کراچی ملک کی معیشت کا مرکز اور ملکی معیشت کو سب سے زیادہ سہارا دینے والا شہر ہے۔ کراچی واحد شہر ہے نہ یہ کسی ایک مخصوص قوم کی پہچان ہے اور نہ ہی کسی خاص زبان کی بنیاد پر اسے اپنی ملکيت سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ یہ پاکستان میں بسنے والے تمام اقوام اور زبان بولنے والے لوگوں کی مشترکہ شہر ہے۔
سندهی بولنے والے سے لیکر بلوچ، پٹھان، اردو بولنے والے لوگ، سرائيکی سمیت ہر کوئی اس شہر کو اپنا سمجھتا ہے۔ کراچی میں تمام اقوام اور لسان کے لوگوں کے لیے اپنائیت ہے۔
بدقسمتی سے کراچی کو گزشتہ دو دہائی سے زیادہ عرصے سے ایک مخصوص گروہ کی جانب سے یرغمال بنایا گیا ہے۔ اس لمبے عرصے میں سندھ پر حکمرانی کرنے والی پیپلز پارٹی نے اپنے ہر دور حکومت میں اس گروہ کو نہ صرف سپورٹ کیا ہے بلکہ اس گروہ کو ختم کرنے کے بجائے پنپنے کا بھر پور موقع بھی دیا ہے، جس کے باعث کراچی کی امن و امان مکمل تباہ ہوگئی ۔ اس لسانی گروہ کے کارندوں نے ملک کے جید علما۶ کرام کو شہید کیا گیا، سندهی ، بلوچ اور پٹھان قوم کے نوجوانوں اور بزرگوں کو سیاسی نظریات کے بنیاد پر ٹارگٹ کیا۔ کراچی کے نامور ادبی حلقوں، دنیا فن کے اچھے اور باصلاحیت لوگوں کو صفحہ ہستی سے ختم کرکے روشنیوں کے شہر کو تاریخی طورپر زبردست نقصان پہنچایا ۔
کراچی کی تاریخ میں بلدیاتی انتخابات کو کبھی بھی صاف اور شفاف بنیادوں پر کرنے نہیں دیا گیا۔ جس کی وجہ سے صحیح اور درست لوگوں کو نچلی سطح تک عوامی نماٸیندگی کا سرے سے موقع نہیں دیا گیا۔ صرف ایک دو دفعہ چھوٹے پیمانے پر دھاندلی کم ہوٸی تو جماعت اسلامی کے سابق امیر کراچی مرحوم نعمت اللہ خان بلدیاتی انتخابات میں کامیاب قرار پاٸے اور کراچی کے مٸیر بن گٸے۔ کراچی کی تاریخ میں مرحوم نعمت اللہ خان نے تاریخی ترقياتی کام بھی کرلیے۔
کراچی کو لسانی بنیادوں پر ایک ایسے مافيا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا، بوری بند لاشيں ، اسٹریٹ کراٸم، منشيات اور پوليس مقابلے جیسے واردات کراچی جیسے شہر کے پہچان بن گٸے۔ کراچی حالانکہ عبدالستار ایدھی، رمضان چھیپا اور سیلانی جیسے لوگوں کا شہر ہے لیکن ہمارے مقتدر قوتوں نے اس شہر کو کیا سے کیا بنا دیا ۔
اب ایک مرتبہ پھر کراچی کو قوميت اور زبان کے نام پر تقسيم کرنے ،،مارو اور حکمرانی کرو،، کے پاليسی کے تحت متحدہ قومی مومنٹ MQM کو منظم کرنے سازش مکمل کی جارہی ہے۔
15جنوری 2023 کو کراچی سمیت اندرون سندھ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں مکمل ہیں۔ مگر پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی مومنٹ نے ہر حال میں جماعت اسلامی پر وار کرکے بلدیاتی انتخابات ہر صورت میں منسوخ کرنے کا تہیہ کرلیا ہے۔ چونکہ کراچی میں موجودہ صورتحال میں جماعت اسلامی واحد سیاسی و مذہبی جماعت ہے جس کا پوزیشن تمام پارٹيوں کے مقابلے میں مضبوط اور مستحکم ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ بھی جماعت اسلامی کے سماجی تنظيم خدمت خلق کے کام ہیں۔ اس لیے پیپلز پارٹی اور دیگر قوتوں کی ایما پر متحدہ قومی مومنٹ کے دیگر بکھرے ہوئے حصوں پاک سرزمين پارٹی ، حقيقی ،ڈاکٹر فاروق ستار وغيرہ کو ایک جگہ پر اکھٹا کیا جارہا ہے، تاکہ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کو عوامی سیاست سے دور دھکیل کر کراچی کو غنڈا راج کے حوالے کیا جائے ، وہی بوری بند لاشوں اور اسٹریٹ کرائم کو جاری رکھا جائے ۔
پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی مومنٹ کا اندرون خانہ پروگرام اور مشن ایک ہے، اس بنیاد پر سندھ کی صوبائی حکومت بلدیاتی انتخابات سے گریزاں ہے۔
الیکشن کمیشن ایک غیر جانب دار آئینی ادارے کی پاس رکھتے ہوئے ریاستی اداروں کی مکمل سپورٹ و تعاون سے سندھ میں شیڈول کے مطابق 15 جنوری سے بلدیاتی انتخابات صاف و شفاف انداز میں یقينی بنائے ، تاکہ عوامی مینڈیٹ پر کسی کو قوميت اور لسانیت کے نام پر کچلنے کا موقع نہ ملے
فیس بک کمینٹ

