خالد مسعود خانکالملکھاری

کرکٹ ٹیم سے کابینہ تک!۔۔خالد مسعودخان

ایمانداری کی بات ہے کہ مجھے کرکٹ سے رتی برابر دلچسپی نہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ پاکستان 1992 ء کا ورلڈ کپ جیت گیا تھا ‘بلکہ اس کی وجوہات بالکل مختلف ہیں۔
تمہارے وصل سے یہ راز تو کھلا مجھ پر
کہ مجھ کو ہجر جو لاحق ہے وہ تمہارا نہیں
اسی دلچسپی نہ ہونے کے باعث مجھے پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے نام تو شاید دوچار آتے ہوں‘ مگر کسی کی شکل نہیں پہچانتا۔ ایک منہ کھولے ہوئے‘ نعرہ مارتے ہوئے کسی شخص کی پاکستانی ٹیم کی وردی میں فوٹو دوچار لوگوں نے پوسٹ کر دی تو قسم ہے بالکل نہ پہچانا کہ یہ صاحب کون ہیں۔ کل ‘کسی نے اسی تصویر کے ساتھ عمران خان کی فوٹو لگا کر 1992ء کے ورلڈ کپ کی ہارجیت کا ٹیبل بنا کر موجودہ ورلڈ کپ کی ہارجیت کا حساب بتا کر لکھا کہ 2045ء میں موجودہ کپتان سرفراز احمد پاکستان کا وزیراعظم ہوگا۔ میں تب پہچانا کہ گزشتہ چند دن سے جس شخص کی تصویر میں دیکھ رہا تھا اور پہچان نہیں پا رہا تھا کہ وہ کون ہے۔ وہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا موجودہ کپتان ہے۔ اب ‘جہاں یہ عالم ہو کہ بندہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان کو بھی نہ پہچانتا ہو ‘بھلا اسے کیا خبر کہ افغانستان ٹیم کا کھلاڑی کون ہے؟ کل میرے بھانجے علی برہان نے مجھے ایک ویڈیو کلپ بھجوایا ہے۔ اس میں ایک افغانی‘ اب خبر نہیں کہ وہ افغانستان کی ٹیم کا کھلاڑی ہے‘ کوئی آفیشل ہے یا محض تماشائی‘ لیکن وہ کلپ ایک سوچ کی‘ ایک ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس میں وہ افغانی بڑی رواں انگریزی میں (اس سے مجھے گمان ہوتا ہے کہ وہ کوئی برطانیہ میں رہائشی افغان تماشائی ہو سکتا ہے) بھارتی اور پاکستانی کرکٹ کے بارے میں اپنے نظریات کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی میڈیا کو کہہ رہا تھا کہ ”انڈیا افغانستان بھائی بھائی: ٹارگٹ پاکستان‘‘۔ یہ کہہ کر وہ تالیاں بجاتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ ”ہم اٹھائیس جون کو Crush The Babiesیعنی بچونگڑوں کو کچل دیں گے۔ عشروں تک تیس لاکھ سے زائد مہاجرین کی میزبانی کا یہ صلہ ملنا تھا؟ اس میزبانی نے ہماری سماجی‘ معاشرتی اور معاشی بناوٹ کو جس طرح تباہ و برباد کیا‘ اسے ہم آج بھی بھگت رہے ہیں اور خدا جانے کب تک بھگتیں گے۔
کسی نے سوال کیا کہ اگر پاکستانی کرکٹ اگلے سارے میچ جیت جائے تو کیا وہ سیمی فائنل تک پہنچ سکتی ہے؟ جواب ملا‘ سیمی فائنل کا تو پتا نہیں؛ البتہ پاکستانی ٹیم واپس لاہور جانے کے قابل ضرور رہ جائے گی۔ پاکستانی ٹیم کے جنوبی افریقہ سے جیتنے کے بھی بڑے لطیفے بنے اور یار لوگوں نے اس پر بڑی روشنی ڈالی کہ ٹیم یہ میچ کیسے جیتی؟ کہتے ہیں کہ ایک نابینا شخص تھا اور لوگوں کی حاجات پوری کرنے کی دعائیں کرتا تھا۔ بادشاہ نے اسے کہا کہ تم لوگوں کی حاجات پوری کرنے کیلئے دعائیں کرتے ہو‘ اپنی آنکھوں کی روشنی کیلئے کیوں دعا نہیں کرتے؟ جب تمہاری دعائیں لوگوں کے حق میں قبول ہوتی ہیں تو پھر خود تمہارے لئے قبول کیوں نہ ہوگی؟ بادشاہ نے کہا کہ اگر تمہاری دعاؤں کی قبولیت بارے واقعتاً کچھ سچائی ہے تو پھر تم اپنی یہ سچائی ثابت کرو۔ نابینا شخص اپنی آنکھوں کی روشنائی کیلئے عرصہ دراز سے دعائیں کر رہا تھا‘ مگر قبول نہ ہو پا رہی تھیں۔ بادشاہ نے اسے چالیس دن کا وقت دیا اور کہا کہ اگر چالیس یوم میں تمہاری دعائیں قبول نہ ہوئیں تو میں تمہاری گردن مار دوں گا۔اس نابینا شخص نے اتنی شدت اور شد و مد کے ساتھ دعائیں کی کہ عین چالیسویں دن اس کی بینائی بحال ہو گئی۔ کسی نے بادشاہ سے وجہ پوچھی کہ اس کو آپ نے چالیس یوم کی مدت کا پابند کرتے ہوئے موت کے گھاٹ اتارنے کا حکم کیوں دیا؟ بادشاہ کہنے لگا: دراصل اس کی دعا میں وہ لگن اور گڑگڑانا نہیں تھا ‘جو دعا کی قبولیت کیلئے ضروری ہے۔ اس نے موت کے خوف سے جس لگن‘ خلوص‘ خوف اور عاجزی سے دعائیں مانگیں‘ ان کی قبولیت کے راستے میں کوئی چیز مزاحم نہیں ہو سکتی تھی۔ سو‘ اس کی دعائیں رنگ لائیں اور اس کی بینائی واپس آ گئی۔ سو‘ کرکٹ ٹیم کے جیتنے میں بھی یہی حکمت کارفرما تھی۔
کچھ جذباتی لوگ بھارت سے میچ ہارنے کے بعد پاکستانی ٹیم پر بری طرح برس رہے تھے۔ ایسی ایسی نادر روزگار قسم کی ”خوش کلامیاں‘‘ سننے کو ملیں کہ چاروں طبق روشن ہو گئے۔ دراصل بھارت سے اس بری طرح ہارنے پر پاکستانیوں کا غصہ اپنی جگہ بجا ہے۔ خاص طور پر بیرون پاکستان رہنے والے پاکستانیوں کو بھارتی ‘جس طرح طعنے مار مار کر ذلیل کرتے ہیں‘ ہم پاکستان میں رہنے والے اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔ میری آسٹریلیا میں رہنے والی بیٹی اس صورت حال سے بارہا گزری ہے اور بقول اس کے‘ جب پاکستانی ٹیم بھارت سے ہار جائے تو اچھے بھلے تعلقات رکھنے والی کلاس فیلو لڑکیاں ایسے ایسے طعنے مارتی ہیں اور فیس بک وغیرہ پر میسج کرتی ہیں کہ بندہ جل کر خاک ہو جاتا ہے۔ جس دن پاکستان نے بھارت کا طیارہ گرا کر ابھی نندن کو گرفتار کیا تھا‘ وہ ایک عرصے کے بعد پاکستانیوں کے لئے خوشی کا دن تھا اور اس دن انہوں نے گزشتہ ساری بے عزتی اور ذلت کا بدلہ مع سود لے لیا تھا اور خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔
کچھ دن پہلے ایک دوست مجھ سے پوچھنے لگا: یہ ”ریلو کٹے‘‘ کیا ہوتے ہیں؟ میں نے کہا: یہ پنجابی زبان کا Slang ہے اور اس کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں۔ بنیادی طور پر دیکھنا یہ ہوگا کہ اس لفظ کے استعمال کا سیاق و سباق کیا ہے۔ ویسے عام طور پر اس سے مراد ایسا شخص ہے‘ جس کا کچھ پتا نہ ہو کہ وہ کدھر ہے‘ یعنی اس کے بارے میں یقین سے حتمی طور پر نہ بتایا جا سکے کہ وہ کس پارٹی کے ساتھ ہے‘ جو کبھی اور کسی وقت بھی ایک کو چھوڑ کر دوسرے کی جانب جانے کی ”صلاحیت‘‘ رکھتا ہو اسے عموماً ریلو کٹا کہا جاتا ہے۔ میں نے اپنے اس دوست سے پوچھا کہ اسے اچانک اس لفظ کے معنی جاننے کی کیا ضرورت آن پڑی؟ وہ کہنے لگا: عمران نے اپنے ٹویٹ میں پاکستانی ٹیم کو نصیحت کی ہے کہ ”ٹاس جیتنے کی صورت میں فیلڈنگ کرنے کی بجائے پہلے بیٹنگ کرے ‘کیونکہ دباؤ کی صورت میں ”ریلو کٹے‘‘ مشکل سے ہی کارکردگی دکھاتے ہیں۔ یہ پاکستان کے وزیراعظم کا بھارت سے میچ سے قبل پاکستانی ٹیم کو ٹویٹ تھا۔ میرا دوست کہنے لگا: اس ٹویٹ میں ”ریلو کٹے‘‘ سے کیا مراد ہے؟ میں نے کہا: مراد جو بھی ہو ‘کم از کم اس لفظ کا کوئی بھی معنی عزت دار قسم کا ہرگز نہیں۔ اس سے عمومی مراد ”فارغ قسم کے کھلاڑی‘‘ ہے‘ لیکن میرا خیال ہے‘ اس لفظ کے مفہوم و معانی سے زیادہ ضروری سوال ہے کہ کیا یہ ٹیم نجم سیٹھی نے منتخب کی ہے؟ اگر یہ نجم سیٹھی کی منتخب کردہ ٹیم ہے تو پھر یہ الزام لگانے کا تک ہے‘ وگرنہ خود اپنی ہی منتخب کردہ پی سی بی انتظامیہ کی چنی ہوئی ٹیم کے اندر ”ریلو کٹوں‘‘ کی موجودگی کا کیا مطلب ہے؟ کیا یہ بھی سابقہ حکومت کا کارنامہ ہے؟ اگر یہ ٹیم موجودہ حکومت کے زیر انتظام چلنے والی پی سی بی کی نئی انتظامیہ کا شاہکار ہے تو پھر اس میں ریلو کٹوںکی موجودگی کا ذمہ دار کون ہے؟قارئین! جیسا کہ میں نے پہلے ہی کہا ہے کہ مجھے کرکٹ بارے کچھ شد بُد نہیں اور میں یہ بھی نہیں جانتا کہ ٹیم میں کون ریلو کٹا ہے اور کون نہیں ہے‘ لیکن مجھے یہ ضرور پتا ہے کہ موجودہ کابینہ ریلو کٹوں سے بھری ہوئی ہے اور ان ریلو کٹوں کو اگر شمار کروں تو ان کی تعداد پوری ٹیم کے گیارہ کھلاڑیوں سے زائد ہے۔ میرا خیال ہے کہ عمران خان صاحب کو کرکٹ ٹیم کے ریلو کٹوں کے ساتھ اپنی کابینہ کے ریلو کٹوں کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے‘ لیکن پھر سوچتا ہوں کہ اگر‘ انہوں نے اس بارے غور کر کے کوئی ایکشن لے لیا (جو ناممکنات میں سے ہے) تو کابینہ میں باقی کیا رہ جائے گا؟۔
نوٹ: گزشتہ سے پیوستہ کالم ”تم کھڑے تھے‘‘ میں طارق حبیب کی نظم کی سولہویں لائن میں لفظ ”ہمالہ‘‘ کی بجائے ہمالیہ کمپوز ہو گیا تھا اور سترہویں لائن میں لفظ ”تک‘‘ نہیں ‘بلکہ ”تلک‘‘ ان دو الفاظ کی وجہ سے نظم کے دونوں مصرعے بے وزن ہو گئے تھے۔ کمپوزر کے بارے میں پتا کیا تو معلوم ہوا کہ وہ خوش قسمتی سے شاعر نہیں ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker