خالد اقبال سے میری پہلی ملاقات دوستی کے موسم میں ہوئی ۔ یہ وہی موسم تھا جب شہر کی ایک سڑک پر ایک شرمیلے نو جوان نے سائیکل روک کر مجھ سے وقت معلوم کیا پہلی نظر میں مجھے یوں لگا کہ جیسے یہ ابھی مجھ سے مسجد کا چندہ مانگ لے گا ۔ میں دو قدم پیچھے ہٹنے کا سوچ ہی رہاتھا کہ اس نے بتایا کہ وہ اسلام تبسم ہے،انشائیے لکھتا ہے اور بڑا ہوکر ڈاکخانے میں ملازمت کرنا چاہتا ہے ۔اسی موسم میں مجھے دبلے پتلے خوبصورت آنکھوں والے شاکر حسین شاکر نے خونی برج چوک میں گنے کا رس پلاتے ہوئے بتایا کہ وہ جنگ کراچی میں ایس ایچ حیدر کے قلمی نام سے ملتان کی ادبی سرگرمیوں کی روداد لکھتا ہے اور کالم میں اپنے چچا کا ذکر اس لئے نہیں کرتا کہ وہ شاعر ہونے کے باوجود اسے شاعری سے روکتے ہیں ۔
یہی دہ موسم تھا جب ایک اخبار کے دفتر میں اطہر ناسک اور دوسرے میں ظہیر کمال سے ملاقات ہوئی ۔ اسی دور میں طفیل ابن گل کے ساتھ ملاقات ہوئی ۔ میں نے بتایا ناں ! کہ یہ دوستی کا موسم تھا۔ بہت خوبصورت دور تھا۔ دوستیاں اور تعلق کسی لالچ اور مفاد کے بغیر قائم ہوتے تھے ۔ ہم میں سے کوئی بھی آسودہ نہیں تھا لیکن اس کے باوجود ہم بہت مطمئن رہتے تھے۔ ہم عمر کے اس حصے میں تھے کہ جب ہمیں دوستوں کو ڈرائنگ روم میں بٹھانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی اور اجازت کیا ہوتی ہم میں سے بہت سوں کے گھر وں میں تو ڈرائینگ روم تھا ہی نہیں۔ ہم گلی کی کسی نکڑپر ، کسی درخت کی چھاؤں میں ، کسی بک سٹال پر یا کسی ٹی سٹال کے باہر ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ۔ گھنٹوں ایک دوسرے کے ساتھ باتیں کرتے ۔ ایک دوسرے کو چھوڑ نے کے بہانے اس کے گھر تک جاتے ۔ سائیکل ہمارے پاس ہوتے تھے۔مگر سائیکل پر بیٹھتے نہیں اسے اپنے ساتھ پیدل گھسیٹتے تھے تا کہ رفاقت طویل ہوجاۓ اور ہم اپنی گفتگومکمل کر سکیں۔ مگر گفتگو تھی کہ مکمل ہی نہ ہوتی تھی۔ اور مکمل کیسے ہوتی ہمیں صرف ادب پر گفتگو تو نہ کر نا ہوتی تھی۔ ہم نے تو ایک دوسرے کو یہ بھی بتانا ہوتا تھا کہ ہم نے کون سا چہرہ کب اور کہاں دیکھا ہے؟ اور کس کی گلی کا کتنی بار چکر لگایا ہے اور جس اخبار میں ہماری تصویر شائع ہوئی ہے وہ اخبار اس کے بھائی سے نظر بچا کر ہم خود اس کے گھر میں ڈال آۓ ہیں کہ ہاکر نے تو پچھلی مرتبہ پیسے لینے کے باوجود اخبار ڈالا ہی نہیں تھا۔ بتایا ناں کہ وہ رفاقتوں کا موسم تھا محبتوں کا موسم تھا، دلوں کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے کا موسم تھا ایسا موسم کہ جب ہم خود کو خوبصورت سمجھتے تھے۔
شہر کی کسی نہ کسی سڑک پر خالد اقبال کے ساتھ میری ملاقات روزانہ ہوتی تھی ۔ سڑک پر ملاقات نہ ہوتی تو ہم بہانے سے ایک دوسرے کے گھر پہنچ جاتے تھے ۔سٹی سٹیشن سے ممتاز آباد کی طرف جاتے ہوۓ ریلوے لائن کے بالکل ساتھ ایک نیلے رنگ کا دروازہ تھا جس پر میں ہمیشہ اس یقین کے ساتھ دستک دیتاتھا کہ خالد اقبال گھر پر موجود ہوگا ۔ اور وہ موجود ہوتا تھا۔ اس سے تھوڑا سا آگے ایک کریانے کی دکان تھی اس کے باہر ایک لکڑی کابینچ ہوتا تھا کہ جس پر ہم بیٹھتے تھے ادب سے لے کر محبت تک ہرقسم کے موضوعات پر گھنٹوں بحث کرتے تھے ۔ بینچ پر دھوپ آتی تو ہم اسے دیوار کی طرف کھسکاتے جاتے حتیٰ کہ چھاؤں بالکل ختم ہو جاتی ۔ کریانے والے سے خالد اقبال کے بہت اچھے تعلقات تھے اس کے پاس بوتلیں موجود ہوتی تھیں لیکن وہ خالد کے کہنے پر بھی اس کے مہمانوں کی تواضع نہ کر تا تھا۔ کتنا اچھا دور تھا کہ ہم بھوکے پیاسے گھنٹوں ایک دوسرے سے باتیں کرتے اور ایک دوسرے سے بیزار نہ ہوتے تھے ۔ ہمیں کہیں وقت پر پہنچنے کی جلدی نہ ہوتی تھی ۔
خالد کو اس کے والدین اکا ؤنٹنٹ قسم کی چیز بنانا چاہتے تھے۔ وہ بی کام کا طالب علم تھالیکن بی کام آخر کب تک اس کا ساتھ دیتی ۔اس نے خود بھی انتہائی سنجیدگی کے ساتھ کم از کم دومرتبہ امتحان پاس کرنے کی کوشش کی مگر جسے بارہ آنے کا اخبار لینے کے بعد بک سٹال والے سے اٹھنی واپس مانگنے کی عادت ہو وہ بھلا بی کام کیسے کرسکتا تھا۔ اور بی کام ایسے لوگوں کے کا م بھی نہیں آتی ۔انہی دنوں خالد اقبال نے ’بزم دوستاں‘ کی داغ بیل بھی ڈالی مگر جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے بات ایک آدھ تقریب سے آگے نہ بڑھ سکی ۔ خالد اقبال تب بھی کہا کرتا تھا ” بھائی یہ تقریبات کرانا غیر تخلیقی لوگوں کا کام ہے، ہم تو بس انشائیے لکھیں گے ، طنز و مزاح لکھیں گے، ادب تخلیق کریں گے ۔لیکن ہمارے ادب کو ان دنوں ادب مانتا کون تھا ؟ ادب تو دور کی بات ہے لوگ اسے ” ہمارا مانے“ کو بھی تیار نہیں تھے مضمون ہم لکھتے داد کوئی اور وصول کرتا ،غزل ہماری ہوتی مشاعرے میں کن اکھیوں کے ساتھ تعریف کسی اور کی کی جاتی ۔اس قسم کے ماحول میں وہ” دخل در معقولات “ کے نام سے اپنے انشائیوں اور مزاحیہ مضامین کا مجموعہ لے آیا۔ ” دخل در معقولات“ کی اشاعت ان دنوں ہوئی جب انشائیے کا محاذ خوب گرم تھا۔ دو دبستانوں کی لڑائی عروج پرتھی اور انشائیے کی نت نئی تعریفیں وضع کی جارہی تھیں ۔لیکن خالد نے اپنے لئے یہ راہ تراشی اس کے انشائیوں کی پذیرائی بھی ہوتی لیکن پھر اس کی زندگی میں ایک موڑ آیا کہ اس نے یکدم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر خاموشی اختیار کرلی ۔ ایم اے کیا اور ریڈیو پروڈیوسر بن گیا ۔ حالات کی ستم ظریفی دیکھیں کہ جو خالد اقبال ادبی تقریبات کے انعقاد کو غیر تخلیقی کام سمجھتا تھا اسے ہر ہفتے ریڈیو پروگرام ترتیب دینا پڑ گئے ریڈیو پر آ کر اس کے اندر کا شاعر پیدا ہوا اس کے شعری مجموعے منظر عام پر آئے ۔ اس نے اپنی ماں بولی کو ذریعہ اظہار بنایا اور بہت مختصر وقت میں سرائیکی مشاعروں
میں اپنا مقام بنالیا۔ خالد اقبال اب تلاش گمشدہ کے نام سے اپنے مضامین اور کالموں کا دوسرا مجموعہ ترتیب دے رہا ہے ۔ یہ کالم روز نامہ دن میں شائع ہوئے اور قارئین نے اس کی جو پذیرائی کی میں اس کا عینی شاہد ہوں ۔ ” تلاش گمشدہ“ میں در اصل ایک مسلسل تلاش کی کیفیت ہی ہے ۔ کھوئی ہوئی قدروں کی تلاش گم ہو جانے والے خلوص کی تلاش ، رواداری اور محبت کی تلاش ، اسی موسم کی تلاش کہ جب ہم سب کسی لا لچ اور مفاد کے بغیر ایک دوسرے سے ملا کرتے تھے، جب سامنے سے کسی کو آتا دیکھ کر کوئی راستہ نہ بدلتا تھا۔
یہ ایک طرح سے اس کی اپنی تلاش کا بھی عمل ہے ۔ خالد نے ان کالموں کے ذریعے خود کو تلاش کیا ہے ۔ 1985 ء میں دخل در معقولات کی اشاعت کے بعد خالد اقبال نے بعض سینئرز کے رویے کے نتیجے میں جس تخلیق کار کوخود کھو دینے کی کوشش کی تھی” تلاش گمشدہ“ اسی تخلیق کار کی بازیافت کاعمل ہے ۔ ایک خوبصورت مزاح نگار جو خالد اقبال میں چھپا بیٹھا ہے ۔ایک ایسا مزاح نگار جواپنی تحریرکو پھکڑ پن کی سطح نہیں آنے دیتا۔ ایک ایسا طنز نگار کہ جوطنز کرتا ہے تو کسی کی دل آزاری نہیں ہونے دیتا۔ ہمارے گردو پیش میں اتنے بہت سے کردار اور اتنے بہت سے موضوعات ہیں کہ اگر ان پر غور کیا جائے تو بہت سے شہ پارے جنم لیتے ہیں ۔ خالی جیب بمقابلہ ہری بھری جیب ، تحفے تحائف ، شکوہ ۔مانگنا اور سبز باغ ہاؤ سنگ سکیم اس کے ایسے کالم ہیں جن میں ایسے معاشرتی رویوں کو موضوع بنا یا گیا ہے جو بسا اوقات مضحک صورت اختیار کر جاتے ہیں ۔ گدھے کہیں کے ،شعر و شاعری ،الٹے مشورے ، پیر پھو کے شاہ اور کلاسیفائیڈ اشتہارات میں مزاح کا عنصر نمایاں ہے۔ ان کالموں میں بعض مقامات پر کرداروں اور بعض جگہ پیروڈی کی مدد سے نئی معنویت پیدا کی گئی ہے۔ کالم نگار کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس نے ایسے موضوعات پر قلم اٹھانے سے گریز کیا کہ جو وقت گزرنے کے ساتھ ہی آؤٹ آف ڈیٹ ہو جاتے ہیں ۔اخباری کالموں میں یہ مسئلہ عموما در پیش رہتا ہے کہ قاری کو مطالعے کے دوران سیاق و سباق بھی تلاش کرنا پڑتا ہے ۔ خالد اقبال کے کالموں میں ادبی رنگ نمایاں ہے اور یہی خوبی اس کے کالموں کو آؤٹ آف ڈیٹ نہیں ہونے دیتی ۔
یہ کالم ایک خوبصورت اضافہ میں لیکن اس کے ساتھ ہی ایک دھڑ کا یہ بھی ہے کہ کیا خالد اقبال نثر کے میدان میں اپنا تخلیقی سفر جاری رکھے گا ؟ کیا ہمیں اس کے مجموعے کے لئے مزید کئی برس انتظار کرنا پڑے گا یا اس مرتبہ مجموعوں کی اشاعت کا درمیانی وقفہ کم ہو جاۓ گا ۔ اس کا جواب تو ظاہر ہے خالد اقبال ہی دے سکتا ہے ۔ خالد اقبال جسے گم ہو جانے اور پھر خود کو تلاش کرنے کی عادت ہے کبھی کبھی تو وہ مجھے خالد ا قبال نہیں خالد .. اک بال دکھائی دیتا ہے۔
( سال 2000ء میں لکھا گیایہ خاکہ کتاب آدھا سچ ۔۔مطبوعہ 2005 ء میں شامل ہے )
فیس بک کمینٹ

