ایران کے صدر ابراہیم رئیسی پاکستان کے تین روزہ دورہ پر ہیں۔ پہلے ہی دن انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف سے بات چیت کرنے کے علاوہ صدر آصف زرداری سے ملاقات کی ہے۔ وزیر اعظم کے ساتھ بات چیت میں ایرانی مہمان نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی سرگرمی کو مایوس کن قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ اسے بڑھا کر دس ارب ڈالر سالانہ تک پہنچایا جاسکتا ہے۔
خیر سگالی کے رسمی اظہار اور معمول کے مطابق بعض یادداشتوں پر دستخط کرنے کے علاوہ اس دورہ کو مشرق وسطی میں جاری سنسنی خیز صورت حال کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ اگرچہ پاکستانی وزارت خارجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس دورہ کا فیصلہ ایران اور اسرائیل کے درمیان میزائل و ڈرون حملوں کے تبادلہ سے پہلے کیا گیا تھا ، اس لیے اسے کسی خاص زاویے سے نہ پرکھا جائے۔ اس کے باوجود ایران کو عالمی سطح پر سفارتی تنہائی اور مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے حوالے سے ’بیڈ بوائے‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ امریکہ ، ایران کی طرف سے اسرائل پر میزائل و ڈرون حملے کے بعد ایران پر مزید پابندیاں لگانے پر غور کررہا ہے۔ اسی طرح اگرچہ اسرائیل نے شدید امریکی دباؤ کی وجہ سے ایران پر بھرپور وار نہیں کیا لیکن ایران نے جیسے غزہ تنازعہ کے عین بیچ سرائیل پر براہ راست حملہ کرکے ایک حد عبور کی ہے، اس کی روشنی میں اسرائیل کے لیے ایران کے ساتھ تنازعہ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔بادی النظر میں یہ دورہ پاکستان کی بجائے ایران کی زیادہ ضرورت تھا۔ ایران عالمی تنقید کا سامنا کررہا ہے۔ وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیاسی رائے کی بنیاد پر سخت سزائیں دینے کے طریقہ کی وجہ سے ایران کو شدید نکتہ چینی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایران میں سیاسی گھٹن اور غیر جمہوری ہتھکنڈوں کو نمایاں کرنے کے لیے گزشتہ سال کا نوبل امن انعام جمہوری حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والی خاتون نرگس محمدی کو دیا گیا تھا۔ کچھ حلقے توقع کر رہے تھے کہ ایران دنیا کی طرف سے انسانی و جمہوری حقوق کے مطالبے کے لیے خیر سگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاید نرگس محمدی کو نوبل امن انعام کی تقریب میں شرکت کے لیے اوسلو آنے کی اجازت دے۔ تاہم ایرانی حکام نے نہ صرف نارویجئن نوبل کمیٹی کے فیصلے کو مسترد کیا بلکہ جیل میں نرگس محمدی کی زندگی کو مزید مشکل بنانے کی کوشش کی۔ ہر تھوڑے عرصے بعد ان کی سزا میں اضافہ کردیا جاتا ہے اور انہیں اپنے بچوں تک سے رابطہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
گزشتہ سال ہی 7 اکتوبر کو جب حماس نے اسرائیل پر تاریخ ساز حملہ کیا تو سب انگلیاں ایران کی طرف اٹھائی گئیں۔ اسرائیل اور امریکہ کو یقین ہے کہ حماس نے یہ حملہ ایران کی مدد و تعاون سے کیا ہے ورنہ وہ اس قدر منظم حملہ کرنے اور اسرائیل کو شدید جانی نقصان پہنچانے کے قابل نہیں تھی۔ ایران نے البتہ سفارتی ہوشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غزہ تنازعہ میں براہ راست ملوث ہونے سے گریز کیا اور تواتر سے اس الزام کی تردید کی ہے کہ اس نے حماس کے ذریعے اسرائیل کو نشانہ بنایا ہے۔ البتہ اس کے ساتھ ہی یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثیوں کے ذریعے ایران بدستور اسرائیل کے لیے چیلنج بنا ہؤاہے۔ حزب اللہ دھمکیاں دیتا رہتا ہے کہ وہ کسی بھی وقت لبنان سے اسرائیل پر حملہ کرسکتا ہے جبکہ حوثی ملیشیا نے بحیرہ احمر میں اسرائیل جانے والے بحری جہازوں کا راستہ روکنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ اس کے نتیجہ میں امریکہ نے یمن میں حوثی پوزیشنوں پر میزائل حملے بھی کیے ہیں۔
اگرچہ یہ درست ہے کہ دمشق میں ایرانی قونصل خانہ پر حملہ کرکے اسرائیل نے متعدد ایرانی فوجیوں کو ہلاک کیا۔ اس طرح تمام عالمی حدود پامال کی گئیں۔ امریکہ کی سربراہی میں نام نہاد عالمی ضمیر نے اس اسرائیلی جارحیت کو مسترد کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جس کے بعد ایرانی قیادت نے اسرائیل کو ’سزا‘ دینے کا عزم ظاہر کیا۔13 اپریل کو تین سو سے زائد ڈرون اور میزائل کے ذریعے اسرائیل کو نشانہ بنایا گیا۔ اگرچہ اسرائیل نے اپنے جدید فضائی دفاعی نظام اور امریکہ اور اس کے حلیف ممالک کی بھرپور مدد کے ساتھ اس حملہ کو ناکام بنادیا لیکن اس کے باوجود مشرق وسطیٰ کے تنازعہ میں یہ ایک نیا باب تھا جس میں ایران نے تاریخ میں پہلی بار اسرائیل پر براہ راست حملہ کیا تھا۔ امریکہ غزہ کی صورت حال اور وہاں رونما ہونے والی اسرائیلی بربریت اور اس کے خلاف ابھرنے والے عالمی رائے کی روشنی میں فی الوقت مشرق وسطیٰ میں کسی بڑی جنگ کے خلاف ہے۔ اسی لیے اسرائیلی حکومت کو اپنا رد عمل محدود کرنے اور ایران کے ساتھ جنگ سے باز رکھنے کے لئے تمام سفارتی و سیاسی دباؤ استعمال کیا گیا۔
البتہ امریکہ کی سربراہی میں بیشتر مغربی ممالک نے ایرانی حملے کی مذمت کی اور اسے ناقابل قبول اشتعال انگیزی قرار دیا۔ امریکہ سفارتی بائیکاٹ کے علاوہ ایران پر مزید پابندیاں لگانا چاہتا ہے تاکہ اس کا میزائل اور ڈرون پروگرام متاثر ہو۔ گزشتہ دنوں امریکہ نے پاکستان کے میزائل پروگرام میں مدد دینے والی تین چینی اور بیلا روس کی ایک کمپنی پر پابندیاں عائد کرکے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف پابندیوں میں کس حد تک جاسکتا ہے۔ اگرچہ امریکی حکمت عملی دنیا کو مسلسل دو بڑے حصوں میں تقسیم کررہی ہے جس میں ایک طرف چین ، روس ، ایران اور دیگر حلیف ممالک ہیں جبکہ امریکہ ،برطانیہ و دیگر حلیف ممالک کے ساتھ دوسری طرف ہے۔ طاقت ور ممالک میں بڑھتا ہؤا یہ فاصلہ دنیا کے امن کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے۔ لیکن اس کے باوجود عالمی معاملات میں ابھی تک امریکہ کا پلہ بھاری ہے اور چین براہ راست اسے چیلنج کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ یا یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ چینی حکومت مسلح تصادم پر یقین نہیں رکھتی بلکہ معاشی فروغ کے ذریعے امریکہ کا مقابلہ کرنے پر یقین رکھتی ہے۔
تاہم ایک طرف یوکرین روس کی جنگ اور دوسری طرف مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی غنڈہ گردی کی وجہ سے عالمی سفارت اور معیشت نت نئے اندیشوں کا شکار ہے۔ اس صورت حال میں امریکی پالیسیوں کو ناپسند یا مسترد کرنے والے ممالک بھی واضح طور سے امریکہ مخالف دھڑے میں شامل ہونے کا حوصلہ نہیں کرتے۔ وسائل سے مالا مال تمام عرب ممالک کی طرح پاکستان کا شمار بھی انہی ممالک میں ہوتا ہے۔ آج بھی وزیر اعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی ملاقات میں غزہ کے حوالے سے گرمجوش بیانات دیے گئے ہیں لیکن عملی طور سے پاکستان کو یہی دیکھنا پڑے گا کہ ایران کے ساتھ تعلقات بحال کرنے اور انہیں وسعت دینے میں پاکستان کس حد تک آگے بڑھ سکتا ہے۔ کیوں کہ اسلام آباد معاشی بحالی کے جس منصوبے پر عمل کررہاہے، اس میں امریکہ کی براہ راست یا بالواسطہ امداد بے حد ضروری ہے۔ پاکستان ایک طرف آئی ایم ایف سے قرض لینے کا محتاج ہے تو دوسری طرف اپنی برآمدات میں اضافہ کے لیے امریکہ اور یورپی یونین کی سرپرستی کا خواہاں ہے۔ ان حالات میں ایرانی صدر خواہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے بارے میں کیسے ہی جذبات کا اظہار کریں، پاکستان اس بارے میں کوئی بہت بڑی پیش قدمی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
ایران کو امریکی پابندیوں کا سامنا ہے۔ اسی لیے پاکستان گزشتہ ایک دہائی کے دوران میں پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل کرنے میں کامیاب نہیں ہؤا۔ اب بھی اگرچہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان نے اپنے علاقے میں پائپ لائن پر کام شروع کردیا ہے لیکن عملی طور سے ایسا کوئی خاکہ سامنے نہیں آسکا جس سے یہ پتہ چلے کہ پاکستان کب تک ایرانی گیس درآمد کرنے کے قابل ہوسکے گا۔ امریکی حکومت نے دو ٹوک الفاظ میں اس منصوبہ کو ایران پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ کوئی پاکستانی حکومت ابھی تک اس حوالے سے کسی قسم کی امریکی رعایت لینے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ ایرانی صدر کے دورہ اسلام آباد کے موقع پر خیر سگالی اور تجارتی تعاون بڑھانے کے پرجوش اعلانات میں بھی پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کا ذکر غائب رہا۔ حالانکہ پاکستان کو ایندھن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے گیس کی شدید ضرورت ہے۔ مہنگی گیس خریدنے کی وجہ سے ہی پاکستان کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہؤا ہے اور گیس کے علاوہ بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کرکے پاکستانی عوام کو زیر بار کرنا پڑا ہے۔
بظاہر پاکستان کے پاس ایران کے حوالے سے امریکی رعایت لینے کے لیے بہت زیادہ آپشن نہیں ہیں۔ اس لیے ایرانی صدر کے حالیہ دورہ سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی و معاشی تعاون بڑھانے کے امکانات بھی محدود ہیں۔ البتہ ایران اس دورہ کو سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کرسکتا ہے کہ امریکہ کی شدید مخالفت کے باوجود ایرانی صدر پاکستان جیسے امریکی حلیف ملک کے تین روزہ دورہ پر آئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس سال کے شروع میں دونوں ملکوں نے درمیان میزائل حملوں کے تبادلہ کی وجہ سے تنازعہ شروع ہؤا تھا۔ دونوں نے اگرچہ فوری طور سے اس کا تدارک کرلیا تھا تاہم ایرانی صدر کے دورہ سے خیر سگالی میں اضافہ ہوگا۔ اس موقع پر دونوں حکومتوں نے دہشت گردی کے خلاف مل کر کام کرنے کا عزم بھی کیا ہے۔ تاہم اس سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے حوالے سے اسلام آباد اور تہران ہم خیال بھی ہیں۔
صدر ابراہیم رئیسی اس دورہ میں کراچی اور لاہور بھی جائیں گے۔ دونوں صوبوں میں اس موقع پر اسکولوں میں چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ سکیورٹی کے بہتر انتظامات ہوسکیں۔ اس ایک فیصلہ سے پاکستان میں دہشت گردوں کی طاقت اور خوف کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ سمجھنا مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ ہمسایہ ملک کی طرف سے تجارت میں اضافہ کی خواہش سے پاکستان کی معیشت بحال نہیں ہوگی بلکہ سرمایہ کاری کے فروغ اور تجارتی سرگرمیاں بحال کرنے کے لیے دہشت گردی کے خوف اور خطرہ سے باہر نکلنا ضروری ہوگا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

