سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ویڈیو بیان جاری کیا ہے۔
اپنے بیان میں عمران خان کا کہنا تھاکہ میں آپ کی جنگ لڑ رہا ہوں، مجھے کچھ ہوجاتا ہے یا جیل چلا جاتا ہوں تو آپ نے جدوجہد جاری رکھنی ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ پولیس مجھے گرفتار کرنے آئی ہے، ان کا یہ خیال ہے میں جیل چلا جاؤں تو قوم سوجائے گی، آپ نے اپنے حقوق اور حقیقی آزادی کیلئے باہر نکلنا ہے، میں نے اپنی ساری زندگی یہ جنگ لڑی ہے اور لڑتا رہوں گا۔
انہوں نے کہا کہ آپ نے ثابت کرنا ہے کہ عمران خان کے بغیر بھی قوم جدوجہد کرے گی۔
خیال رہے کہ عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونےکے بعد اسلام آباد پولیس کی ٹیم لاہور پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ زمان پارک پر موجود ہے جہاں اسے پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہے۔
دریں اثناء چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونےکے بعد اسلام آباد پولیس کی ٹیم لاہور پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ زمان پارک پر موجود ہے جہاں اسے پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہے۔
پولیس کی جانب سے عمران خان کی رہائش گاہ کی جانب پیش قدمی پر اسے پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکنان کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔
جواب میں پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کیا گیا اور آنسو گیس کی شیلنگ کے ساتھ واٹر کینن کا استعمال کیا جارہا ہے، پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے بھی پولیس پر پتھراؤ کیا جارہا ہے۔
پولیس کی بکتربندگاڑی بھی زمان پارک پر موجود ہے، ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد شہزاد بخاری بھی عمران خان کی گرفتاری کے لیے زمان پارک میں موجود ہیں اور اسلام آباد پولیس کی قیادت کر رہے ہیں۔
ایک پولیس اہلکار نے اپنے ہاتھ میں نوٹس کی کاپی والا پلے کارڈ بھی اٹھا رکھا ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ شہرکے تمام تھانوں میں نفریاں اکٹھی کی گئی ہیں، اینٹی رائٹ یونٹ کو آنسو گیس کے شیل بھی فراہم کیےگئے ہیں، ایک ہزار سے زائد نفری کو الرٹ رہنےکا حکم دیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد شہزاد بخاری کا کہنا تھا کہ ان کے پاس عمران خان کے وارنٹ گرفتاری موجود ہیں جس کی تعمیل کے لیے زمان پارک آئے ہیں۔
ایک صحافی نے سوال کیا کہ آپ عمران خان کو گرفتار کرکےکہاں لے جائیں گے؟ اس پر ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہوجانے دیں پھر آپ کو بتاتے رہیں گے۔
دوسری جانب رہنما پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب نے میڈیا سے گفتگو میں اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ عدالت عمران خان کے خلاف اس وارنٹ کو بھی معطل کردے گی، عمران خان کی سکیورٹی کی درخواست بھی زیرالتو ہے، عمران خان کی جان کو خطرہ ہے، عمران خان کی سکیورٹی کے حوالے سے درخواست مختلف عدالتوں میں زیرالتو اہے۔
فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ میں نہیں سمجھتا کہ پولیس کو کسی قسم کا بھی انتہائی اقدام لینا چاہیے، عمران خان کو ایسےحالات میں نہیں ڈالنا چاہتے جہاں ان پردوبارہ حملہ ہو، پولیس اگرکوئی نوٹس لائی ہے تو دے دے، ہم جائزہ لے لیں گے، ہم اسی نوٹس کو آج عدالت میں چیلنج بھی کر رہے ہیں۔
تحریک انصاف کے رہنما حسان نیازی نے میڈیا سےگفتگو میں کہا کہ ہم وارنٹ وصول کریں گے اور ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے، ہمیں پولیس پر یقین نہیں، کارکنوں کو لگتا ہےکہ عمران خان کوقتل کرنےکی سازش کے ساتھ آئے ہیں، میں نے پولیس کو بتایا ہے کہ یہاں کارکن جمع ہیں،کارکنوں کو ظل شاہ کے قتل کے بعد غصہ ہے، پولیس کو کہا ہے کہ عمران خان کی دستیابی دیکھتا ہوں، اگر وہ گھر ہیں تو بتاتا ہوں۔
خیال رہے کہ خاتون جج کو دھمکانے اور توشہ خانہ کیس میں عدم پیشی پر اسلام آباد کی دو عدالتوں نےگزشتہ روز عمران خان کے علیحدہ علیحدہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
عمران خان گزشتہ روز طلبی کے باوجود سکیورٹی خدشات پر عدالت پیش نہ ہوئے تاہم انہوں نےلاہور میں پی ٹی آئی ریلی کی قیادت کی۔
آج اسلام آباد کی عدالت نے خاتون جج کو دھمکی دینے کے کیس میں جاری عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری 16 مارچ تک معطل کردیے۔
ایڈیشنل سیشن جج فیضان حیدر گیلانی نے پولیس کو 16 مارچ تک عمران خان کو گرفتار کرنے سے روکتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کردیے اور سماعت 16 مارچ تک ملتوی کر دی جب کہ توشہ خانہ کیس میں ان کا وارنٹ برقرار ہے۔
(بشکریہ: جیو نیوز)
فیس بک کمینٹ

