اسلام آباد: پولیس نے مطالبات کے لیے احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین پر دھاوا بول دیا جس سے شاہراہ دستور میدان جنگ بن گئی۔ جیونیوز کے مطابق تنخواہیں بڑھانے کا مطالبہ کرنے والے سرکاری ملازمین اور وفاقی وزرا کے درمیان کل مذاکرات ناکام ہونے کے بعد آج ملازمین نے اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کیا تھا اور آج ملازمین نے پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے ملازمین پر دھاوا بول دیا۔
پولیس نے احتجاجی مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ کی اور لاٹھی چارج کردیا جب کہ سرکاری ملازمین نے پولیس پر پتھراؤ کیا جس کے بعد پولیس نے متعدد سرکاری ملازمین کو گرفتار بھی کرلیا۔ سرکاری ملازمین کے احتجاج کے باعث شاہراہ دستور پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے جب کہ سکیورٹی حکام نے اسلام آباد سیکرٹریٹ اور وزیراعظم ہاؤس جانے والے راستوں کو بند کردیا۔ پولیس کی مزاحمت کے باوجود سرکاری ملازمین سیکرٹریٹ کے در وازے کھول کر اندر گھس گئے۔ دوسری جانب لیڈی ہیلتھ ورکرز بھی دھرنا دینے کے لیے اسلام آباد پریس کلب پہنچ گئی ہیں،لیڈی ہیلتھ ورکرز پاکستان بھر ،آزاد کشمیر اور گلگت سے آئی ہیں اور انہیں مستقل کرنے کے ساتھ پینشن دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے لیڈی ہیلتھ ورکرز کا کہنا ہےکہ وہ اپنے مطالبات کی منظوری کےلیے سرکاری ملازمین کے دھرنے میں شریک ہوں گی۔
پولیس کی جانب سے 2 درجن وفاقی ملازمین کو 16 ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز وہاں سے گزرے تو مظاہرین نے انہیں گھیرے میں لے لیا۔ پولیس کی جانب سے 50 کے قریب ملازمین کو حراست میں لے لیا گیا ہے جن کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف مقدمے کا اندراج نہیں کیا جائے گا۔ مظاہرین نے سیکریٹریٹ کے دروازے کھول کر پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنا شروع کر دیا، جس پر پولیس کی جانب سے مظاہرین پر شیلنگ کی گئی۔ ملازمین نے آنسو گیس شیلنگ کے جواب میں پولیس پر پتھراؤ کیا اور نعرے بازی بھی کی، پولیس کی جانب سے دھرنے کے متعدد شرکاء کو گرفتار کیا گیا۔ سرکاری ملازمین بڑی تعداد میں مرکزی سیکریٹریٹ میں موجود ہیں جہاں سے وہ نعرے بازی کر رہے ہیں جبکہ کچھ افراد لاؤڈ اسپیکر پر مظاہرین سے خطاب بھی کر رہے ہیں۔ پولیس کی جانب سے ڈی چوک سے پارلیمنٹ ہاؤس جانے والے راستے، شاہراہِ دستور اور اطراف کے علاقوں کو کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا ہے جبکہ علاقے میں پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری بھی موجود ہے۔
(بشکریہ: جیونیوز)
فیس بک کمینٹ

