وہ ہیں ناں اپنے شانی شاہ صاحب، کافی دنوں سے غائب تھے ہم بھی ان کی عقل و دانش سے بھرپور باتیں سننے کو ترس گئے تھے کہ اچانک ٹہلتے ہوئے نمودار ہوئے۔ وضع قطع میں کوئی تبدیلی تھی نہ خیالات میں کوئی تغیر وہی امید بھرا لہجہ اور وہی توقعات سے بھری جھولی۔ اِدھر عام عوام کی طرح ہم مایوس بھی اور نالاں بھی۔ اور اب تو شانی شاہ کے چہرے سے چھلکتے اطمینان پر حیران بھی اور پریشان بھی ہو گئے۔ ان کی اطمینان اور سکون کو سنگدلی قرار دیتے ہوئے ان سے اس رویئے کی وجہ دریافت کر بیٹھے۔ وہاں تو گویا دبستان کھل گیا۔ حکومت کی ہر ناکامی پر وہ کوئی نہ کوئی توجیح لے آئے۔ پتہ چلا کہ عمران خان کے حامی تھے اور بدستور ہیں، تنگ آ کر ہم نے چیلنج کر دیاک ہ کپتان کی کوئی ایک خوبی بیان کر دیں۔ فرمانے لگے کہ بیسیوں خوبیاں ہیں۔ وہ خوش شکل ہے، خوش گفتار ہے، خوددار ہے، دیانتدار ہے، ڈٹ جاتا ہے کوئی سودے بازی نہیں کرتا۔ گھبراتا نہیں، دھوکہ نہیں دیتا، ہم نے یہیں پریشانی شاہ کو ٹوکا اور کہا کہ اول تو یہ سب کچھ اس طرح نہیں جس طرح آپ بیان کر رہے ہو دوسرے یہ کہ ان خوبیوں کا کوئی فائدہ عوام کو ہے؟ کہنے لگے کہ ایک تو تم لوگوں کو کاہلی (جلدی) بہت ہے۔ کپتان قوم کی بنیادیں پکی کر رہا ہے۔ اگلی ٹرم میں شاندار عمارت کھڑی کرے گا۔ عرض کی کہ اگلی ٹرم کس نے دیکھی ہے۔ یوں بھی کہاوت ہے کہ جو ”پنڈ ویکھے اور شہر وی ویکھے۔
“جو پہلی ٹرم میں کچھ نہیں کر سکا وہ دوسری ٹرم میں کیا کرے گا؟ ویسے آپ کو اگلی باری کا کیسے یقین ہے؟؟ شانی شاہ کہنے لگے کہ کپتان قسمت کا دھنی ہے۔ اس جیسی شاندار قسمت لے کر ہمارا کوئی سیاستدان نہیں آیا کرکٹ کے جس عالمی کپ نے عمران کو کپتان منوایا وہ تو ہم ہارے بیٹھے تھے۔ قسمت سے مشکل ٹیمیں خود ہار کر باہر ہو گئیں اور پھر قسمت سے بارش نے جنوبی افریقہ کو بھی باہر کر دیا۔ یہ بھی اس کی قسمت ہی تھی کہ 2018ء کے انتخابات سے قبل پانامہ، اقامہ اور حکم عدولی کے باعث میاں نوازشریف، یوسف رضا گیلانی نا اہلی کے گھاٹ اتر چکے تھے۔ قسمت نے میدان صاف کر دیا یہ بھی تو خوش قسمتی ہی ہے کہ سنگین الزامات لگتے رہے مگر عوام کے دل سے کپتان نہیں اترا۔ امریکی عدالت کے فیصلے سے لے کر ریحام خان کی کتاب تک جائیداد کی منی ٹریل سے لے کر توشہ خانے سے استفادے تک، فارن فنڈنگ کیس سے لے کر الیکشن کمیشن میں لٹکے دیگر معاملات تک سبھی مثالیں کپتان کی خوش قسمتی کی ہی تو ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک الزام بھی کسی اور سیاستدان پر آ جاتا تو اس کا دامن سیاست تار تار ہو جاتا۔ یہ عمران ہی ہے جو ان الزامات کے باوجود نہ صرف اقتدار کے تخت تک پہنچا بلکہ وہ اور اس کے ساتھی اگلے پانچ سال بھی حکومت کرنے کے امکانات ظاہر کر رہے ہیں۔
پھر اسے بھی تو کپتان کی خوش قسمتی ہی کہیں گے کہ جو اپوزیشن کل تک تحریک چلا کر ”حکومت گئی گئی“ کے نعرے لگا رہی تھی اس کی سب سے بڑی پارٹی مسلم لیگ (ن) کے قومی و صوبائی پارلیمانی رہنما، اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف نے 2023ء میں انتخابات تک حکومت کو گرین سگنل دیدیا ہے۔ دونوں باپ بیٹا سمجھدار ہیں۔ قومی و صوبائی اپوزیشن لیڈر کے طور پر جو پروٹوکول اور مراعات انہیں مل رہی ہیں وہ نئے انتخابات تک تو چلیں گی۔ اگر جلدی الیکشن ہو گئے تو اقتدار تو اقتدار اپوزیشن لیڈری بھی یقینی نہیں۔ انتخابات میں کچھ بھی ہو سکتا ہے اس لئے انجوائے کرنے کی مدت کیوں مختصر کی جائے۔ عرض کی ”اللہ خیر کرے“ عوام کا تو بھرکس نکل گیا ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری کے سبب ان کا جینا دوبھر ہو گیا ہے۔ پٹرول، بجلی، گیس کے نرخ حکومت خود بڑھاتی ہے۔ باقی چیزیں ان کے پیچھے مہنگی ہوتی چلی جاتی ہیں۔ مہنگائی کی وجہ سے عوام اس حکومت کو 2023ء تک برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ آپ اگلے پانچ سال بھی دینے کی بات کر رہے ہیں۔ یہ بات سن کر عزیزی شانی شاہ کے چہرے سے روایتی ہنسی غائب ہو گئی بتیسی چھپ گئی اور سنجیدگی طاری ہو گئی ہمارے اعتراض نہلے پر ایسا دہلا پھینکا کہ جس کی ہمیں قطعاً توقع نہ تھی کہنے لگے کہ مہنگائی اتنی نہیں ہے جتنا شور ہے۔
وضاحت ایک واقعہ بیان کر کے کی بتایا کہ بھٹو دور میں صوبہ سرحد سے جمعیت علمائے اسلام کے ایک درویش صفت ایم این اے مولانا غلام غوث ہزاروی ہوتے تھے۔ پارٹی کے سربراہ تو مولانا فضل الرحمن کے والد مولانا مفتی محمود تھے تاہم مولانا غلام غوث ہزاروی اپنے علم، مرتبے میں خاصے بلند تھے ان سے ایک بار ملاقات ہوئی تو عرض کی کہ مولانا زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔ مہنگائی نے جینا دوبھر کر دیا ہے۔ اپوزیشن میں ہونے کے باوجود کہنے گلے کہ مہنگائی اتنی نہیں بڑھی جتنی ہم نے اپنی ضروریات بڑھائی ہیں۔ مثال دے کر کہنے لگے کہ میرے گھر میں پہلے بھی روزانہ ایک روپے کی دال پکتی تھی (واہ کیا سستا زمانہ تھا) اب بھی ایک روپے کی دال پکتی ہے۔ فرق صرف یہ پڑا ہے کہ پہلے ہنڈیا میں پانی ذرا کم ڈالتے تھے اب ذرا زیادہ ڈال لیتے ہیں گزارہ ہو جاتا ہے۔ کھانا الحمدللہ کھایا جاتا ہے۔ بچوں کو دو وقت کی روٹی، سکول کی فیس، کتابیں، کاپیاں، یونیفارم دینا ڈراؤنا خواب بن رہا ہے۔ آپ دال میں پانی زیادہ ڈالنے کا مشورہ دے رہے ہو؟ ہماری تقریر شاید لمبی ہو جاتی۔ شانی شاہ نے کھنگورا مار کر چپ کرنے کا اشارہ کیا اور خود بولنے کا پوز بنا لیا۔ ”ہاں جی میں ایک بات بتانا بھول گیا تھا۔ جو ”ایک صفحہ“ 2018ء کے انتخابات سے پہلے وجود میں آیا تھا وہ بھی کپتان کی خوش قسمتی سے ابھی سلامت ہے۔ جب تک یہ صفحہ سلامت ہے کپتان کی قسمت کے صفحات پر اچھی خبریں، جنہیں خوش خبریاں بھی کہا جا سکتا ہے، تحریر ہوتی رہیں گی۔
سنو ایک پتے کی بات بتاؤں تم حکومت سے لڑ سکتے ہو۔ قانون کو چکر دے سکتے ہو۔ بعض اداروں کو بھی پریشان کر سکتے ہو پر اپنی بدقسمتی اور دوسرے کی خوش قسمتی سے جنگ نہیں کر سکتے۔ کپتان اس وقت خوش قسمتی کے بارہ گھوڑی رتھ پر سوار ہے۔ جب تک لگام نہ ٹوٹ جائے، کوئی پہیہ نہ نکل جائے، کوئی گھوڑا نہ بدک جائے، کسی حماقت ہے صفحہ نہ پھٹ جائے تب تک معاملات جوں کے توں رہیں گے۔ اس لئے آپ بھی خواہشات کے گھوڑے کو لگام دو، اپنے وسائل میں رہنا سیکھو، چادر کے مطابق پاؤں پھیلاؤ سکون میں رہو گے ورنہ کپتان کے پاس تو خوشحالی پھیلنے کی دلیل موجود ہے کہ اس سال ملک میں نئی نویلی گاڑیوں کی فروخت کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ ایک ایک گھر میں دس دس مہنگے اینڈرائیڈ موبائل فون ہیں، ہر نیا کھلنے والا ہوٹل رش لے رہا ہے۔ ایک سے ایک شاپنگ مال کھل رہے ہیں اور چل رہے ہیں۔ بس بس شاہ جی مان گئے کپتان واقعی خوش قسمت ہے۔ آپ جیسے حامیوں کیو جہ سے …… سلامت رہیں آپ اور آپ کا کپتان …… ساڈا کیہہ اے۔ اللہ ای اللہ۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)
فیس بک کمینٹ

