حسنین جمالکالملکھاری

تصویروں کا جادوئی چکر: جمال گفت / حسنین جمال

آپ اس طرح کریں کہ ایک ململ کا دوپٹہ لیں، اسے کسی کیکر کے درخت کا پھیرا دلوا لائیں، اس کا جو حشر ہو گا بس تصویر کچھ وہی کام کرتی ہے۔ دنیا میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ جو لفظ ابھی یہاں لکھے گئے وہ بھی کہیں کسی نہ کسی نے کہے ہوں گے، جو تصویریں کھنچتی ہیں ان میں بھی کوئی تازگی نہیں ہوتی، فرق صرف ایک ہوتا ہے۔ ہر بات کرنے والا کسی خاص پس منظر میں وہ بات کرتا ہے اور ہر تصویر کھینچنے والے کے پاس اس فوٹوگراف سے جڑی کچھ یادیں ہوتی ہیں۔ وہ اچھی ہوں یا بری، اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا، رولا ادھر پڑتا ہے جب دس پندرہ برس بعد ان تصویروں کو نکال کر دیکھا جائے۔ اب تو نکالنا بھی کیا ہے، پرانی ہارڈ ڈسک لگائیں، ساری تصویریں گوگل فوٹوز پہ چڑھائیں اور چوبیس گھنٹے ساری زندگی ایک البم کی صورت آپ کے سامنے ہو گی۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ تصویریں دیکھنے پہ خوشی سے زیادہ اداسی کیوں ہوتی ہے؟
تصویر بنانا‘ تصویر کھینچنا شاید اس لیے برا سمجھا جاتا تھا کہ تصویر انسان کا تعلق سیدھے سبھاؤ ماضی سے لے جا کر جوڑ دیتی ہے۔ آدمی چنگا بھلا اپنا دنیا میں بیٹھا ہو گا، کوئی برسوں پرانی تصویر سامنے آئے گی اور اگلا پورا دن اسی سے جڑے واقعات یاد کرنے میں کٹ جائے گا۔ آپ اس بات کو نہیں مانتے؟ بہت اچھی بات ہے، فی الحال ہمیں ایک دوسرے سے عدم اتفاق پہ متفق رہنا چاہئے لیکن… دس ایک سال کے بعد پوچھوں گا، بلکہ یار پوچھنا بھی کیا ہے، کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک، خود ہی یاد آ جائے گی استاد، ٹینشن ناٹ!
تصویر اپنا زمانہ اکثر خود بتا دیتی ہے۔ سب سے پرانی تصویریں ہمیں بلیک اینڈ وائٹ اور آؤٹ آف فوکس قسم کی نظر آتی ہیں۔ یا پھر وہ کچھ بھورے اور سفید سے رنگ ہوتے تھے جنہیں سیپیا کہا جاتا ہے۔ جو مرضی ہو جائے ایک بات ماننی پڑے گی کہ بلیک اینڈ وائٹ تصویر کی اپنی ایک کلاس ہے۔ رنگین تصویروں میں سو طرح کے رنگ اصل میں اس منظر سے توجہ ہٹا دیتے ہیں جو تصویر کھینچنے والا ہمیں دکھانا چاہ رہا ہوتا ہے۔ بلیک اینڈ وائٹ میں ایسا نہیں ہوتا۔ دو رنگوں والی تصویر میں چونکہ ادھر ادھر فالتو کچھ نہیں ہوتا اس لیے انسان پوری یکسوئی سے وہی کچھ دیکھتا ہے جو فوٹو گرافر اسے دکھانا چاہتا ہے۔ اسے ایک سادہ سی مثال سے سمجھتے ہیں۔ ایک خاتون مری میں کسی پہاڑ پہ کھڑی ہیں۔ تھوڑا سا چہرہ ترچھا کروا کے تصویر کچھ فاصلے سے کھینچی گئی ہے۔ اب آسمان کا رنگ، دھوپ کی چمک، پیچھے سبزہ، پہاڑ، شاید کچھ رنگ برنگے پھول، کوئی پرندہ، جو کچھ بھی آس پاس ہو گا وہ سب کا سب رنگین تصویر میں ویسا کا ویسا قید ہو جائے گا۔ آپ خاتون کے تیکھے نقوش بمشکل ہی دیکھ پائیں گے، دیکھتے وقت نظریں آس پاس کے خوبصورت منظر میں کھوئی رہیں گی۔ بلیک اینڈ وائٹ میں ایسا نہیں ہے۔ اس میں آسمان، پہاڑ، درخت، پرندے، پھول، گھاس سب کچھ کالے اور سفید کے درمیان ہو گا۔ اور وہ جو چہرہ ہے، تو نے دیکھی ہے وہ پیشانی وہ رخسار وہ ہونٹ، زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے، تو وہ چہرہ اپنے پورے تیکھے پن کے ساتھ آسمان اور پہاڑوں کو کاٹتا ہوا اس بلیک اینڈ وائٹ تصویر میں طلوع ہوتا نظر آئے گا۔
تصویر بلیک اینڈ وائٹ رہ جاتی تو بہت اچھا ہوتا۔ اس میں ایک ٹھہراؤ ہوتا ہے۔ وہ سالم بندہ ہمارے سامنے لا کے کھڑا نہیں کرتی۔ اس کا سفید اور کالا پن دیکھنے والے کو چیخ چیخ کے خبردار کرتا ہے کہ ہستی کے فریب میں مت آئیو بھائی، یہ جو نظر آتا ہے یہ عکس ہے، کسی گئے گزرے پرانے دن کا، اور چونکہ یہ دو رنگوں میں ہے اور چونکہ زندگی میں دو سے زیادہ رنگ ہوتے ہیں اس لیے اسے دیکھ کے زیادہ ہوکے نہ بھرو، سکون کرو۔ اس کے برعکس فل کلر تصویر ایک بیماری ہے۔ وہ کم بخت پوری تام جھام کے ساتھ کوئی بھی منظر ایسے دکھاتی ہے کہ انسان اس میں ڈوبنے پہ مجبور ہو جاتا ہے۔ کچھ بھی اور چھوڑیں، جو فقیر کی عمر کے لوگ ہیں، اسی کی دہائی میں پیدا ہونے والے، وہ صرف اپنے سکول یا کالج کی ایک آدھ تصویر سامنے رکھ کے بیٹھ جائیں، اک چراغ کیا جلا، سو چراغ جل گئے والا سین نہ ہو تو پیسے واپس۔
اسی کی دہائی میں بھی تصویروں کا ایک الگ ہی شیڈ ہوتا تھا۔ بھلے رنگین ہو گی لیکن اس میں پنک رنگ کا غلبہ ہو گا، سفیدی یا روشنی بلکہ جدید کیمروں کا نور جو آج کل ہماری کرسپ ڈیجیٹل تصویروں میں ہوتا ہے وہ اس وقت نہیں ہوتا تھا۔ خیر زمانہ سمٹتے سمٹتے تصویریں بھی یوں سمٹیں کہ اب نہ ریل کی ضرورت ہے، نہ چھتیس تصویروں کی لمٹ ہے، نہ تصویر دھلوانے کے خرچے ہیں، بس ایک انگوٹھے کی مار پہ سارا زمانہ موبائل والے کی قید میں ہے۔ ایک آپس کی بات بتاؤں؟ مجھے اپنا سکول والا ٹائم زہر لگتا تھا، اب بھی لگتا ہے۔ آج بھی پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میرا بہترین وقت، عمر کا بہترین حصہ، وہ سب منحوس سکول کے پھڈوں میں ضائع ہو گیا۔ ایک ٹینشن سی ٹینشن ہوتی تھی۔ ہوم ورک، کلاس ورک، سہ ماہی، ششماہی، سالانہ امتحان، مطلب کیا بکواس ہے یار، سارا سال حاضری لگانے اور مسلسل پڑھانے کے بعد امتحان بھی لیا جائے گا؟ اور اس کی بنیاد کیا ہو گی؟ آپ کتنے اچھے رٹو طوطے ہیں؟ حد ہے واللہ! لیکن اس سب کے باوجود، اگر اس زمانے کی کوئی تصویر سامنے آ جائے تو وہ بڑی اچھی لگتی ہے۔ اصل مسئلہ شاید یہ ہے کہ بندہ اپنے حال سے مطمئن نہیں ہوتا اور ماضی یا مستقبل جھانکتا پھرتا ہے۔ تو عقلمند لوگ شاید یہ بات پہلے ہی جانتے تھے۔ اسی لیے منع کر دیا کہ بابا نہ تصویر کھینچو نہ بناؤ کیونکہ اس میں مایوسی کے سوا کچھ نہیں رکھا۔
برسوں پہلے کسی لکھنے والے نے لکھا تھا: میں عزیزوں کے جنازے میں اس لیے نہیں جا سکتا کہ میں چاہتا ہوں‘ میری یادوں میں ان کا ہنستا مسکراتا دمکتا باتیں کرتا چہرہ رہے۔ اس وقت میں جتنا سمجھ پایا اس کے مطابق مجھے یہ فاضل مصنف کی ہڈ حرامی کا بہانہ لگا تھا‘ لیکن اب ایسا نہیں ہے باس! اب مجھے خود تصویریں سمجھاتی ہیں کہ وہ بندہ ٹھیک بات کہتا تھا۔ چہرے گزرتے وقت کے ساتھ مرجھاتے چلے جاتے ہیں، تصویریں تروتازہ رہتی ہیں اور یہ سب سے بڑی گڑبڑ ہے۔
آج پروگرام یہ تھا کہ پاکستان کے ماضی سے جڑی کچھ زمانہ ساز تصویریں دیکھی جائیں لیکن طبیعت پلٹا کھا گئی۔ مثلاً ایک تصویر ٹرکوں کے پیچھے نظر آیا کرتی تھی، ترے جانے کے بعد تیری یاد آئی والے کیپشن کے ساتھ، ایک تصویر سلامتی کونسل میں قرارداد پھاڑنے کی تھی، ایک تصویر کسی جیل میں پڑھے گئے لاوارث جنازے کی تھی، ایک تصویر ریڈیو پہ میرے عزیز ہم وطنو اور نوے دن کے انتخابات والی تھی، ایک تصویر لاہور شہر میں سروں کے سمندر اور شہید بی بی کی تھی، ایک تصویر جس کے وزن سے ہمارے کندھے آج بھی جھکے ہوئے ہیں وہ بانوے کا ورلڈ کپ اٹھانے والی تھی۔ پھر ایک تصویر مشرف صاحب کے مکے کی تھی۔ ایک تصویر اکبر بگٹی کی تھی۔ ایک اپنے زمانے کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کی تھی۔ ایک تصویر یوسف رضا گیلانی کی تھی۔ ایک تصویر ڈی چوک پہ خطاب کی تھی۔ ایک تصویر جی ٹی روڈ والے مجھے کیوں نکالا کی تھی۔ ایک تصویر میں شیخ رشید گاڑی پہ چڑھے سگار سلگا رہے تھے۔ ایک تصویر موجودہ وزیر اعظم کی تلاشی والی تھی۔ ایک داتا دربار والے دھرنے کی ہے وغیرہ وغیرہ۔
حقیقت اتنی سی ہے کہ یہ سب تصویریں ایک تھوڑی سی ترتیب اونچی نیچی کر کے بار بار اپنے آپ کو دہرائے جا رہی ہیں۔ چہرے ذرا سے بدلتے ہیں لیکن ان کے پیچھے فوٹوگرافر وہی ہیں جو ریٹائر ہوتے ہی کچھ ایسا لکھ مارتے ہیں جو انہیں ملک و قوم کا واحد نجات دہندہ ثابت کر دے۔ کیا تصویروں کے اس جادوئی چکر سے کبھی ہمیں نجات ملے گی؟ کیا کوئی پانچ سال ایسے بھی ہوں گے جن میں وزیر اعظم کی صرف ایک تصویر ٹانگنے کی عزت ہمارے ووٹوں کو دی جائے گی؟ کیا پاکستان بننے کے ستر کیا پچاسی سال بعد بھی الیکشنوں کی کوئی واضح تصویر ہمیں دکھائی دے گی جس میں ان کے ہونے سے پہلے ان کے نہ ہونے کا دھندلکا نہ ہو؟
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker