تجزیےعمران عثمانیلکھاری

پی ایس ایل 2020 ; آج خالی سٹیڈیم میں فائنل کے ٹکٹ کنفرم ہوں گے

پاکستان سپر لیگ جب 2016 میں عرب امارات میں شروع ہوئی تو سب سے بڑا مسئلہ پرائے گراؤنڈز کا تھا اور اوپر سے خالی سیٹوں کا بهی،اگلے سیزن سے اسکی فائنل اور ناک آؤٹ اسٹیج سے لاہور اور کراچی اسلئے بھی منتقلی ہوئ کہ منہ چڑاتی خالی سیٹوں سے نجات ملے گی مگرکیا اتفاق ہے کہ اس سال پوری لیگ پاکستان میں ہوئی اور گراؤنڈز میں پاؤں رکھنے کی جگہ نہیں تھی اور جب ناک آؤٹ مرحلے کا وقت آیا تو لاہور جیسے شہر میں خالی سیٹوں کے ساتھ ناک آؤٹ اسٹیج سج رہا ہے.
ایک وقت تھا کہ یہ میچز اسٹیڈیمز کو بھرنے کی علامت تھے اور ایک وقت ہے کہ یہ مقابلے روٹین کے میچز سے بھی کم اہم ہوگئے اسکے باوجود پاکستان کرکٹ بورڈ ،حکومت پاکستان اور غیر ملکی پلیئرز وعملے نے ایونٹ کا دورانیہ 4 دن کم کرکے کسی نہ کسی طرح اسے تکمیل تک پہنچانے کی کامیاب کوشش کی ہے. 3 میچز اور 2دن کا کھیل باقی ہے.
17 مارچ کو دونوں سیمی فائنل ہیں. منگل دوپہر 2بجے ٹیبل کی نمبر ون سائیںڈ ملتان سلطانز کا مقابلہ چوتھے نمبر کی ٹیم پشاور زلمی سے ہوگا. ملتان پہلی مرتبہ پی ایس ایل تاریخ کا ناک آؤٹ میچ کھیلے گا جبکہ زلمی تو ایک مرتبہ کا چیمپئن بھی ہے.
ملتان نے ایونٹ میں آؤٹ کلاس پرفارمنس دی. 10 میں سے 6 میچز جیتے ،2 واش آؤٹ ہوئے اور 2 ہارے. 14 پوائنٹس کے ساتھ کم سے کم لیگ میچز کے اختتام تک حقیقی سلطان بنے.آخری میچ قلندر ز سے ہارے. شاید وجہ نئے کرکٹر ز کو موقع دینا بنی ہو. یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ سلطانز نے ٹیبل ٹاپ کیا لیکن بیٹنگ میں ٹاپ 5 ہائی مجموعی اسکورر میں انکا ایک بھی بلے باز نہیں ہے اور باؤلنگ کا حال بھی کچھ ایسا ہے کہ سہیل تنویر اور عمران طاہر 10،10 وکٹوں کے ساتھ مشترکہ طور پر زیادہ وکٹ لینے والوں میں چوتھے نمبر پر آتے ہیں .پھر ریلی روسوو اور جمیز ونس کی عدم دستیابی شاید اب بڑی کمزوری ثابت ہو. دوسری جانب 9 پوائنٹس لئے صرف نیٹ رن ریٹ میں بہتری کی بنیاد پر سیمی فائنل کھیلنے والی زلمی ٹیم تو زیادہ متاثر ہوئی ہے. ٹام بینٹن،لیا م لونگسٹن، لیوس گریگوری، کارلس بریتھویٹ اور لیا م ڈاسن سب کے سب ساتھ چھوڑ گئے. زمبابوے کے سکندر رضا آخری لمحات میں دستیاب ہوئے ہیں. بیٹنگ لائن خاصی کمزور ہوئی ہے .
دونوں سائیڈز بہترین دستیاب فورس کے ساتھ پنجہ آزمائی کریں گی.
پی ایس ایل 2020 کی 7 بہترین انفرادی اننگز میں سے 5 قذافی اسٹیڈیم میں بنی ہیں اسلئے بڑےاسکور کی توقع ہے. موسم خوشگوار رہنے کی پیش گوئی ہے. اس سیزن میں قذافی اسٹیڈیم میں سلطانز 3 میں سے ایک میچ قلندرز کیخلاف جیت سکے جبکہ ایک میچ بارش کی نذر ہوا. دوسری جانب زلمی یہاں صرف ایک میچ گلیڈی ایٹرز کیخلاف ہارے.
لیگ کے دونوں میچ ملتان کے نام رہے. زلمی کو ملتان اسٹیڈیم میں 6 وکٹ اور کراچی میں 3 رنز سے ہرایا. زلمی کی اس آخری میچ میں شکست نہایت عجب اور ناقابل یقین تھی.
