واشنگٹن : بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق فنڈ نے تین بلین ڈالر کے بیل آؤٹ کے پہلے جائزے پر پاکستان کے ساتھ عملے کی سطح پر معاہدہ کیا ہے، جس کی ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری کے بعد اسلام آباد کو 70 کروڑ ڈالر ملیں گے۔
جون میں آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے ساتھ ’معاشی استحکام کے پروگرام کی حمایت‘ کے لیے انتہائی ضروری نو ماہ کے اسٹینڈ بائی ارینجمینٹ (ایس بی اے) کی منظوری دی تھی، جس کی وجہ سے فوری طور پر اسلام آباد کو 1.2 ارب ڈالر موصول ہوئے تھے۔
آئی ایم ایف کے تکنیکی عملے نے 2 نومبر کو قلیل مدتی قرض کے معاہدے کا پہلا جائزہ شروع کیا تھا جو 10 نومبر کو ختم ہوا۔آئی ایم ایف کے مطابق ایس بی اے کے پہلے جائزے پر بات چیت کے لیے اس کے اہلکار نیتھن پورٹر کی قیادت میں ایک ٹیم اسلام آباد میں موجود تھی۔
نیتھن پورٹر کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا:
’آئی ایم ایف کی ٹیم نے آئی ایم ایف کے تین ارب ڈالر ایس بی اے کے تعاون سے اپنے استحکام پروگرام کے پہلے جائزے پر پاکستانی حکام کے ساتھ عملے کی سطح کا معاہدہ کیا ہے۔
’معاہدہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔ منظوری کے بعد تقریباً 70 کروڑ ڈالر دستیاب ہو جائیں گے اور پروگرام کے تحت کل تقسیم تقریباً 1.9 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔‘
انہوں نے کہا کہ مالی سال 2024 کے بجٹ پر ثابت قدمی سے عمل در آمد، توانائی کی قیمتوں میں مسلسل ایڈجسٹمنٹ، اور زرمبادلہ کی مارکیٹ میں نئے بہاؤ نے مالی اور بیرونی دباؤ کو کم کیا ہے۔
’آنے والے مہینوں میں مہنگائی میں کمی کی توقع ہے۔ تاہم پاکستان اہم بیرونی خطرات کے لیے حساس ہے، جن میں جغرافیائی سیاسی تناؤ کی شدت، اجناس کی دوبارہ بڑھنے والی قیمتیں، اور عالمی مالیاتی حالات میں مزید سختی شامل ہیں۔ لچک پیدا کرنے کی کوششوں کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔‘عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے کہا کہ پاکستان کا دورہ کرنے والا جائزہ مشن قرض کی آئندہ قسط کے اجرا کے معاہدے کے قریب ہے اور یہ ’کسی بھی دن ہو سکتا ہے۔‘
عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کا ایک وفد فنڈ کے اعلیٰ عہدیدار ناتھن پورٹر کی سربراہی میں دو نومبر سے پاکستان کے دورے پر ہے جہاں وہ نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر سمیت دیگر حکام سے ملاقاتوں میں پاکستان کے لیے تین ارب ڈالر کے سٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) کے پہلے جائزے پر تفصیلی بات چیت کر چکا ہے۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )
فیس بک کمینٹ

