خالد مسعود خانکالملکھاری

دو ماہ والا وعدہ۔۔خالد مسعودخان

مورخہ چودہ ستمبر کے اخبارات میں ملتان سکھر موٹروے کے آپریشنل ہونے کی دو کالمی خبر لگی ہوئی تھی۔ یہ خبر کسی ایک اخبار میں نہیں‘ تقریباً تمام قومی اخبارات میں لگی ہوئی تھی۔ اس دو کالمی خبر میں آئی جی موٹروے کی جانب سے موٹروے کھلنے کی باقاعدہ تصدیق کی گئی تھی۔ اللہ مجھے بدگمانی سے بچائے‘ لیکن سڑکوں اور موٹروے کے کھلنے کے بارے میں موجودہ حکومت کے کسی اعلان پر کم از کم اس عاجز کو بالکل بھی یقین نہیں‘ بلکہ موجودہ کیا گزشتہ والے بھی اس ضمن میں جھوٹ اور کذب بیانی سے کام لیتے تھے ‘تاہم اب توحد ہی ہو گئی ہے۔


میاں نواز شریف نے ملتان خانیوال M-4 کے اڑتالیس کلو میٹر لمبے سیکشن کا افتتاح اس افراتفری اور عجلت میں کیا کہ حیرت ہوتی ہے۔ ابھی موٹروے کی دونوں اطراف کی باڑ مکمل نہیں ہوئی تھی لیکن موٹروے کا نہ صرف افتتاح کر دیا بلکہ چالو بھی کر دی۔ دنیا بھر میں ایسی بے احتیاطی اور نمبر ٹانگنے میں پھرتیوں کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس کے بعد جناب شاہد خاقان عباسی آ گئے اور اپنی روانگی سے محض چند دن پہلے موٹروے پر اپنے نام کی افتتاحی ”پھٹی‘‘ لگوانے کے شوق میں فیصل آباد تا ملتان M-4 کے گوجرہ ٹوبہ ٹیک سنگھ سیکشن کا اور ملتان تا سکھر M-5 کے ملتان تا شجاع آبا د سیکشن کا افتتاح پھڑکا گئے۔ ان کی اقتدار سے روانگی مورخہ اکتیس مئی 2018 کو تھی‘ انہوں نے گوجرہ تا ٹوبہ ٹیک سنگھ سیکشن کا افتتاح اپنے اقتدار کے آخری دن سے محض تین یوم قبل مورخہ اٹھائیس مئی کو کر دیا اور ملتان تا شجاع آباد 33کلو میٹر لمبے سیکشن کا افتتاح اس سے بھی دو یوم قبل مورخہ چھبیس مئی کو کر کے عوام کو خوشخبری سنا دی کہ مسلم لیگ گورنمنٹ موٹرویز پر دھڑا دھڑ کام کر رہی ہے۔ لیکن میری بدقسمتی دیکھیں کہ میں اس افتتاح پر اعتبار کرتے ہوئے جب گوجرہ سے ٹوبہ ٹیک سنگھ جانے لگا تو موٹروے پر سیمنٹ کے بڑے بڑے بلاک پڑے تھے اور آگے جانے کا راستہ بند تھا۔ یہ نگران گورنمنٹ کا کارنامہ نہیں تھا‘ کیونکہ نگران حکومت تو اکتیس مئی کے بعد قائم ہوئی تھی۔ میں مورخہ تیس مئی کی بات کر رہا ہوں۔ ٹال ٹیکس والے بوتھ پر ٹال دیتے ہوئے جب اگلے سیکشن کے بارے میں دریافت کیا تو ٹال ٹیکس لیتے ہوئے اس نوجوان نے اس جعلی افتتاح اور افتتاح کرنے والے کی شان میں جو الفاظ استعمال کیے میں وہ دُہرا بھی نہیں سکتا۔ وہ کہنے لگا: میں کل سے لوگوں کو بتاتے بتاتے تنگ آ چکا ہوں کہ صرف جعلی اور فراڈ قسم کا افتتاح ہوا ہے۔ حکومت نے آپ سب لوگوں کو ”ماموں‘‘ بنایا ہے اور کچھ بھی نہیں ہوا۔ میں گوجرہ سے حسب معمول جھنگ پہنچا اور پھر جھنگ سے خراب و خستہ ملتان روڈ پر چڑھ کر حسب سابق خوار ہوتے ہوئے ملتان پہنچا۔ یہی حال ملتان تا شجاع آباد سیکشن کا تھا۔ وہ بھی کئی ماہ بعد باقاعدہ چالو ہوا۔ افتتاح کئی ماہ پیشتر ہو گیا تھا۔


درج بالا دو میں سے ایک سیکشن کا افتتاح ایک بار دوبارہ ہوا۔ ملتان فیصل آباد M-4 موٹروے کے باسٹھ کلو میٹر لمبے گوجرہ شور کوٹ سیکشن کا افتتاح فروری 2019ء میں دوبارہ کر دیا گیا۔ اب کی بار اس میں ٹوبہ ٹیک سنگھ تا شور کوٹ والے سیکشن کا اضافہ کر دیا گیا تھا۔ میں نے اس سیکشن پر افتتاح کے بعد سفر کیا۔ شور کوٹ ٹال پلازے پر کئی ہفتے تک کوئی اہلکار ٹال ٹیکس وصول کرنے کے لیے موجود نہ تھا گوجرہ تا شور کوٹ مفت سفر تھا اور راستے میں اردگرد کے دیہاتوں کے لوگ باگ موٹروے پر پکنک منانے آئے ہوئے تھے۔ کئی لوگ اپنی موٹر سائیکلوں پر بیوی بچے لادے موٹروے کے مزے لے رہے تھے۔ ایسی لاقانونیت اس سے پہلے کسی موٹروے پر دیکھنے کا اتفاق نہ ہوا تھا۔
فیصل آباد ملتان موٹروے گوجرہ میں ختم ہو جاتی تھی اور آگے سیکشن ابھی مکمل نہیں ہوا تھا‘ تب گوجرہ انٹرچینج سے ایک کلو میٹر پہلے بائیں ہاتھ پر نیلے رنگ کا ایک بورڈ لگا ہوا تھا جس پر موٹروے کے اختتام کا نشان بنا ہوا تھا۔ اور ساتھ ہی موٹروے کے اوپر آر پار لگے ہوئے بورڈ پر ملتان لکھا ہوا تھا‘ مگر اس پر کراس لگایا ہوا تھا تاکہ لوگوں کو اطلاع ہو جائے کہ یہ سڑک اب آگے ملتان تک نہیں جا رہی بلکہ یہیں گوجرہ میں ختم ہو رہی ہے۔ الحمد للہ چار دن قبل اسلام آباد سے ملتان آتے ہوئے گوجرہ سے ایک کلو میٹر پہلے موٹروے ختم ہونے کے اطلاعی بورڈ کو بھی اسی طرح موجود پایا اور موٹروے کے اوپر لگے ہوئے بڑے بورڈ پر ملتان کے اوپر کراس بھی اسی طرح موجود تھا جس طرح اس سیکشن کے کھلنے سے پہلے لگا ہوا تھا۔ موٹروے والوں کی مستقل مزاجی اور استقلال دیکھ کر جی بڑا خوش ہوا۔
موٹروے پر ایک دو چیزیں دیکھ کر دل مزید باغ باغ ہوا۔ شور کوٹ انٹرچینج پر ایک موٹر سائیکل والے نے بڑی پھرتی سے موٹروے کو کراس کیا اور ایک طرف سے دوسری طرف چلا گیا۔ ابھی یہی حیرانی ختم نہیں ہوئی تھی کہ دیکھا ایک موٹر سائیکل والا اپنی اہلیہ کو (یہ میرا خیال بھی ہو سکتا ہے) بٹھائے موٹروے پر چلتے ہوئے ایک ٹرک کے پیچھے پیچھے محو سفر تھا۔ دوسری سائیڈ پر کم از کم چھ سات لوگ موٹروے کے ہارڈ شولڈر پر ”واک‘‘ فرما رہے تھے۔ میں نے اس موٹرسائیکل سوار کے بارے میں اطلاع دینے کی غرض سے شور کوٹ سے عبدالحکیم تک موٹروے پولیس کی گاڑی تلاش کرنے کی کوشش کی مگر ایسی کوئی چیز راستے میں نظر نہ آئی۔ یہ تقریباً اڑتالیس کلو میٹر کا فاصلہ تھا جو موٹروے پولیس سے مکمل صاف تھا۔


موٹروے کے ذریعے ملتان سے اسلام آباد یا لاہور جانے کے لیے دو طریقے ہیں۔ وہاڑی روڈ یا ناگ شاہ کے نزدیک والے انٹرچینج سے ملتان تا خانیوال موٹروے پر جائیں اور پھر عبدالحکیم تک جانے کے لیے کچا کھوہ تک یکطرفہ ٹریفک اور آگے چوبیس کلو میٹر سنگل روڈ پر سفر کر کے موٹروے پر چڑھ جائیں یا ملتان سے خانیوال اور آگے اسی طرح خوار ہوتے ہوئے عبدالحکیم پہنچ جائیں۔ خانیوال تا عبدالحکیم بتیس کلو میٹر کا سیکشن ابھی تک زیر تعمیر ہے۔ جس روز مسلم لیگ کی حکومت ختم ہوئی تھی یعنی اکتیس مئی 2018ء سے اس سیکشن کے بارے میں پوچھیں تو جواب ملتا ہے کہ دو ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔ اب سولہ ماہ ہو گئے ہیں۔ کل ایک صاحب سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ بس دو ماہ میں یہ سیکشن مکمل ہو جائے گا۔ اس سیکشن کے بارے میں دو ماہ کی مدت غالباً اب تکیہ کلام بن چکی ہے‘ ممکن ہے دو ماہ بعد پھر پتا کریں تو معلوم ہو کہ اس سیکشن کی تکمیل میں دو ماہ باقی ہیں۔
ہاں یاد آیا۔ مورخہ چودہ ستمبر کو ملتان سکھر موٹروے کے چالو ہونے کی خبر میرے اندازے کے عین مطابق غلط ثابت ہوئی ہے۔ موٹروے تا حال عام ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند ہے۔ شنید ہے یہ موٹروے یکم اکتوبر کو کھل جائے گی۔ اللہ کرے کہنے والی کی زبان مبارک ہو‘ وگرنہ جو حکومت گزشتہ چھ سال سے اپنے زیر اقتدار صوبہ خیبر پختونخوا میں زیر تکمیل میٹرو بس منصوبے پر اپنی عزت و آبرو برباد اور منصوبہ بندی کی صلاحیت کو مسلسل رسوا کروا رہی ہو بھلا اس سے مسلم لیگ (ن) کے شروع کیے گئے منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے دی گئی تاریخ پر کس طرح اعتبار کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ہمارے پاس اس کے علاوہ اور کیا چارہ ہے کہ ہم دو ماہ والی تاریخ پر اعتبار نہ کریں‘ خواہ یہ دو ماہ سولہ ماہ سے زیادہ لمبے ہی کیوں نہ ہوں۔
گوجرہ تا شور کوٹ مفت سفر تھا اور راستے میں اردگرد کے دیہاتوں کے لوگ باگ موٹروے پر پکنک منانے آئے ہوئے تھے۔ کئی لوگ اپنی موٹر سائیکلوں پر بیوی بچے لادے موٹروے کے مزے لے رہے تھے۔ ایسی لاقانونیت اس سے پہلے کسی موٹروے پر دیکھنے کا اتفاق نہ ہوا تھا۔
(بشکریہ:روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker