلو چاول کا راشن سبسیڈائزڈ ریٹس پہ خریدنے کی خاطر کارڈ اٹھائے گھومتا ہو؟
کیوبا گانوں کی ویڈیوز میں ایک دم مست ملک لگتا ہے۔ جیسے وہ تھا ڈسپاسیٹو، یو ٹیوب پہ اب تک سب سے زیادہ دیکھا جانے والا گانا… یہ لمبی لمبی پرانی گاڑیاں، خوب چمکتی، لشکارے مارتی ہوئی، گندمی حسن کی بھرمار، پرانی لیکن نیلے، لال اور زرد پینٹ میں رنگی ہوئی عمارتیں، ہنستے گاتے بے فکرے لوگ… مگر ایسا نہیں ہے یار۔ اندازہ کریں کہ آپ ایک فارم ہاؤس کے مالک ہیں، آپ کی ذاتی ملکیت میں پچاس ساٹھ گائے بھینسیں ہیں لیکن آپ صرف ان کا دودھ استعمال کر سکتے ہیں، انہیں بیچ نہیں سکتے، انہیں ایکسپورٹ نہیں کر سکتے انہیں کھا بھی نہیں سکتے۔ کدھر جا کے سر ماریں گے؟ بڑی لمبی کہانی ہے، ان شارٹ یہ کہ انقلاب کے بعد 1960 میں کیوبن حکومت نے جب دیکھا کہ ہماری ایک قابل فخر ایکسپورٹ گائے ہے تو انہوں نے اس پہ تجربے شروع کر دئیے۔ وہ چاہتے تھے کہ گائے کی ایک اعلیٰ ترین نسل پیدا ہو۔ انہوں نے مختلف امپورٹڈ نسلوں سے لوکل گائے کا کراس کروایا اور جو رزلٹ آیا وہ ایسی گائے تھی جو کیوبا کا موسم برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ پہلے سے جو جانور موجود تھے ان بے چاروں کو خوراک کی کمی کا سامنا تھا کیونکہ ”انقلاب‘‘ ہر قابل ذکر چیز کی شارٹیج کا نام تھا۔ اس طرح دس پندرہ برس کے تجربوں اور ملک کی واحد انڈسٹری کا بیڑہ غرق کرنے کے بعد کیوبا میں 1979 کے بعد گائے ذبح کرنے یا بیف کھانے پہ پابندی لگی اور آج تک ہے۔ ہاں لائسنس یافتہ دکانوں پہ پچیس تیس ڈالر فی کلو کے حساب سے مل سکتا ہے جبکہ عام آدمی بیس ڈالر مہینہ سے زیادہ نہیں کما پاتا۔
ٹوتھ پیسٹ، عینک، گھڑی، ہیئرکلپ، بچوں کی چھوٹی موٹی سٹیشنری جیسی چیزیں تک کیوبا میں نہیں ملتیں۔ حکومت کے خیال میں یہ آئٹم غیر ضروری ہیں۔ یہ سب کچھ آپ کو بڑے سپر سٹورز سے ملے گا یا پھر کھیپیے میامی اور دوسری قریبی امریکی ریاستوں سے جو سمگل کرکے لائیں گے وہ سب مل جائے گا۔ کس مول ملے گا؟ آپ کی ایک مہینے کی تنخواہ میں تین کلپ مل سکتے ہیں جو خواتین بالوں میں لگا کے گھوم سکیں، یا ایک عینک خرید لیجیے یا پھر دو تین اچھی امپورٹڈ پین پینسلیں، اب سارا مہینہ ڈنڈے بجائیں اور حکومت کے گن گائیں جو راشن کارڈ پہ آپ کو بس اتنی خوراک دے گی جو آپ کے زندہ رہنے کی ضروریات کھینچ تان کے پورا کرتی ہو۔ یہی چکر ہے جو وہ لوگ بے چارے نئی (یعنی 1968 کے بعد والی) گاڑیاں بھی نہیں خرید سکتے۔ بیس تیس ڈالر کی باریک سی تنخواہ میں پچاسی ہزار ڈالر کی چھوٹی ترین گاڑی لینے کی سوچ بھی کیسے آئے گی؟ یہ جو بڑی امریکن گاڑیاں وہاں نظر آتی ہیں‘ یہ سب انقلاب سے پہلے کی ہیں اور ان کی ہیں جو خاندانی طور پہ ان گاڑیوں کے مالک تھے۔ 1956 کی شیورلے کے اندر 2008 کا رشین یا کورین ڈیزل انجن چلتے دیکھنا ہو تو کیوبا تشریف لے جائیے۔ ڈیزل وہاں پٹرول کی نسبت آدھے ریٹس پہ ملتا ہے۔ تو یہ کیوبا ہے بھائی جو باون سال باسٹھ دن حکومت کے بعد فیڈل کاسترو نے اپنے بھائی کے حوالے کیا۔
دو تین دن پہلے معلوم ہوا کہ فیڈل کاسترو کو نشانِ پاکستان دیا جائے گا۔ تین بار آنکھیں پھاڑ کے خبر پڑھی پھر انگریزی اخباروں میں ڈھونڈا، آخر یقین کرنا پڑا۔ شاید 2005 میں آنے والے زلزلے کے دوران کیوبن میڈیکل ایڈ کی وجہ سے ہم یہ اعزاز انہیں دیں گے یا پھر ہم روس اور چین والی تزویراتی گہرائی میں اس بار کیوبا کے ساتھ ڈوبنے جا رہے ہیں یا ہم دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ بدترین آمریت بہترین جمہوریت سے بہتر ہے، واٹ سو ایور، پلے نہیں پڑ رہا استاد کہ ہوا کیا ہے۔ اگر امریکی صدر ٹرمپ کو منہ چڑانا مقصود ہے تو یار اس سے بہتر بہت سے طریقے ہو سکتے تھے۔ خیر، جن کا یہ کام ہے وہ جانیں ان کا کام، فی الحال ایک ضروری بات ہو جائے۔
جب کشمیر میں زلزلہ آیا تو کیوبن میڈیکل ٹیم نے بے لوث مدد کی۔ سرکاری سطح پہ بھی اس کا اعتراف کیا گیا۔ پھر ہم اتنے متاثر ہوئے کہ ہم نے کیوبا والوں سے بات کرکے اپنے بچے ڈاکٹر بننے کے لیے ادھر بھیج دئیے۔ دو ارب ہم نے لگائے، آٹھ ارب کیوبن حکومت نے لگائے اور 932 بچے تین چار سال پہلے تیار ہو کے وہاں سے آ گئے۔ سپین، جرمنی، فرانس، لاطینی امریکہ اور بہت سے دوسرے ملک انہیں ڈاکٹر مانتے ہیں، ہم نہیں مانتے۔ جب پاکستانی بچوں کو ڈاکٹر بننے بھیجا گیا تھا تو باقاعدہ حکومتی پروگرام کے تحت میرٹ پہ سلیکشن ہوئی تھی، لیکن جب وہ واپس آئے تو زمین اپنی تھی نہ آسمان اپنا تھا۔ انہیں کہا گیا کہ نئے سرے سے پتہ نہیں کون کون سے ٹیسٹ دیں تو انہیں ڈاکٹر مانا جائے گا۔ تو جو ہجرت کر سکے وہ پانچ چھ سو بچے آج ولایت میں بہترین روزی کما رہے ہیں، جو ادھر ہیں وہ کوئی بھی ماڑی موٹی نوکری کرتے ہیں اور کام چلاتے ہیں۔ یہ 932 بچے بھی نشان پاکستان ہیں، آپ کے موسٹ اوبیڈیئنٹ سرونٹ ہیں سرکار، ان کے بارے میں کون سوچے گا؟
پوسٹ سکرپٹم؛ بھائی نے پچھلا کالم روسی صدر پیوٹن کے خلاف لکھنے کے لیے کسی پروپیگنڈے سے متاثر ہونے کی کوشش نہیں کی نہ ہی آنجہانی فیڈل کاسترو سے کوئی ذاتی دشمنی ہے۔ یہ سب وہ ہے جو آج بھی کتابوں میں موجود ہے۔ کیوبا والا سین تو کسی ایسے پاکستانی سے بھی کنفرم کیا جا سکتا ہے جس نے کیوبا کا چکر لگایا ہو، یا کسی ایسے کیوبن سے پوچھا جا سکتا ہے جو اپنے گھن چکر سے نکل کے امریکہ کینیڈا وغیرہ میں آن بسا ہو۔ مختلف ذرائع سے یہ معلومات ویریفائے کرنے کے بعد میرا آخری سورس ڈاکٹر شہزاد یار خان تھے جو انہی 932 ڈاکٹروں میں سے ایک ہیں۔ پاتریا او میورتے!
(بشکریہ:روزنامہ دنیا )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker