اختصارئےقمر رضا شہزادلکھاری

اقبال ارشد اور ان کی شاعری ۔۔ قمر رضا شہزاد

جن دنوں میری شاعری کا آغاز تھا۔ ملتان میں اسلم انصاری کے علاوہ چار پانچ شاعر ایسے تھے جن کی شاعری میں تروتازگی اور نیا پن ہم ایسے نئے لکھنے والوں کو اپنی طرف کھینچتی تھی ۔ ان چار پانچ شاعروں میں سب سے اہم نام اقبال ارشد کا تھا۔ اقبال ارشد نہ صرف اپنی شاعری کے حوالے سے ہمارے دلوں کے نزدیک تھے بلکہ ان کی شخصیت بھی دلآویز تھی۔ ہر لمحہ قہقہے بکھیرنے والا یہ شاعر نئے لکھنے والوں کی بے پناہ حوصلہ افزائی کرتا تھا۔ یہی وجہ تھی ملتان اور گردونواح کا ہر نوجوان شاعر ان کی رفاقت میں زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کا خواہشمند ہوتا تھا۔ حسین سحر کے ساتھ ان کی ادبی جوڑی نہ صرف ملتان بلکہ ملتان سے باہر کے ادبی حلقوں میں از حد مشہور تھی۔ اقبال بانو نے ان کی ایک غزل گائی جو بلاشبہ اقبال بانو کےگائے ہوئے یادگار کلام میں سے ایک ہے


دلوں میں درد کے نشتر اتر گئے چپ چاپ
ہم اہل درد جہاں سے گزر گئے چپ چاپ
کسی پہ ترک تعلق کا بھید کھل نہ سکا
تری نگاہ سے ہم یوں اتر گئے چپ چاپ
اس ہنستے مسکراتے شاعر کو اس وقت نظر لگی جب اس کا جواں سال اکلوتا بیٹا اچانک جہان فانی سے گذر گیا۔ اس سانحے نے انہیں اندرسے توڑ دیا
پھر وہ ادبی محا فل میں شریک تو ہوتے تھے ۔ مگر بجھے بجھے سے۔ شاکر اور رضی سے انکی محبت بے پناہ تھی۔ اور پھر ان کا ہمزاد حسین سحر بھی اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ جس نےانہیں مزید تنہا کردیا۔ ۔


آج وہ خوبصورت شاعر اپنی خوبصورت شاعری اور یادیں چھوڑ کر اس
جہان فانی سے چلا گیا ۔۔
خدا وند کریم ان کی روح کو آسود ہ کرے۔ آمین
تجھ سے کرب ذ ات کا اظہار کیسے ہوگیا
تو محبت کے لئے مسمار کیسے ہوگیا
میں نے تو ہلکی سی دستک سے پکارا تھا اسے
شہر سارا نیند سے بیدار کیسے ہوگیا
تو اسے اپنی تمناؤ ں کا مرکز نہ بنا
چاند ہر جائی ہے ہر گھر میں اتر جاتا ہے

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker