(عدنان فاروق قریشی سے )نشتر ہسپتال کے فورنزک ڈیپارٹمنٹ میں ڈاکٹرز کی عدم دستیابی کے باعث لڑائی جھگڑوں کے میڈیکو لیگل اور پوسٹمارٹم بروقت نہ ہونے سے شہریوں اور پولیس کو سخت پریشانی کا سامنا ہے ۔
ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کی عملہ کو گالیاں،عملہ نے کام چھوڑنے کی دھمکی دے دی۔معلوم ہوا ہے کہ نشتر ہسپتال کے فورنزک ڈیپارٹمنٹ کے مستقل ڈاکٹرز عامر قیوم خان،مختیار اور ناصر جاوید چوہدری تقریباً 5ماہ قبل ریٹائر ہوگئے تھے لیکن نشتر انتظامیہ نے تاحال ان کی جگہ پر کسی ڈاکٹر کو مستقل تعینات نہیں کیا ہے۔مستقل ڈاکٹرز تعینات نہ ہونے کی وجہ سے ملتان کے 32تھانوں میں ہونے والے مختلف لڑائی جھگڑوں کے واقعات اور قتل ہونے والوں کے بروقت میڈیکو لیگل نہیں ہو رہے جسکی وجہ سے فورنزک ڈیپارٹمنٹ کے عملہ کی آئے روز پولیس اہلکاروں اور میڈیکو لیگل کے لیے آنیوالے شہریوں کے مابین جھگڑوں کے واقعات عام ہو گئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فورنزک کے عملہ نے ڈاکٹرز کی عدم دستیابی کے بارے میں جب ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ شفیق اللہ چوہدری سے رابطہ کیا تو مذکورہ ہیڈ نے عملہ کو برا بھلا کہنا شروع کردیا۔
ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کے اس رویہ پر فورنزک عملہ نے ہسپتال انتظامیہ کو ہڑتال کی دھمکی دے دی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ گالیاں کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی۔ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر شفیق اللہ چوہدری نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ انہوں نے فورنزک عملہ کو رپورٹس بروقت تیار کرنے کا حکم دیا تھا جو انہیں ناگوار گزرا اور انہوں نے مجھ پر گالیاں دینے کا الزام لگا دیا۔ڈاکٹروں کی مستقل تعیناتی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر افنان اور ڈاکٹر جنید ریاض کے آرڈر کروا لیے ہیں جلد وہ چارج سنبھال کر کام شروع کردینگے ۔
فیس بک کمینٹ

