گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نےعبداللہ ہارون روڈ ، ایوان صدر روڈ اور دین محمد وفائی روڈ کے سنگم پرواقع کراچی پریس کلب چوک (سابقہ فوارہ چوک) کا افتتاح کردیا ۔ گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ فوارہ چوک کے نام کی تبدیلی کراچی پریس کلب کے نومنتخب عہدیداروں کی درخواست پر کی گئی ہے اس کا مقصد کراچی پریس کلب کی جمہوری جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنا ہے ۔
کراچی میں برطانوی دور کی یادگارعمارتوں گورنر ہاوس اور ہولی ٹرینٹی چرچ کے درمیان چورنگی پرانیس سو ساٹھ کی دہائی میں میوزیکل فوارہ تعمیر کیا گیا تھا،جو سابق صدر ایوب خان نے خاص طور پرامریکی صدر ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور کے استقبال کے لیے بنوایا تھا ۔ ایوب خان کی دعوت پر امریکی صدر آئزن ہاور دسمبر 1959 میں پاکستان کے دورے پر پہنچے تھے ۔
میوزیکل فوارے کے حوالے سے کتاب ایسا تھا میرا کراچی کے مصنف محمد سعید جاوید لکھتے ہیں کہ امریکی صدر آئزن ہاور کا قافلہ ہوائی اڈے سے نکلا اور ڈرگ روڈ سے میٹرو پول ہوتا ہوا اس طرف آیا تھا۔ صدر آئزن ہاور اور صدر ایوب خان ایک کھلی کار میں کھڑے تھے اور ہاتھ ہلاہلا کر لوگوں کے نعروں کا جواب دے رہے تھے۔معزز مہمان کے آنے پر تالیاں بجائیں گئیں اور زندہ باد کے نعرے لگائے گئے تھے اور چھوٹے چھوٹے امریکی اور پاکستانی جھنڈے لہرائے گئے تھے ۔جب دونوں ممالک کے صدر فوارے چوک کے قریب پہنچے تو خاص طور پر اس خوبصورت فوارے کا پورا چکر لگوایا گیا تھا جس میں سے اس وقت بلند آواز میں کوئی مغربی موسیقی بج رہی تھی، وہ لکھتے ہیں کہ کسی وجہ سے اس کی موسیقی بند ہو جاتی تو میوزیکل فوارے کے ساتھ لگی چھوٹی سی کھڑکی میں جاکر اس کو ٹھیک کیا جاتا تھا ۔
جولائی 1973 میں،امریکا کے چاند پر بھیجے جانے والے آخری مشن اپولو17کے خلابازوں کو حکومت پاکستان نے مدعو کیا تھا کراچی پہنچنے پر ان خلابازوں کے اعزاز میں موٹر گاڑیوں کا ایک استقبالی جلوس نکالا گیا تھا جو کلفٹن روڈ سے شروع ہوکر براستہ عبداللہ ہارون روڈ ٹاور کے علاقے میں ختم ہوا تھا ۔ اپولو مشن کے خلا بازوں کو بھی میوزیکل فاونٹین کا دورہ کرایا گیا تھا اوریہاں ایک استقبالیہ بینر لگا تھا جس پر اردو میں لکھا تھا کہ اپولو17کے خلا پیماوں کو خوش آمدید، تاہم دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے میوزیکل فاونٹین پر رفتہ رفتہ دھول جمتی رہی اور وہ خراب ہوگیا اور اس کو وہاں سے اکھاڑ کر چوک کو ہموار کر دیا گیا ۔
1960 اور 1970کی دہائی میں کراچی کے لوگوں کے لیے میوزیکل فاؤنٹین ایک یادگار خوبصورت تفریحی مقام تھا جہاں لوگ اپنے خاندان کے ساتھ آکرتصاویر بنواتے اور ہوا کے جھونکوں سے لطف اندوز ہوتے تھے ۔1987ء میں چورنگی کی از سر نو تزین و آرائش کی گئی اور اس کا نام جناح فاؤنڈیشن کردیا گیا تھا اس سلسلے میں باقاعدہ ایک تقریب منعقد کی گئی تھی ۔ سنگ بنیاد کا پتھرسابق گورنر کمال اظفرنے نصب کیا تھا جبکہ چورنگی کا افتتاح سابق وزیر اعلیٰ لیاقت علی جتوئی نے کیا ۔ فوارہ چوک پر مریم عبداللہ اور ارشد عبداللہ کے نام کی تختیاں بھی نصب رہ چکی ہیں۔
فیس بک کمینٹ

