شاعریکتب نمالکھاری

دکھوں کا آخری موسم سے منتخب اشعار ۔۔ اقبال ارشد

میرے بارے میں کوئی بات نہ کہنااس کو
میرے جیسے بھی ہیں حالات نہ کہنااس کو

وہ بہت سخت ہے پابندیء اوقات کے ساتھ
دن کو دن کہنا کہیں رات نہ کہنا اس کو

وہ مری جان کادشمن ہے کہ دل کی تسکیں
یہ تصوریہ خیالات نہ کہنا اسے



۔۔۔
دل میں پیداکوئی خواہش نہیں ہونے پاتی
کیساموسم ہے کہ بارش نہیں ہونے پاتی

روٹھنے والے ہوتم ہم ہیں منانے والے
اپنے مابین جورنجش نہیں ہونے پاتی
۔۔۔
ارشدمری حیات کے کچھ تلخ واقعات
بے رحم دوستی کی مثالوں کے لئے ہیں
۔۔۔
دھواں سزاہے سزاکے قریب مت ہونا
چراغ ہوتوہواکے قریب مت ہونا

تپش ضروری ہے لیکن گریز اچھاہے
اسے قریب بلاکے قریب مت ہونا

وہ جس کو چاہے بنادے کلام سے پتھر
طلسمِ ہوش رباکے قریب مت ہونا

تمھارے حق میں ہے بہتردکھوں سے دوررہو
کسی کواپنابناکے قریب مت ہونا
۔۔۔
بقاکی فکر فناسے کہیں زیادہ ہے
یہ جوبھی کچھ ہے سزاسے کہیں زیادہ ہے
مرے لہو سے ملے ہاتھ اس نے اورکہا
یہ رنگ رنگ حنا سے کہیں زیادہ ہے
۔۔۔
سانسوں میں تیرے لمس کی سوغات نہ آئی
ہم جس کے طلب گار تھے وہ رات نہ آئی

دل ترک تمنا پہ رضامندنہ ہوتا
اچھایہ ہواشام ملاقات نہ آئی

کوچے میں تیرے اب بھی وہ درویش پڑاہے
دروازے سے تیرے جسے خیرات نہ آئی
یہ جراءت اظہارہے ارشدمرے لب تک
جوبات ضروری تھی وہی بات نہ آئی

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker