حالیہ پاک بھارت جنگ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور سرحدی تنازعات کے بعد ایک کھلی جنگ میں تبدیل ہو گئی۔ اس جنگ کے دوران ہونے والے جانی و مالی نقصانات نے نہ صرف پاکستان اور بھارت بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں ایک نیا بحران پیدا کر دیا۔ دونوں ممالک کی فوجیں ایک دوسرے کے خلاف براہ راست لڑائی میں کود پڑیں ، اور سرحدی علاقے شدید نقصان کا شکار ہوئے۔
جانی نقصانات:
مذکورہ جنگ میں پاکستان میں33 سے زائد افراد شہید اور 56 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ زیادہ تر افراد آزاد کشمیر کے شہری تھے جنہیں بھارتی گولہ باری اور میزائل حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان حملوں نے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیلایا اور عوام کی زندگی مفلوج کر دی۔ بھارت کی جانب سے ہلاکتوں کی کوئی سرکاری تعداد فراہم نہیں کی گئی، تاہم پاکستانی دعووں کے مطابق 50 سے زائد بھارتی فوجی ہلاک ہوئے اور پانچ بھارتی لڑاکا طیارے بھی تباہ کیے گئے۔
مالی نقصانات:
اقتصادی محاذ پر دونوں ممالک کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ پاکستان کی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا، اور اگر جنگ طویل عرصے تک جاری رہتی تو پاکستان کی جی ڈی پی کا 10 فیصد تک متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔ بھارت کی معیشت کو 2,50,000 کروڑ روپے (تقریباً 30 بلین امریکی ڈالر) کا نقصان پہنچا، جس کی بڑی وجہ دفاعی اخراجات میں اضافہ اور انفراسٹرکچر کی تباہی تھی۔ عالمی تجزیوں کے مطابق، اگر یہ جنگ چار ہفتوں تک جاری رہتی تو بھارت کو آدھے ٹریلین ڈالر سے زائد کا نقصان ہونے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔
بہاولپور، مریدکے اور حیدرآباد میں نقصانات:
مئی 2025 کے شروع میں بھارتی فضائی حملوں میں بہاولپور، مریدکے اور حیدرآباد شدید متاثر ہوئے۔ بہاولپور میں جامع مسجد سبحان پر حملہ کیا گیا، جس میں 13 افراد شہید ہوئے، جن میں دو کمسن بچیاں بھی شامل تھیں۔ مریدکے میں جامع مسجد ام القریٰ پر میزائل داغے گئے، جس سے تین شہری شہید ہوئے۔ حیدرآباد میں بھارتی حملے میں تین سالہ بچی سمیت پانچ افراد شہید ہوئے اور 31 افراد زخمی ہوئے۔
پاکستان کے حملے:
پاکستان نے بھارتی حملوں کے جواب میں مختلف بھارتی مقامات کو نشانہ بنایا۔ 9 مئی 2025 کو بھارتی فضائیہ کی جانب سے آزاد کشمیر کے شمالی علاقوں میں گولہ باری اور میزائل حملے شروع کیے گئے۔ پاکستان نے فوری طور پر بھارتی فوجی بیسوں اور دفاعی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے 10 مئی کو بھارت کے پنجاب کے شہر جالندھر، امرتسر، پٹھانکوٹ اور ہریانہ کے علاقے میں حملے کیے۔ پاکستان کے حملوں میں بھارتی فوجی کیمپ اور فضائیہ کے اڈے تباہ ہوئے، اور بھارتی فضائیہ کے دو طیارے مار گرائے گئے۔
پاکستان کی میزائل یونٹس نے دہلی کے نواحی علاقوں، لکھنؤ، اور ممبئی میں اہم دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں کے نتیجے میں کئی عمارتیں تباہ ہو گئیں، اور بھارتی میڈیا کے مطابق 25 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ، بنگلور کے دفاعی ریسرچ سینٹر پر بھی حملہ کیا گیا، جس سے شدید نقصان پہنچا۔
انڈیا کے حملے:
بھارت کی جانب سے ہونے والے حملے بیشتر پاکستان کے آزاد کشمیر، خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے سرحدی علاقوں میں ہوئے۔ بھارت نے 8 مئی 2025 کو آزاد کشمیر میں پاکستانی فوجی بیسوں کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں پاکستان کے متعدد فوجی مارے گئے اور فوجی تنصیبات تباہ ہو گئیں۔ بھارت نے پاکستانی فوج کی قوت کو کمزور کرنے کے لئے لائن آف کنٹرول پر مزید فوجی تعینات کیے، جس کے نتیجے میں کئی چھوٹی جنگیں ہوئیں۔
9 مئی 2025 کو بھارت نے پاکستانی صوبہ پنجاب میں سرحدی دفاعی پوزیشنز پر میزائل حملے کیے۔ اسی دوران، بھارتی فضائیہ نے پاکستان کے مختلف علاقوں پر بمباری کی، جن میں سرگودھا اور بہاولپور شامل ہیں۔ 10 مئی 2025 کو بھارتی فضائیہ نے پاکستان کے شمالی علاقے میں مختلف فوجی کیمپوں پر حملے کیے، جس سے 15 پاکستانی فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ اسی دن بھارتی فورسز نے آزاد کشمیر میں پاکستانی فوجی بیسوں پر بھی بمباری کی، جس کے نتیجے میں پاکستانی فوجی بیسوں کا ایک بڑا حصہ تباہ ہوگیا۔
سیز فائر اور عالمی ردعمل:
اس جنگ کے دوران عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ اقوام متحدہ نے فوری طور پر دونوں ممالک سے جنگ بندی کی اپیل کی، اور عالمی برادری نے سفارتی طریقہ کار کے ذریعے مداخلت کی۔ سیز فائر کے بعد دونوں ممالک نے سرحدوں پر فوجی نقل و حرکت کو محدود کرنے پر اتفاق کیا، لیکن یہ امن عارضی ثابت ہو سکتا ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک نے باہمی مذاکرات کا آغاز نہ کیا تو یہ امن زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے گا۔
سیز فائر کے بعد کی صورتحال:
سیز فائر کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان حالات معمول پر آنے کی کوشش کی گئی، مگر سرحدوں پر چھوٹی جھڑپیں اور فائرنگ کے واقعات ابھی بھی جاری ہیں۔ عالمی طاقتوں جیسے امریکہ، چین اور روس نے ثالثی کی پیشکش کی اور دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی۔
فیس بک کمینٹ