ٹاس جیتنے والی ٹیم پہلے فیلڈنگ کو ترجیح دے سکتی ہے. ٹاس کا سکہ زلمی اور میچ کامران اکمل اور حیدر علی کے بیٹ کی زینت بن سکتا ہے، فیورٹ ملتان ہے. زلمی کی ٹیم و پلاننگ اس آخری شو سے یکسر مختلف دکھائی دے گی جس میں اس نے سلطانز سے 3 رن کی شکست گلے لگائی تھی.
*دوسرا سیمی فائنل ،کراچی کنگز بمقابلہ لاہور قلندرز*
چند دن قبل نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کنگز نے قلندر کو پچھاڑا تھا. یہ اعتماد اسے اس میچ میں مدد دے گا. پاکستان کے 2 بڑے شہروں و روایتی حریفوں کے درمیان پی ایس ایل تاریخ کا یہ بڑا اور سنسنی خیز شو ہوگا دونوں ٹیمیں پہلی مرتبہ پلے آف (سیمی فائنل )کھیل رہی ہیں.
قذافی اسٹیڈیم کے خالی گراؤنڈ میں ہونے والا یہ شو شاید دنیا بھر میں سب سے زیادہ تعداد میں اسلئے بھی دیکھاجائے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے عالمی سطح پر گھر میں قید رہنے کا ماحول ہے ایسے میں کرکٹ شائقین اسے دیکھنا مس نہیں کریں گے. آخری 7 میچز میں سے 5 میں فتح اپنے نام کرنے والی قلندرز ٹیم میں بین ڈنک اعتماد کے ساتھ موجود ہیں. فخر زمان آخری 3 میں سے 2 اننگز میں نصف سنچریز بناکر فارم بحال کرچکے ہیں .آخری اننگ میں سنچری کرنے والے کرس لین اور ان کے ساتھ ڈیو ڈ وائز دونوں کی خدمات قلندرز کو حاصل نہیں ہونگی. 1000پی ایس ایل رنز کی تکمیل سے 93 رنز کی دوری پر موجود محمد حفیظ،15 رنز کے فاصلے پر فخر زمان اور باؤلنگ میں اس ایونٹ کے ٹاپ وکٹ ٹیکر محمد حسنین (کوئٹہ)سے 3 وکٹ کے فاصلے پر رواں شاہین آفریدی کی میچ وننگ پرفارمنس فیورٹ کنگز کو میدان بدر کرسکتی ہے .
دوسری طرف بابر اعظم کی کلاسیکل بیٹنگ،شرجیل کی طوفانی بلے بازی اور کیمرون ڈلپورٹ، عماد وسیم اور کیڈوک والٹن بیٹنگ میں حریف سائیڈ کے مقابلے میں اچھی اسٹرینتھ رکھتے ہیں. محمد عامر اور کرس جارڈن ابتدائی اور ڈیٹھ اوورز پر عبور رکھتے ہیں .قلندرز کے دستے میں آنے والے نئے پلیئرز عابد علی اور آغا سلمان دباؤ سے بھر پور میچ میں شاید نارمل ہوں.
ٹاس جیتنے والی سائیڈ فیلڈنگ کو ترجیح دے گی.اسٹرینتھ اور پلیئرز کے قد کاٹھ کے حساب سے کراچی کو برتری حاصل ہے.
مگر یاد رکھیں اس ایونٹ میں دونوں نے جو ایک ایک میچ اپنے ہوم گراؤنڈ میں کھیلا تو حشر ایک دوسرے کا ایک جیسا کیا.قذافی اسٹیڈیم میں قلندرز نے کنگز کے 187 کے جواب میں صرف 2 وکٹ پر ہدف حاصل کیا تو نیشنل اسٹیڈیم میں کنگز نے قلندرز کو 150 کے جواب میں 10 وکٹ کی مار دی تو سیمی فائنل لاہور میں ہے. کنگز اس تاریخ کو بدل سکیں گے؟
فیورٹ کراچی مگر کیا قلندرز فائنل سے دوری پر ہیں ؟
فائنل : کنگز اور سلطانز میں بادشاہت کی جنگ کا عنوان بھلا لگتا ہے لیکن معاملہ اتنا سادہ بھی نہیں ہے .پلے آف سے سیمی فائنل کی طرف جانے سے معاملات بھی خاصے تبدیل ہوئے ہیں اور زلمی کے کپتان وہاب ریاض معاملہ فہمی میں تیز بھی ہیں اور تجربہ کار بھی. دوسری جانب پلے آف کی جگہ سیمی فائنل کے ہونے کا اگر صحیح نقصان کسی کا ہوا تو وہ قلندرز کا ہوگا.
( رپورٹ : عمران عثمانی )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker