جبار مفتیکالملکھاری

جبار مفتی کا کالم:گھاٹے کا سودا؟

ایک زمانہ تھاکہ وطن عزیز میں پارٹیاں (سیاسی) بدلنا معیوب تھا نہ غیر قانونی، جس رکن پارلیمینٹ کا جب دل چاہتا اپنی پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹی میں چلا جاتا چنانچہ آئے روز پارٹیاں اکثریت کھوتی اور پاتی رہتیں یوں حکومت کا ہی دھڑن تختہ ہو جاتا۔ آج ایک پارٹی کی حکومت ہوتی تو کل دوسری پارٹی کی یہ سلسلہ ایوبی آمریت تک چلتا رہا۔ اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم آنجہانی جواہر لعل نہرو نے مشہور زمانہ پھبتی کسی تھی کہ ”میں اتنی جلدی پاجامہ نہیں بدلتا جتنی جلدی پاکستان میں حکومت بدل جاتی ہے“ اہل سیاست کی اس بے لگامی نے خود انہیں ہی بے توقیر کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ووٹ کی پرچی سے وجود میں آنے والے ملک میں صرف گیارہ سال بعد بندوق کے زور پر بننے والی حکومت کو ”جمہوری قوم“ نے قبول کر لیا اس عرصے میں حکومتیں ہی نہیں پارٹیاں بھی بنتی اور ٹوٹتی رہیں۔ قیام پاکستان کے 9 سال بعد پارلیمانی طرز کا آئین بمشکل ہی وجود میں آ سکا۔ مگر اس پر بھی عملدرآمد نہ ہو سکا اور ملک پہلے مارشل لاء کے نرغے میں آ گیا۔ پھر سیاست رہی نہ جمہوریت، نئی قیادت (فوجی) نے نیا آئین بنایا جو 1962ء میں لاگو ہوا۔ نیا نظام بنیادی جمہوریت (بی ڈی سسٹم) کہلایا جو براہ راست نہیں بالواسطہ طرز انتخاب لے کر آیا۔ اسی نظام کا شاخسانہ تھا کہ قائد اعظم کے بنائے ملک میں ان کی ہمشیرہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح صدارتی الیکشن ہار گئیں اور فوجی حکمران صدر محمد ایوب خان جیت گئے۔ احتجاجی تحریک کے نتیجے میں وہ رخصت ہوئے تو ان کا آئین بھی چلتا بنا۔
نئے فوجی آمر جنرل یحییٰ خان نے لیگل فریم ورک آرڈر (LFO) کے تحت ایک بندہ ایک ووٹ کی بنیاد پر براہ راست انتخابات کرا ڈالے۔ سقوط ڈھاکہ کے ساتھ ہی وہ بھی رخصت ہوئے تو بچے کھچے پاکستان کی حکمرانی پیپلزپارٹی کے بانی قائد ذوالفقار علی بھٹو کو مل گئی۔ ان کے دور میں 1973ء کا آئین منظور ہوا جو اب تک متعدد ترامیم کے ساتھ نافذ العمل ہے اس آئین میں بھی ارکان پارلیمینٹ کے پارٹی بدلنے پر کوئی مؤثر قدغن نہیں تھی۔ اسمبلیوں پر بھی 58 ٹو بی کے تحت صدارتی اختیار کی تلوار لٹک رہی تھی۔ 1988ء، 1990ء، 1993ء کی اسمبلیاں اسی آئینی اختیار کے تحت تحلیل کی جا چکی تھیں۔ پھر میاں نوازشریف کا دوسرا دور حکومت آیا تو آئین میں چودہویں (14 ویں) ترمیم کے تحت ارکان پارلیمینٹ کے پارٹی بدلنے پر سخت پابندی لگا دی گئی۔ دوسرے 58 ٹو بی کے تحت اسمبلیاں توڑنے کا صدارتی اختیار ختم کر دیا گیا۔ 14 ویں آئینی ترمیم کے تحت پارٹی تبدیل (فلور کراسنگ) کی سزا یہ رکھی گئی کہ جو بھی رکن پارلیمینٹ پارٹی تبدیل کرے گا وہ اپنی نشست سے محروم ہو جائے گا۔ اس کا اختیار پارٹی سربراہ کو دیا گیا تھا کہ وہ پارٹی چھوڑنے یا تبدیل کرنے والے رکن پارلیمینٹ کی رپورٹ سپیکر یا چیئرمین کو کرے گا جو معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیجے گا اور الیکشن کمیشن اسے ڈی نوٹیفائی (رکنیت ختم) کر دے گا۔ سپیکر، چیئرمین یا الیکشن کمیشن کو پارٹی سربراہ کا فیصلہ روکنے یا تبدیل کرنے کا اختیار نہیں تھا۔ وہ تو عرف عام میں ڈاکخانے تھے فیصلہ پارٹی سربراہ کا حتمی تھا۔
پھر 15 ویں ترمیم آئی تو پارٹی سربراہ کے حتمی اختیار کو کچھ ڈھیلا کر دیا گیا۔ چودھویں ترمیم کے تحت آئین میں شامل کی گئی شق 63 اے میں کہا گیا تھا کہ اگر کوئی رکن پارلیمینٹ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرے، پارٹی فیصلے کے خلاف ووٹ دے یا غیر حاضر بھی رہے تو پارٹی سربراہ کے کہنے پر اس کو نشست سے محروم کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ کرنا بھی پارٹی سربراہ کا کام تھا کہ رکن موصوف نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔ پھر جنرل پرویز مشرف کا دور آیا تو انہوں نے سترہویں (17 ویں) آئینی ترمیم کے تحت شق 63 اے میں تبدیلی کر دی۔ اس کے تحت صرف دو صورتوں میں رکن پارلیمینٹ کی رکنیت ختم کرائی جا سکے گی۔ اول یہ کہ رکن اپنی پارٹی سے مستعفی ہو کر دوسری پارٹی میں شمولیت اختیار کرے یا وہ قائد ایوان کے انتخاب اور بحث منظوری میں پارٹی فیصلے کے خلاف ووٹ دے یا غیر حاضر رہے اب عام قانون سازی میں پارٹی فیصلے کی خلاف ورزی پر رکنیت ختم نہیں ہوتی۔
اس پر مستزادیہ کہ الیکشن کمیشن کو اس طرح کی سفارش منظور یا مسترد کرنے کا اختیار بھی مل گیا۔ یوں 63 اے کا ڈنگ نکال دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سال جب صوبائی حلقہ پی پی 189 (شرقپور) سے ایم پی اے میاں جلیل احمد شرقپوری نے پارٹی قیادت پر تنقید کی اور وزیر اعلیٰ سے ملاقاتیں کیں تو پارٹی قیادت انہیں نشست سے محروم کرانے کی کارروائی نہ کر سکی۔ یہ سب کچھ ہمیں اب یوں یاد آیا کہ گزشتہ روز ضلع مظفر گڑھ کے صوبائی حلقہ پی پی 269 (چوک سرور شہید) سے (ن) لیگی ایم پی اے اظہر عباس چانڈیہ کے حوالے سے اخبارات میں خبر شائع ہوئی کہ انہوں نے حکمران تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی ہے پسماندہ دیہی علاقے سے منتخب ایم پی اے اظہر چانڈیہ پہلی بار گزشتہ انتخابات (2018ء) میں ایم پی اے منتخب ہوئے۔
ان کا سیاسی کیریئر اس سے زیادہ نہیں ہے کہ وہ ہنجرا گروپ کے فرنٹ مین تھے اور ان کا بیٹا یونین کونسل کا چیئرمین رہا تھا۔ ان کا شمار ایم پی ایز کے اسی مختصر گروپ میں ہے جو اپنے علاقوں کے لئے فنڈز کے حصول کے لئے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے ملتے رہے۔ انہیں (ن) لیگ نے اظہار وجوہ کے نوٹس دیئے تو انہوں نے پارٹی سے معافی مانگ لی اور آئندہ کے لئے وفاداری کا وعدہ کر لیا۔ اس ”واردات“ سے وہ وزیر اعلیٰ سے بھاری ترقیاتی فنڈز لینے میں کامیاب رہے۔ اب بھی انہوں نے چوک سرور شہید کے نواحی دیہی علاقے میں کسی تقریب میں تحریک انصاف میں شمولیت کے اعلان کی خبر چلوائی ہے۔ اس پر ان کے گروپ کے سربراہ احمد یار ہنجرا کا بیان بھی چلوا دیا گیا کہ وہ (چانڈیہ) مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر جیتے تھے۔ یہ نشست مسلم لیگ (ن) کی ہے اس لئے وہ نشست سے بھی مستعفی ہوں۔ ان کے قریبی حلقوں کا خیال ہے کہ یہ خبر بھی وزیر اعلیٰ سے مزید فنڈز لینے کا حربہ ہے۔ وہ جلد ہی ایک بار پھر تردید کرتے ہوئے معذرت کر دیں گے۔ اس بار البتہ ان کے گروپ لیڈر احمد یار ہنجرا بھی ان کی حکمت عملی میں شامل ہو کر ان کا نرخ بڑھانے میں معاون ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ اگر یہ خبر درست نکلی تو سمجھ لیں کہ الیکشن قبل از وقت ہونے کی افواہوں میں جان ہے۔ نشست سے محرومی کے قانون کی موجودگی میں پارٹی بدلنے کے بارے میں سوچنا الیکشن کے قریب ہی ہو سکتا ہے۔
ایک تو نشست سے محرومی کی کارروائی کا وقت نہیں بچتا دوسرے مطلوبہ حکمران جماعت کا ٹکٹ ملنے کے امکانات روشن ہوتے ہیں۔ اس بار البتہ ایک بات اظہر عباس چانڈیہ کے سوچنے کی ہے کہ مہنگائی کے طوفان نے انصافی مقبولیت کے خیمے کی طنابیں ڈھیلی کر دی ہیں۔ آئندہ انتخابات میں لیگی ٹکٹ چھوڑ کر انصافی ٹکٹ لینے کا سودا گھاٹے کا تو نہیں ہوگا؟ پھر مقامی طور پر بھی ہنجرا گروپ ان کا مربی و محسن ہونے کے ساتھ ساتھ ابھی بھی با اثر سیاسی گروپ ہے اس کی حمایت سے محروم ہو کر ان کی سیاست کا وزن کیا رہ جائے گا۔ روایتی طور پر بھی دیہی علاقوں میں قومی سیاسی جماعت سے بڑھ کر علاقائی گروپ کا اثر و رسوخ چلا آ رہا ہے۔ اگر سیاسی جماعتوں کا عمل دخل ان کے حلقے میں معنی رکھتا ہو تب بھی تحریک انصاف نے ایسا کون سا کارنامہ انجام دیا ہے جو اس کے ٹکٹ کو کامیابی کی ضمانت سمجھ لیا جائے۔ جہاں تک سردار عثمان بزدار کا تعلق ہے تو وہ کسی حلقے کے ترقیاتی کاموں کے لئے فنڈز دینے کی حد تک تو کار آمد ہو سکتے ہیں مگر انتخابی عمل میں ان کا کوئی کردار ان کے آبائی حلقے سے باہر نظر نہیں آتا۔ پھر بھی اگر اظہر عباس چانڈیہ گاڑی تبدیل کرنے پر تل جائیں کوئی کیا کر سکتا ہے۔ سوائے دعا کے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker