گزشتہ دو دنوں کے دوران پاک فوج کی کارروائیوں میں افغانستان سے سرحد پار کرکے خیبر پختون خوا میں داخل ہونے والے 70 سے دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیاہے۔ آج ایک ہی جھڑپ میں شمالی وزیرستان کےعلاقے حسن خیل آنے کی کوشش کرنے والے 54 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ پاکستان کے خلاف دہشت گرد گروہوں کے اس بڑے حملہ کی ذمہ داری کابل حکومت کے علاوہ بھارت پر عائد ہوتی ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے دہشت گردوں کے خلاف تازہ کارروائی کی اطلاع دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بھارتی حکمرانوں نے پہلگام سانحہ میں پاکستان پر الزام تراشی کرتے ہوئے درحقیقت افغانستان میں اپنی پراکسیوں کو مہلت و موقع فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان عناصر کا خیال تھا کہ پاکستانی فوج کو بھارتی حملہ کے خوف میں مبتلا کرکے مشرقی سرحد سے کسی حملہ کے لیے چوکس ہونے پر مجبور کیا جائے تاکہ افغانستان سے سرگرم دہشت گرد عناصر پاکستان کے خلاف سرگرم ہوسکیں۔ اس سے پہلے وزیر دفاع خواجہ آصف یہ اندیشہ ظاہر کرچکے ہیں کہ بھارت پہلگام سانحہ کا ’انتقام‘ لینے کے لیے دہشت گرد گروہوں کو استعمال کرسکتا ہے جو پاکستان میں داخل ہوکر بھاری نقصان کریں۔ ایک ہی ہلے میں کئی درجن لوگوں کا تخریبی سرگرمیوں کے لیے پاکستان داخل ہونے کے واقعہ کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف بھارت کا میڈیا اور حکومتی عہدیدار پہلگام کے واقعہ کی تفصیلات بتانے یا شواہد سامنے لانے کی بجائے مسلسل پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا کر ہیجانی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ دوسری طرف ان کی ایجنسیوں کے پروردہ اور حمایت یافتہ گروپ پاکستان میں کسی بڑی کارروائی کے لیے سرگرم ہورہے ہیں۔ ان دونوں معاملات کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔
اس دوران بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بالواسطہ طور سے پاکستان کے خلاف ہیجان اور غم و غصہ کو ہوا دینے کے لیے تند و تیز لب و لہجہ جاری رکھا ہے۔ ایک پروگرام ’من کی بات‘ کے دوران ان کا کہنا تھاکہ ’میں متاثرین کو یقین دلاتا ہوں کہ انہیں انصاف ملے گا۔پہلگام میں 22 اپریل کو ہونے والے دہشت گردی کے واقعے نے ملک کے ہر شہری کو غمزدہ کر دیا ہے۔ ہر انڈین شہری کو متاثرہ خاندانوں سے گہری ہمدردی ہے۔ اس حملے کے مجرموں اور سازش کرنے والوں کو سخت ترین جواب دیا جائے گا‘۔ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ پہلگام میں معصوم اور بے گناہ شہریوں پر حملے اور اس میں ہونے والے جانی نقصان کی تکلیف صرف بھارت میں ہی نہیں دنیا بھر میں محسوس کی گئی ہے۔ اہل پاکستان بھی اس درد کو محسوس کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں ۔ سرکاری سطح کے علاوہ پاکستانی میڈیا، مبصرین اور تجزیہ نگاروں نے اس سانحہ پر دکھ کااظہار کیا اور انسانوں پر حملوں کی مذمت کی ہے۔ البتہ بھارتی حکومت اور وزیر اعظم کے طرز عمل سے یوں ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے صرف بھارتی شہریوں کی زندگی اہم ہے اور ہمسایہ ملک میں ہونے والی دہشت گردی معمول کا حصہ ہے۔ اگر بھارتی حکومت اس سوچ کو تبدیل نہیں کرے گی تو وہ خود اپنے ملک میں بھی ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کا مقصد حاصل نہیں کرسکے گی جو سیاسی ایجنڈے کے لیے بے گناہ شہریوں پر حملے کرتے ہیں۔ اس حوالے سے اس حقیقت سے بھی صرف نظر نہیں کیاجاسکتا کہ بھارتی حکومت ابھی تک پہلگام سانحہ کی تحقیقات میں ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا سکی ہے۔
بھارتی وزارت داخلہ کے حکم پر پہلگام حملہ کی تحقیقات انڈیا کی مرکزی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کو سونپی گئی ہے۔ این آئی اے نے کہا ہے کہ آئی جی، ڈی آئی جی اور ایس پی کی نگرانی میں تشکیل دی گئی ٹیم پہلگام کی وادی بیسران میں منگل کو حملے کے عینی شاہدین سے پوچھ گچھ شروع کر رہی ہے۔ اس خبر سے یہی واضح ہوتا ہے کہ بھارتی حکام ابھی پہلگام سانحہ کے عوامل اور اس میں ملوث عناصر کے بارے میں قطعی طور سے لاعلم ہیں۔ جب ابتدائی تحقیقات ہی کسی نتیجہ پر نہیں پہنچیں تو یہ قیاس کیسے کیا جاسکتا ہے کہ اس حملہ میں کون لوگ ملوث تھے۔ اس کے باوجود بھارتی میڈیا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈروں کے ذریعے پاکستان پر الزام تراشی کےذریعے جنگ کا ماحول پیدا کیاگیا ہے۔ دنیا بھر کو تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے گویا یہ حملہ آور لائن آف کنٹرول عبور کرکے پہلگام گئے تھے تاکہ شہریوں کو ہلاک کریں۔
ایسے الزام لگاتے ہوئے بھارتی حکومت یہ فراموش کردیتی ہے کہ اس کی اپنی ایجنسیاں پاکستان ہی نہیں بلکہ کنیڈا اور امریکہ میں بھی سیاسی مخالفین کو ہلاک کرنے میں ملوث رہی ہیں۔ پاکستان بھی اپنے ملک میں ہونے والی دہشت گردی کا الزام بھارت پر ہی عائد کرتا ہے۔ اب بھی حکومت پاکستان نے پہلگام واقعہ کی ’غیر جانبدار‘ تحقیقات کا اصول تسلیم کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بھارت بھی جعفر ایکسپریس سانحہ کی تحقیقات میں تعاون کرے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف شدت پسند عناصر کو استعمال کرنے کے بارے میں حقیقت کھل کر سامنے آسکے۔ دیکھا جائے تو یہ ایک متوازن اور معقول تجویز ہے۔ اس سے ایک طرف جنگ جوئی کا ماحول کم ہوگا جس سے کسی ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔ دوسرے دونوں ملک دہشت گردی کے خلاف مل جل کر کام کرنے کے کسی لائحہ عمل پر متفق ہوسکیں گے۔ یہ تجویز دے کر پاکستانی حکومت نے اپنی نیک نیتی کا ثبوت دیاہے البتہ بھارت کی طرف سے ابھی تک اس کا جواب موصول نہیں ہؤا۔ ماضی کی مثالوں کو پیش نظر رکھا جائے تو بھارتی حکومت ایسے تعاون پر آمادہ بھی نہیں ہوگی۔ کیوں کہ اس کا مسئلہ پہلگام کی ہلاکتیں نہیں ہیں بلکہ وہ عوام کو ہیجان میں مبتلا کرکے مزید سیاسی کامیابی حاصل کرنے کی حکمت عملی پر کاربند ہے۔
نریندر مودی یا کسی سرکاری بیان میں براہ راست پاکستان پر پہلگام واقعہ میں ملوث ہونے کا الزام عائد نہیں کیا گیا لیکن پاکستان جعفر ایکسپریس حملہ میں واضح کررہا ہے کہ اس کے پاس اس دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ بھارت اس بارے میں خاموش رہ کر معاملہ ٹالنا چاہتا ہے۔ اب افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے آنے والے عناصر کی سرگرمیوں میں اضافہ ہؤا ہے۔ اس صورت حال کو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت اور پاکستان کو دہشت گردی کا سرپرست قرار دینے کے بھارتی پروپیگنڈے کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ پاکستانی حکومت یا کوئی شدت پسند گروہ اگر بھارت میں کسی واقعہ میں ملوث ہوتا ہے تو اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستانی حکومت ایسے کسی بھی کردار کو مسترد کررہی ہے۔ اب بھارت کو بھی واضح کرنا چاہئے کہ وہ جس دہشت گردی سے پاکستان کو روکنے کا مشورہ دیتا ہے اور دنیا میں جھوٹ پھیلانے میں مصروف رہتاہے، اسے خود بھی اس سے باز رہنا چاہئے۔
گزشتہ روز بی بی سی اردو نے خبر دی تھی کہ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں پہلگام حملہ میں ملوث ہونے کے شبہ میں بعض لوگوں کے گھر مسمار کیے ہیں۔ نئی دہلی نے اس خبر کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔ اگر یہ خبر درست ہے تو اس سے بھارت کا مقدمہ دو پہلو سے کمزور ہوتا ہے۔ ایک تو یہ واضح ہوتا ہے کہ بھارتی حکام کو معلوم ہے کہ پہلگام حملہ میں مقبوضہ کشمیر کے سیاسی انتظام کے خلاف بغاوت کرنے والے عناصر ملوث ہوسکتے ہیں لیکن وہ جان بوجھ کر پاکستان پر الزام لگا کر اس وقوعہ کی بنیاد پر دنیا بھر میں خود کو مظلوم قرار دینے کی کوشش کررہا ہے۔ دوسرے بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار ہے اور خود کو انسانی حقوق کا علمبردار ثابت کرتا رہتا ہے۔ لیکن کسی ایک شخص کے قصور پر کیا کسی ثبوت یا عدالتی کارروائی کے بغیر کسی خاندان کا گھر مسمار کرنا یا اہل خاندان کو ہراساں کرنا کسی بھی عالمی اصول و ضابطے کے مطابق جائز و درست ہوسکتا ہے؟ یہ تو وہی حرکت ہے جو اسرائیل فلسطینی نوجوانوں کے خاندانوں کو ہراساں کرنے کے لیے کرتا ہے۔ بھارت بھی اگر ایسا ہی طریقہ اختیار کرے گا تو اسے بھی انسانوں کے حقوق سلب کرنے والی اسرائیل جیسی مملکت ہی سمجھا جائے گا۔
خیبر پختون خوا میں دہشت گردوں کی ہلاکت کے بارے میں وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ’ آج ہمارے لیے بڑا دن ہے۔ سکیورٹی فورسز کو اس حملے کی بروقت اطلاع مل گئی تھی جس کے بعد حکمت عملی کے تحت تین اطراف سے گھیر کر 54 خوارجیوں کو ہلاک کیا گیا۔ ہمارے پاس یہ معلومات کچھ دن سے تھیں کہ ان کے بیرونی آقا ان پر زور ڈال رہے تھے کہ یہ جلدازجلد پاکستان میں گھسیں اور وہاں کوئی سرگرمی انجام دیں۔ انہی معلومات کی بنیاد پر سرحدوں پر نگرانی اور چیکنگ سخت کردی گئی تھی اور اسی دوران ان خوارجیوں کی نشان دہی ہوگئی‘۔ بلاشبہ یہ پاک فوج کی بڑی کامیابی ہے۔ لیکن اس قسم کی در اندازی کا تسلسل پاکستان اور بھارت کے درمیان تلخیوں اور غلط فہمیوں میں اضافہ کرے گا۔ اس لیے نئی دہلی کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہئے کہ اس قسم کے عناصر کی پشت پناہی بند کی جائے ورنہ دہشت گرد عناصر مسلسل برصغیر میں پھلتے پھولتے رہیں گے اور اس کا سب کو ہی نقصان ہوگا۔
پاکستان اور بھارت دونوں ہی ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں۔ دونوں میں سے کوئی بھی براہ راست ایک دوسرے پر حملہ کرنے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتا۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ ذمہ دار ریاستوں کی طرح اچھے ہمسایوں کے تعلقات استوار کیے جائیں۔ دونوں ملکوں میں براہ راست مذاکرات کا آغاز اس سلسلہ میں سب سے مناسب اور مثبت پیش رفت ہوگی۔ نریندر مودی کی حکومت کو سمجھنا چاہئے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کسی امن معاہدہ پر پہنچ سکیں تو تاریخ انہیں واقعی ایک بڑے لیڈر کے طور پر یاد رکھے گی جس نے برصغیر میں امن قائم کرنے میں کردار ادا کیا۔ لیکن اگر انہوں نے ایک بڑے ملک کا لیڈر ہونے کے باوجود سیاسی مقاصد کے لیے جھوٹ پھیلانے اور ہیجان پیدا کرنے کا طریقہ جاری رکھا تو تاریخ انہیں موقع پرست لیکن عاقبت نااندیش لیڈر قرار دے گی۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے)
فیس بک کمینٹ

