حسنین جمالکالملکھاری

کہانی ختم ہوئی اور ایسے ختم ہوئی : جمال گفت / حسنین جمال

سینیٹ کی چیئرمین شپ کے انتخابات بھرپور طریقے سے ہوئے۔ اتنی ڈھیر ساری مبارکیں دینی ہیں، سمجھ نہیں آتا کہاں سے بات شروع کی جائے۔ میر صادق سنجرانی اور سلیم مانڈوی والا کو جیت کی مبارک باد، قوم کو اس بات کی مبارک باد کہ رہا کھٹکا نہ چوری کا، اب عام انتخابات کی منزل قریب نظر آ رہی ہے۔ عمران خان کو سیاسی کریئر میں پہلی دفعہ قابل غور لچک دکھانے پہ مبارک باد، زرداری صاحب کو اپنے کہے کی لاج رکھ پانے کی مبارک باد اور میاں نواز شریف کو ان کے امیدوار کے ہار جانے کی مبارک باد۔ اس امیدوار کا جیت جانا اس کی ہار سے بڑا اَپ سیٹ ہوتا اور اس جیت کا بوجھ‘ شاید ن لیگ کے چت شانے اٹھانے سے معذور ہوتے، تو جو ہوا اچھا ہوا‘ یہ نہ ہوتا تو اچھا خاصا برا ہوتا۔ اب کم از کم ذمہ دار لوگ یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ پاکستانی سیاستدان اس قدر بے لچک نہیں ہیں جتنا ان کا اندازہ تھا۔
اس وقت ذہنوں میں بہت سارے سوال ہیں۔ سب سے پہلا سوال تو یہی ہے کہ اس ہار جیت کا اثر کیا عام انتخابات پہ بھی ہو گا۔ تو میرا جواب یہ ہے کہ اب الیکشن ایک کرافٹ بن کے سامنے آئیں گے۔ پہلے تو حلقہ بندیوں پہ واویلا شروع ہونے والا ہے، اس سے باہر نکلتے نکلتے نگران حکومت کا دور آ جائے گا، اس کا تصفیہ کرتے کرتے الیکشن سر پہ ہوں گے۔ ووٹر تک جو پارٹی جتنا پہنچ سکتی تھی‘ پہنچ گئی، ہوں گے، جلسے ہوں گے، رونقیں ہوں گی لیکن اب لوگوں کا دماغ تبدیل کر دینے کا وقت گزر چکا، اب جو کچھ بھی اپ سیٹ والا کام ہو گا وہ اس کرافٹ کے ذریعے ہو گا جس کی ایک جھلک ذمہ دار لوگوں کو آصف علی زرداری دکھا چکے ہیں۔ ہارنے والے جتنا مرضی واویلا کر لیں ایک بات طے ہے کہ سب کچھ آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے کیا گیا ہے۔ سیاست کی مہارت استعمال ہوئی ہے، جدھر گاجر کا معاملہ تھا ادھر وہ، جدھر سٹک والا سین تھا ادھر وہ لیکن تصویر جو نظر آتی ہے وہ ایسی فٹ بیٹھی ہے جیسے بنی ہی اس فریم کے لیے تھی۔ تمام صادق اور امین لوگوں کو ایک ہی لڑی میں پرو دینا، لاریب یہ سب سے بڑی کامیابی ہے اور سامنے اس جیت کے، دنیا کی ہر مہارت ثانوی ہے۔
اس سارے سیناریو میں ہمنوا اور آصف علی زرداری دو طرح سے فتح یاب ہوئے ہیں۔ بلوچستان میں جو حمایت حاصل ہوئی وہ تو سب کے سامنے ہے لیکن کرشنا کوہلی اور انور لال دین کو سینیٹ میں لانے سے پیپلز پارٹی کا جو سافٹ امیج بیرون پاکستان میڈیا میں بنا ہے وہ بہت شاندار ہے۔ وقت آنے پہ جس طرح یہ کیش ہو گا، اسے بھی پوری دنیا دیکھے گی۔ زرداری صاحب کا تیسرا قول زریں بھی بار بار دماغ میں آتا ہے کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ کوئی شک نہیں کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے جو عمران خان سے لے لیا گیا۔ اس سارے کھیل میں تحریک انصاف کو حاصل کیا ہوا یہ اگلے عام انتخابات میں سامنے آ جائے گا۔ کراچی کی نئی حلقہ بندیوں کے بعد اگر بالفرض کوئی تھوڑا بہت چانس بھی ان کو ووٹ ملنے کا تھا تو وہ نہ ہونے کے برابر رہ چکا ہے۔ ایم کیو ایم کے موجودہ قائد مرد بحران ثابت نہیں ہو سکے، سندھ کراچی سمیت اس مرتبہ آصف علی زرداری کی جھولی میں اس طرح موجود نظر آتا ہے جیسے عمران خان نے اپنے تیرہ سینیٹرز وزیراعلیٰ بلوچستان کے حوالے کیے تھے اور دو گھنٹے بعد جن کا حوالہ ایک کامیاب انتقال کی صورت میں آصف علی زرداری کے پاس تھا۔
