انگلینڈ کرکٹ حکام کو اب یہ یقین ہونے لگا ہے کہ انکا ڈومیسٹک کرکٹ سیزن اس سال بری طرح متاثر ہوگا. اسلئے اب اسکے ممکنہ بچاؤ کی کاوشیں چھوڑ کر اس تگ ود و میں لگ گئے ہیں کہ کسی طرح خسارے سے بچا جائے اور اسکے لئے ابتدائی با چیت جمعہ تک مکمل ہوگئ ہے.
آگے بڑھنے سے قبل ہم یہ بتاتے جائیں کہ کائونٹی سیزن جو 12 اپریل سے شروع ہونا تھا وہ 28 مئی تک پہلے ہی موخر کیا جاچکا ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ فرسٹ کلاس اور دیگر ایونٹس کے میچ کم ہونگے لیکن ان پر بھی 2 وجہ سے دباؤ ہوگا. ایک تو انگلینڈ کی انٹرنیشنل سیریز کی مصروفیات اور دوسرا کورونا کی وجہ سے حالات درست نہ ہونے کا ڈر. چنانچہ انٹر نیشنل کرکٹ کے بچائو کیلئے اگر حالات تھوڑے بھی بہتر ہوئے تو اسکی پلاننگ کی جا چکی ہے. کرکٹ میچ خالی گراؤنڈ میں ہونگے اور یا پھر محدود تعداد میں تماشائی کورونا ٹیسٹ پوائنٹ کی سکیننگ کے عمل سے گزار کر لائے جائیں گے اور یہ پوائنٹ ہر مقام پر بنائے جائیں گے.
جہاں تک کاؤنٹی کرکٹ کا تعلق ہے اسکے لئے سخت پلاننگ ٹیبل پر ہے. پہلی بات یہ کہ تمام غیر ملکی پلیئرز کے معاہدے ختم کرکے انکی رقم بچالی جائے اس سے ہر کاؤنٹی کو ایک سے 2 لاکھ پاؤنڈز کی بچت ہوگی اور ساتھ ہی مقامی کرکٹرز کے معاوضے کٹ کرکے نصف کردیئے جائیں گے.
دوسری بات 100 بالز کا ایونٹ ایک سال کیلئے ملتوی کرکے اس سے 40 ملین پاؤنڈز کی بچت ہوگی. براڈ کاسٹرز سے چونکہ 5سالہ معاہدہ ہے تو یہ اگلے سیزن میں جمع تفریق کرلیا جائے گا .
کرکٹرز ایسوسی ایشن کے حکام نے بھی بورڈ کو تعاون کی یقین دہانی کروادی ہے. انگلش بورڈ اگلے ہفتے 18 کائونٹیز کو مشکلات سے نکلنے کیلئے ایمرجنسی فنڈز بھی جاری کرےگا. پاکستان کے بابر اعظم سمیت درجنوں غیر ملکی پلیئرز اس سال کائونٹی کرکٹ نہیں کھیل سکیں گے.
فیس بک کمینٹ

