پرانی فلموں، پرانے گیتوں، پرانے رسالوں اور کتابوں میں سانس لیتا جہاں ہر لمحے نیا لگتا ہے۔ ایسے ہی کہیں بہت دور بچپن میں کسی رسالے میں بنگلہ گیت پڑھا تھا جس کا مکھڑا بھی یہی تھا۔ لکڑی جلی تو کوئلہ بنی۔ کوئلہ جلا تو راکھ۔ میں پاپن کچھ ایسی جلی نہ کوئلہ ہوئی نہ راکھ۔ نہ جانے اپریل آتے آتے ایسا کیوں لگتا ہے۔ شاید یوں کہ انہی دنوں میں بہت سوں کا کھیون ہار۔ خالد سعید۔ میرے ابا اور اماں کا خالدی۔ ہم سب کو چھوڑ گیا۔
یہاں آنے اور یہاں سے جانے کے بیچ میں گزرے پل درحقیقت کسی کی قدر کا تعین کرتے ہیں۔ لاہور میں دو بادشاہ اور ایک ملکہ دفن ہیں لیکن دربار صرف داتا صاحب کا سجا ملتا ہے۔ سندھ دھرتی بہت سے حوالوں سے نامی گرامی لوگوں سے بھری ہوئی ہے مگر لوگ شہباز قلندر۔ سچل سرمست۔ سوبھو گیان چند انی۔ ایدھی بابا اور ڈاکٹر ادیب رضوی کو یاد کرتے ہیں۔ پٹھانوں میں یہی مقام باچا خان کو حاصل ہے۔ ان میں سے کوئی بھی دولتمند نہ تھا۔ ہاں کچھ ان کے پاس تھا تو ایک درد بھرا دل جو کسی کے درد کا درماں کرتے سمے اس کا دین دھرم زبان نسل نہیں پوچھتا تھا۔ جو انسان کے دکھ دور کرنے کو ہی اوپر والے کی خوشنودی کا ذریعہ جانتا تھا۔ بس خالدی بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ مجھ سمیت اس کے سیکڑوں عاشق اس بات کی گواہی دیں گے کہ اس نے خود کو ان مول کر کے بن مول کر دیا تھا۔ مجھ سمیت کتنے ٹیچرز ہوں گے جو ہر وقت ہر لمحے اپنے گھر پہ (جی ہاں اپنا گھر جو ہماری پرائیویسی کا مرکز ہوتا ہے ) اپنے طلباء کو مفت پڑھائے۔ چائے پانی سگریٹ بھی پیش کرے۔ اور ہاں ہمارے معاشرے میں ہر سو بکھرے ذہنی مسائل کے ساتھ جیتے لوگوں کی شفا یابی میں بھی مدد گار ہو جو اس غیر متوازن سماج کے ساتھ نہ چل پائے۔ نہیں کوئی نہیں مگر صرف اور صرف خالد سعید۔
پہلے بھی کبھی بتایا تھا کہ خالدی کا ہر شخص کے ساتھ اس کی عمر اور ذوق کے مطابق مکالمہ کرنے میں کوئی ثانی نہ تھا۔ میرے ابا کے ساتھ اور پھر ان کے جانے کے بعد اماں کے ساتھ گھنٹوں گفتگو میں محو خالدی اس خالد سعید سے یکسر مختلف نظر آتا جو کسی یونیورسٹی، کسی کانفرنس یا پھر ملتان آرٹس فورم پر نفسیات اور فلسفے کی گتھیاں سلجھا رہا ہوتا۔ بہت بار کسی درخت کے نیچے اپنے عاشقوں میں گھرا خالد سعید مجھے ملتانی بدھا لگا کہ جسے بہ ہر صورت نروان بانٹنا ہو۔ یا پھر کبھی بلے شاہ تو کبھی مادھو لال حسین لگتا جو کسی بھی جگہ پہ کوئی تھالی کوئی پرات لے کر انہی لوگوں کا کلام گانے کو تیار ملتا۔ ہر جگہ رائیٹ کے لوگ تہذیب اور روایتی ادب آداب کے دلدادہ ہوتے ہیں ( بزعم خود بنے شہنشاہ عالم کو چھوڑ کے ) ۔ مگر دوسری جانب بھی اس درجہ عوامیت آج کل تو بہت ہی کم کم ملتی ہے۔ مگر خالد سعید ان حوالوں سے ایک بہت بڑا استثنا تھا۔
اور یہ سب کچھ کرنے کے ساتھ ساتھ اس درجہ محنتی اور تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال شخص جو صبح 5 بجے سے رات گئے تک پڑھنے پڑھانے اور لکھنے میں محو رہے۔ ریاضی میں میری فطری کمزوری اس امر میں مانع ہے کہ میں کینسر کی تشخیص ہونے کے بعد کے عرصے میں ان کے لکھے گئے صفحات کا حساب کر سکوں لیکن ان کا اپنی محبوب لکھاری اوریانا فلاشی کے ناول ”اے مین“ کا ”ایک مرد“ کے نام سے اردو ترجمہ تو میرے سامنے ہی ہوا بلکہ اس ترجمے کے لیے ابتدا میں ان کی فرمائش پر ہی ان کے لیے خالی صفحات اور بال پنسلوں کا سیٹ میں ہی ان کے لیے لایا تھا۔ ان کے ہاتھ سے لکھے اس ترجمے کے کچھ صفحات میرے پاس ابھی بھی محفوظ ہیں۔ ان کے ناشر حضرات ہی صحیح طور پر بتا پائیں گے کہ چلے جانے کی آہٹ کے ساتھ ساتھ ان میں کہاں سی ایسی جناتی قوت آ گئی کہ ہزاروں صفحات لکھ ڈالے۔ وہ صفحات جو ان کے جانے کے بعد بھی کتابوں میں ڈھل رہے ہیں۔
یاد رہے کہ دسمبر 20 سے اپریل 22 تک تمام مہینوں میں ان کے کئی دن کیمو تھراپی کی نذر ہو جاتے تھے جس کی اذیت سے رب ہر ایک کو بچائے۔ پھر اس پہ ان کا خود پر فقرے اچھالتا مزاج۔ کیمو تھراپی سے بال آڑ جانے پر کہنے لگے ”اوہ یار اتنی زندگی تاں والیں نال گزاری اے ہنڑ تھوڑی فارغ البالی وی ڈیکھوں“ ۔ مطلب اتنی زندگی بالوں کے ساتھ گزار لی اب کچھ فارغ البالی بھی دیکھیں۔ جب تک ان کے نحیف و نزار بدن نے ان کا ساتھ دیا وہ بات چیت کرتے رہے اگر چہ کوما میں جانے سے پہلے ان کی آواز حد درجہ مدھم ہو چکی تھی اور ان کو سمجھنے کے لیے ان کے قریب جا کر انہیں سننا پڑتا تھا۔ میرے کانوں میں میں ان کا آخری فقرہ ابھی تک گونجتا ہے جو ہماری موجودہ صورتحال کے حوالے سے ایک ابدی سچ ہے۔ ان کا جانا صرف ایک شخص کا چلے جانا نہیں ہے۔ ان کی موت ہمارے سماج میں مکالمے، رواداری، برداشت، تکثیریت، انسان دوستی، علم دوستی کے لیے تنگ ہوتی گنجائشوں میں مزید کمی کا باعث بنی ہے۔ مجھ سمیت ان کے سیکڑوں پرستار ان کے جیسا تلاشنے کے باوجود ناکام رہتے ہیں۔ وجہ صاف ظاہر ہے جو نایاب ہیں وہ کمیاب ہیں۔ یہ صرف خالدی ہی تھا جو نایاب ہوتے ہوئے بھی سب کی دسترس میں تھا۔ جانے کیوں اس سمے وارث شاہ کی ہیر بہت یاد آ رہی ہے کہ جب وہ جوگی سے کہتی ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے وہ تو ہر ہر جانب ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک چکی مگر گئے ہوؤں کو واپس موڑ کر لانے والا کوئی نہیں ملا۔ ہر جہان میں خوش رہو خالدی۔
( بشکریہ :ہم سب ۔۔ لاہور )
فیس بک کمینٹ

