بھیرہ : گزشتہ روز وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے ساتھ ایک فیملی کی جانب سے بدتمیزی کا واقعہ پیش آیا، جس کی سیاسی و سماجی رہنماؤں کی جانب سے مذمت کی جا رہی ہے۔اس واقعے کا نور مقدم کیس کے ساتھ تعلق نکل آیا ہے ۔ اس سے پہلے ماضی میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور سابق وزیراعظم عمران خان بارہا اپنی تقاریر اور بیانات میں کارکنوں کے پُرتشدد رویے کی حوصلہ افزائی کرتے رہے ہیں۔
پولیس کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس واقعے کا تعلق بھی پی ٹی آئی سے نکلا ہے اوراحسن اقبال کے خلاف نعرے لگانے والی فیملی پاکستان تحریک انصاف کی حامی ہے ۔پولیس ذرائع کے مطابق جس خاتون نے احسن اقبال کے خلاف نعرے بازی کا آغاز کیا وہ نور مقدم کے قاتل ظاہر جعفر کی سگی خالہ ہیں ۔ واضح ہو کہ ظاہر جعفر کی والدہ عصمت آدم جی بھی قتل کیس میں ملزم ہیں ۔واضح رہے کہ اپنے ٹوئٹر پیغام میں احسن اقبال کا کہنا تھا کہ آج بھیرہ کے ایک ریسٹورنٹ میں ایک فیملی سے مڈ بھیڑ ہوئی، یہ فیملی بظاہر خود کو ایلیٹ سمجھتی ہے مگر انہوں نے مکالمہ کرنے کی بجائے جاہلوں کی طرح نعرہ بازی شروع کر دی۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ جب یہ نعرہ بازی سے باز نہ آئے تو لوگوں نے بھی نعرے لگا دیے ’’گوگی پیرنی کا حساب دو‘۔