بات پھر زرداری صاحب تک آئے گی، تھوڑا لمبا روٹ لیتے ہیں۔ ہمارے قریب ترین دوست چین، ترکی اور سعودی عرب ہیں۔ چینی صدر نے پچھلے دنوں اپنی تاحیات صدارت کے حق میں چینی پارلیمان کے اندر ووٹنگ کروائی، خدا کے فضل سے تین ہزار ارکان میں سے دو ایسے تھے جنہوں نے اس آئیڈیے کے خلاف ووٹ دیا‘ باقی دو ہزار نو سو چورانوے ووٹ چینی صدر کی تاحیات صدارت کے ووٹ میں تھے، تین ارکان اس دن ووٹ دینے آ نہ سکے اور باقی ایک ووٹ جو چینی صدر نے خود سب سے پہلے کاسٹ کیا وہ تو آف کورس ان کے اپنے حق میں تھا۔ تو کل ملا کے دو ہزار نو سو اٹھانوے ووٹوں نے انہیں ساری حیاتی کا صدر بھی بنا دیا اور وہ قائد ثانی بھی قرار پا چکے ہیں۔ چیئرمین ماؤ کے بعد چینی میڈیا انہیں مضبوط ترین صدر اور راہنما کا خطاب دے چکا ہے۔ ترکی میں بھی ایسی ہی ملی جلی سی جمہوریت ہے لیکن صدر اردوان فوج کی ایک بغاوت تک کو ناکام بنا چکے ہیں اور اس وقت بھی فل مضبوطی سے ڈٹے ہوئے ہیں۔ تیسرا دوست سعودی عرب ہے۔ وہاں بادشاہت ٹائپ کا سین تھا لیکن وہ لوگ آہستہ آہستہ جدید دنیا کی طرف قدم بڑھاتے نظر آ رہے ہیں۔ بلکہ اسے تیز تیز کہنا زیادہ بہتر ہو گا۔رہ گئے ہم تو آہستہ آہستہ دوستی مضبوط کرنے کے لیے ہم ان تینوں ملکوں کے سیاسی نظام سے غیر محسوس قرب حاصل کرتے جا رہے ہیں۔
تو ایسے کنٹرولڈ سیاسی حالات میں چینی صدر شی جن پنگ‘ ٹرکش صدر رجب طیب اردوان اور سعودی بادشاہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز میں سے کوئی ٹویٹر استعمال کرتا ہے؟ حالانکہ چینی صدر کے علاوہ باقی دونوں کے پاس سرٹیفائڈ نیلے بیج والا اکاؤنٹ ہے اور ہونا بھی چاہیے لیکن وہ لوگ اسے کتنا استعمال کرتے ہیں؟ کبھی ان کے حوالے سے کوئی سوشل میڈیائی خبر دکھائی دی؟ یہ سوال اس لیے پوچھنا بنتا ہے کہ اس کا داہنا ہاتھ خاک آلودہ ہو، تاریخ دان لکھے گا کہ پاکستان میں اہل سیاست نے جتنا نقصان ٹویٹری سیاست اور ایک دو تصویروں سے اٹھایا اتنا شاید اپنی کسی عملی پالیسی کے ذریعے بھی نہ اٹھایا ہو۔ بھائی کچا ترا مکان ہے کچھ تو خیال کر! ادھر لوکل سیاست میں کامرانی کا راست تناسب آپ کے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ساتھ ہے۔ جائیے! آصف علی زرداری کا ٹویٹر اکاؤنٹ دیکھیے، مجال ہے آج تک کسی ایشو میں قبولیت یا عدم قبولیت پہ ایک لفظ جو خود سے کہا ہو۔ جو بیان پی پی پی میڈیا سیل کا ہو گا بس سکون سے اسے ری ٹویٹ کر دیں گے، بانس رکھتے ہوئے بھی بانسری نہ بجانے کے فن میں کاملیت انہیں دبئی سے واپس آ کر ملی اور اس وقت وہ اس فن کے امام ہیں، کوئی شک؟
ایسے وقتوں میں جب دوسری پارٹیاں سوشل میڈیا کنونشنز کروا رہی تھیں‘ زرداری زمین پہ سیاسی جوڑ توڑ میں جتے ہوئے تھے۔ یہ جیت آصف علی زرداری کی جیت ہے۔ پورے سینیٹ میں آصف علی زرداری کے نعرے لگے، بھٹو کسی کو یاد آئے بھی تو اس لیے کہ بہرحال موجودہ پیپلز پارٹی ان کے سیاسی ورثے کی نام لیوا ہے۔ تحریک انصاف کی طرف سے کون سا نعرہ لگا؟ تحریک انصاف کے لیے کون سا نعرہ لگا؟ یہ ایسے اہم سوالات ہیں جو اس وقت پارٹی قیادت اور ایک عام ووٹر‘
سب کے سامنے منہ کھولے کھڑے ہیں اور شاید ایسے ہی کھڑے رہیں گے۔ تو جاتے جاتے ساری مبارک بادیں سمرائز کرتے ہوئے ایک بڑی سی مبارک باد سابق صدر آصف علی زرداری کے لیے رحمان فارس کے ایک شعر کے ساتھ؛
کہانی ختم ہوئی اور ایسے ختم ہوئی
کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے
بہت خوش آئند بات ہے کہ پاکستان کے تمام ادارے سیاسی عمل کامیاب بنانے اور اسے شفاف کرنے پہ کمر بستہ ہیں۔ سینیٹ الیکشن ایسی کامل شفافیت سے منعقد ہو جانا بھی اسی امر پہ دلیل ہے۔ خدا پاکستان کو ہمیشہ صاف، شفاف اور کامیاب الیکشن نصیب کرے۔
آئیے! ہم سب مل کے ٹی وی دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ اگر جیت واقعی پیپلز پارٹی کی ہوئی ہے تو ڈاکٹر قیوم سومرو سے کس بات کی ناراضی ہے؟
( بشکریہ : روزنامہ دنیا )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker