شاعریعرفان صدیقیلکھاری

عرفان صدیقی کی تازہ غزل : ڈرنے لگے ہیں لوگ

عرفان صدیقی کی تازہ غزل : ڈرنے لگے ہیں لوگ

یہ کیا کہ اپنے آپ سے ڈرنے لگے ہیں لوگ
انہونیوں کے خوف سے مرنے لگے ہیں لوگ

آسیب جیسے لپٹے ہوں دیوار و در کے ساتھ
کترا کے اپنے گھر سے گزرنے لگے ہیں لوگ

عہد بہار ہے تو پھرصحنِ چمن میں کیوں؟
برگِ خزاں کی طرح بکھرنے لگے ہیں لوگ

میرِسفر کی کور نگاہی کودیکھ کر
گہرے سمندروں میں اترنے لگے ہیں لوگ

اس عہد ِعہد کُش نے سب آسان کردیا
خود اپنے نام سے بھی مکرنے لگے ہیں لوگ

کچھ تیزہونہ جائے یہ سرگوشیوں کی لے
تشویش ہے کہ حد سے گزرنے لگے ہیں لوگ

سنتے تھے ساری دنیا امڈ آئے گی یہاں
اورحال یہ ہے ہجرتیں کرنے لگے ہیں لوگ

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker