اِمسال بھی 14 اگست مِلی جوش و جذبہ سے منایا جائے گا۔ 14 اگست کو فاقہ کَش عوام کے چھوٹے چھوٹے بچے، اپنے ننھے مُنے ہاتھوں سے بڑے بڑے باجے بیچیں گے اور ریزگاری جیب میں ڈالنے سے پہلے اپنی آ نکھوں کے کونوں سے چِپکی پیِپ اپنی پھٹی ہوُئی آستینوں سے صاف کریں گے۔ بیروزگار جو پِچھلے چند دِنوں سے فُٹ پاتھوں پر جھنڈیاں بیچ رہے تھے، اُمیِد میں ہیں کہ آج اُن کی مائیں شائد اُن کو کُچھ بہتر کھانے کو دیں۔ سال میں ایک وقت کا اچھا کھانا مِل جائے، اور فاقہ کَشوں کے لیے اِس بڑی آزادی اور بھلا ہو بھی کیا سکتی ہے ؟
ہمارے نوجوان درسگاہوں میں جو نِصاب پڑھ کر جیسی تعلیم و تہذیب حاصل کر چُکے ہیں یا یوں کہہ لیجے کہ جو تہذیب انہوں نے ہماری نسل سے ورثہ میں پائی اُس کے تحت موٹر سائیکلوں کے سائلنسر نکال کر پہلے سے ہی تیّار ہو چُکے ہیں۔ اِس قافلہء آذای کی قیادت وہ نوجوان کریں گے جو وَن ویِلیِنگ میں مہارتِ تامہ اور یدِ طوُلیٰ رکھتے ہیں۔
14 اگست کو اُن کو آز ادی ہو گی کہ ڈولفن فورس والے انہیں بندوُق کا بٹ مار کر گِرائیں گے نہیں بلکہ پاکِستان ز ندہ باد کے نعرے بلند کریں گے۔ اور وہ تہذیب یافتہ نوجوان جو ذرا کم تر ہیں، وہ محض اُن گاڑیوں کے اندر پٹخاے پھینک کر جشنِ آز ادی منائیں گے، جِن میں خواتین سوار ہوں گی ۔ دیہی علاقوں کے فاقہ کَش نمبردار کے ڈیرے پر برقی قُقمے لگائیں گے، اُسے جھنڈیوں سے سجائیں گے اور گھر جاتے ہی روٹی پر ٹوُٹ پڑیں گے اور جھُلنگا ہوئی منجیوں پر سو جائیں گے کہ اگلے دِن اُنہیں چوہدری صاحب کے آز ادی کے جلسے پر کُرسیاں بھی ڈھونی ہیں، تمبوُ قناتیں بھی لگانی ہیں، کچے فرش پر چھِڑکاؤ بھی کرنا ہے۔ بہت سے کام ہیں مگر اِطمینان ہے کہ اُنہیں عو ضانے میں ایک شاپر نمکین چاولوں کا مِل ہی جائے گا۔ کاش گھر جا کے اُن کی بیویاں پھِر سے کپّت نہ شُروع کردیں ۔۔۔
’’تینوُں آز ادی دی پئی اے، بجلی دا بِل کونڑ تارے گا، بِل تار دِتا تے آٹا کِتھوں لیاویں گا، بچیاں دے سکوُل دی فیس تیرے تو دِتی نئیں جاندی تے لگا ایں آجادی (آز ادی) منان۔ اُتوں تیری بے بے ساری رات کھنگدی رہندی اے، میرا نئیں تے اوہدے عَلاج دا ای کُش سوچ لے‘‘۔
ایک ضِمنی مگر دَلچسپ قِصہ ہے۔ میری ایک امریکن سٹوڈنٹ نے مُجھ سے کہا ۔۔۔ مُکالمہ پیشِ خِدمت ہے ۔۔۔
.Professor, I won’t be having my classes tomorrow
?Why
.It’s the 4th of July
?”I said, "Alright. But what happened on the 4th of July
.And the reply was really interesting
.She said, "My father bought me a Lego Mr. America, and my mother baked pan cakes for me
میں مُسکرایا تو مگر مُجھے اُس کی بات ہرگِز مزاحیہ نہیں لگی بلکہ دانِش اورسچائی سے بھرپوُر لگی۔ ہمارے ہاں بھی آز ادی کا مفہوُم کون جانتا ہے؟ کیا یہ فاقہ کَش بچے، یہ تعلیم یافتہ اور مُہذِب نوجوان یا یہ غُربت کی چکی میں صدیوں سے پِس رہے کِسان؟؟؟
شائد، مقتدر طبقات کے لوگ جانتے ہوں جو جم خانوں میں، فائیو اسٹار ہوٹلوں میں، وزیرِ اعلیٰ اور وزیرِ اعظم ہاؤس یا پھِر صدارتی محلوں میں پوُرے ملی جوش و جذبے کے ساتھ جشنِ آزادی مناتے ہیں۔ ہاں، شائد وہ ٹی وی چینلز والے جانتے ہوں جو انٹرٹینمںٹ میں مِلی نغمے گھول کر ناظرین کو چُسکی چُسکی پِلاتے ہیں۔
یہ کیوں نہیں بتاتے کہ تقسیمِ ہِندُوستان کے نتیجہ میں جو ہِجرت ہوئی کِس قدر پُر آشوب تھی؟ سیرل ریڈکلف کی کھینچی ہوئی خون کی لکیر میں جو مُلک مِلا اُس کے مشرقی اور مغربی حِصے میں 2200 کلومیٹرز کا فاصلہ تھا۔ پیداوار، ذرائع پیداوار، پیداوار کے آلات، زبان، ثقافت سب کُچھ مُختلف تھیں اور پھِر علیحدگی کا منطقی نتیجہ!
یہ کیوں نہیں بتایا جاتا کہ گورنر جنرل روُل آز ادی نہیں بلکہ بھیک میں مِلی ہوُئی مُٹھی بھر جاگیرداروں اور رئیسوں کی حکومت تھی، کیونکہ گورنر جنرل کو تاجِ برطانیہ Appoint کرتا تھا۔ آز اد پاکستان جِسے ایک عرصے تک گورنمنٹ آف اِنڈیا ایکٹ 1934 کے تحت چلایا جاتا رہا۔
آز ادی؟؟؟ پاکستان تو اُسی دِن تقسیم ہو گیا تھا، جِس دن جوگندر ناتھ منڈل نے لیاقت علی خان کو استعفعیٰ دیا تھا۔ اُس دِن جشنِ آزادی منایا جانا چاہیئے تھا جب قائدِ اعظم کی پہلی برسی پر تقریر کرتے ہوئے ’قائدِ مِلّت نوابزادہ لیاقت علی خان‘ نے مشرقی پاکستان کے قائدین کے لیے یہ کہا تھا کہ ’’یہ وہ کُتے ہیں جِنہیں دُشمن نے ہم پر بھونکنے کے لیے چھوڑ دیا‘‘۔ یا پھر اُس دن جب قائدِ مِلّت نے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1934 میں ترمیم کر کے PRODA یعنی The Public And Representative Office Disqualification Act لاگو کر کے بہت سے سیاستدانوں کو برطرف کر دیا تھا۔
ہمارا تو تعلیمی نِصاب بھی اِس قدرآزاد ہے کہ پاکستان کے پہلے وزیرِ قانون جوگندر ناتھ منڈل، جوشوا فضل دین، دیوان بہادر ایس پی سِنگھا اور سی ای گبنز کا نِصاب میں کوئی تذکرہ ہی نہیں۔ قائدِ اعظم کی 11 اگست 1947 کی تقریر کہاں گئی؟ کِس نے اِسے سنسر کیا اور سنسر کرنے والا بعد ازاں مُتحدہ پاکستان کا وزیرِاعظم کیونکر بن گیا؟ شائد یہ تاریخ (DATE) کی غلطی ہے۔ جب سِیٹو اور سنٹو پیکٹ پر دستخط کرنے کے بعد پاکستان ایک خود مُختار ریاست کی بجائے امریکہ کا بغل بچہ بن گیا۔ جشنِ آز ادی تو ہمیں اُسی تاریخ کو منانا چاہیئے، 14 اگست کو کیوں؟ اور آج بھی آز اد پاکستان کا ایک آز اد مرد امریکی صدر کو نوبل پرا ئیز کے لیے تجویز کرتا پھِرتا ہے۔ کِسی دانا سے سُنا تھا کہ آزاد ریاست صِرف اُسے کہا جا سکتا ہے، جہاں ایک ایسے آئین کی بالا دستی ہو جِس میں فرد اور ریاست کے مفادات ایک ہوں۔ وہ دانا شخص افلاطوُن تھا اور یہ بات اُس نے اپنی کِتاب THE REPUBLIC میں لِکھی۔ بالادستی تو دوُر کی بات ہے، حضرت جنرل سکندر مِرزا نے تو آئین کو ریاست کی کوکھ میں ہی قتل کر دیا تھا۔ ارے وہی سکندر مِرزا جِن کے دادا یا پردادا میر جعفر تھے۔ حضرت کا آبائی گھر مُرشدآباد، بھارت میں ہے اور اِن کے گھر کو ’’نمک حرام ڈیوڑھی‘‘ کہا جاتا ہے۔ شائد اِسے ہی ڈی این اے فیکٹر کہتے ہیں۔ بہ ہر حال جشنِ آز ادی تو اُس دِن منایا جانا چاہیئے جِس دِن گورنر جنرل سکندر مِرزا نے پانچ وُزرائے اعظم کو گھر بھیجا اور مُلک میں پہلا ’باقاعدہ‘ مارشل لاء لگایا۔ اب آئین تو تھا نہیں سو، ایوب خان نے سکندر مِرزا کو ہی گھر بھیج دیا۔ جشنِ آز ادی تو اُس دن بھی منایا جا سکتا ہے جب مُحترمہ فاطمہ جِناح کو انتخابات میں تب کے فیلڈ مارشل ایوب خان نے شکست دی۔ اب دانت کھٹے کیے یا نہیں، اس کا تذکرہ مُحترمہ نے اپنی کتاب My Brother میں نہیں کیا۔ گُجرانوالہ کے ایک ’سیاہ ستدان‘ غلام دستگیر خان نے جو کُتیا کے گلے میں لالٹین لٹکا کے جلوُس نِکالا کہ مُحترمہ کا انتخابی نشان لالٹین تھا، یہ کہانی پھِر سہی۔ پھِر این ایس ایف کی اکتوبر تحریک کے نتیجے میں ایوب خان گئے تو آغا مدہوش کا دور آیا۔ جی ہاں، آغا مدہوش، جنرل یحیٰ خان کا ہی Nick Name ہے۔
بھُٹو دور آیا۔ کیا اِس دور میں مزدوروں، کِسانوں اور محنت کش عوام کی زِندگی میں کوئی فرق پڑا؟ جنگ سوویت یونین اور افغانستان کے مابین تھی اور فاتح افغانستان جنرل ضیا الحق بن گئے اور چارلی ولسن کے بارے میں کیمرہ کے سامنے کہا
Charlie did it
اِس ضمن میں پاکستانی عوام کو کلاشنکوف اور ہیروئین کے سوا کُچھ مِلا؟ جی ہاں مِلا نا ۔۔۔ حدود آرڈیننس، توہینِ مذہب کے قوانین، پھانسیاں، کوڑے، سنسرشپ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ اس کے بعد بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان 2B-58 کے گِرد میوزیکل چئیرز کا کھیل کھیلا گیا۔ مُشرف دور آیا۔ اب سُنا ہے جمہوریت ہے۔ ہو گی بھائی۔ جمہور کے معنی تو عوام ہیں اور ان کے پاس اقتدار نہیں ہے۔ پھر بھی یہ اِسے جمہوریت کہتے ہیں تو مان لیتے ہیں کہ جیل میں آج کل مچھر بہت ہوتے ہیں۔ آئی ایم ایف، ورلڈ بنک، ایشیئن ڈیویلپمنٹ بنک وغیرہ کی تو بات ہی چھوڑیئے، ہر پیدا ہونے والا بچہ پانچ لاکھ روپیہ سِکہ رائج الوقت کے قرضے کے ساتھ اِس جہانِ خراب میں روتا ہوُا آتا ہے۔ چلیئے یہ بات جانے دیتے ہیں کہ عوام کی معاشی خوشحالی ہی صرف آز ادی ہے باقی سب محض سراب اور دِکھاوہ ہے۔
سو، بھوکے پیٹوں، بے لِباس جسموں اور طرح طرح کے امراض میں لِپٹی روُحوں پر مبنی کروڑوں عوام کی طرف سے اِن مُٹھی بھر رئیسوں اور جاگیرداروں پر مبنی مقتدر طبقات کو جشنِ آز ادی مبارک ہو۔ سو، پوُرے مِلی جوش و جذبے کے ساتھ منایئے گا۔

