لاہور : پاکستان تحریک انصاف (پٌی ٹی آئی) کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور سیکریٹری جنرل اسد عمر سمیت دیگر سینئر قیادت جیل بھرو تحریک کے تحت لاہور میں گرفتاری دینے کے لیے زبردستی پولیس کی گاڑی میں سوار ہوگئے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ شاہ محمود قریشی، اسد عمر اور سینیٹر اعظم سواتی پولیس کی گاڑی میں بیٹھے ہوئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ’تحریک انصاف کی سینئر قیادت نے رضا کارانہ طور پر سب سے پہلے خود کو گرفتاری کے لیے پیش کر دیا لیکن گرفتار کرنے والے غائب ہیں‘۔
پی ٹی آئی کے قائدین زبردستی قیدیوں کی وین میں بیٹھ گئے لیکن پولیس کی جانب سے گرفتار کیے جانے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے ٹوئٹر پر جاری ویڈیو بیان میں کہا کہ ’کپتان کی کال پر جیل بھرو تحریک کی قیادت کرتے ہوئے وعدے کے مطابق پہلی گرفتاری دینا باعثِ فخر ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ تحریک تب تک جاری رہے گی جب تک امپورٹڈ حکومت ملک میں جاری لاقانونیت ختم نہیں کردیتی اور عوامی عدالت میں گزشتہ 10 ماہ کی تباہ کاریوں کا حساب نہیں دیتی‘۔
پی ٹی آئی کے نائب صدر فواد چوہدری نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ اب سے کچھ دیر پہلے شاہ محمود قریشی، اسد عمر، اعظم سواتی، عمر چیمہ اور بہت سارے دیگر لوگوں نے خود کو گرفتاری کے لیے پیش کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے 500 سے 700 کارکن اب تک گرفتاری کے لیے پیش ہوچکے ہیں، پولیس جو پوری تیاری کے ساتھ قیدیوں کی گاڑیاں لے کر آئی تھی وہاں ہزاروں لوگوں کو دیکھ کر پریشان ہے کہ انہوں نے آخر کرنا کیا ہے۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اس وقت سی سی پی او آفس اور چیئرنگ کراس کے سامنے تحریک انصاف کے کارکنان بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں جو گرفتاری کے لیے وہاں آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں پی ٹی آئی کے قائدین اور کارکنان کا اس ردعمل پر پارٹی کی طرف سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور یہ تحریک آگے بڑھے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ آج ہمارا مرکز لاہور ہے اور شام تک لاہور میں احتجاج جاری رہے گا، کل یہ احتجاج پشاور منتقل ہوجائے گا جہاں ہماری قیادت اور کارکنان گرفتاری دیں گے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ اس کے بعد راولپنڈی، فیصل آباد اور گجرانوالا اور پورے پاکستان میں یہ تحریک پھیلے گی اور اس وقت تک گرفتاریاں دینے کا سلسلہ جاری رہے گا جب تک ہم انتخابات کی طرف نہیں جاتے۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )

