ڈاکٹر عفان قیصرکالملکھاری

بھارتی خلائی مشن اور ہمارا طرز عمل : گونج / ڈاکٹر عفان قیصر

یہ بھارت کا خلائی ریسرچ ادارہ تھا،جہاں آج پوری دنیا کے کیمرے اور مودی،بھارت کے چاند پر اترنے کا انتظار کررہے تھے۔ یہ سب کارنامہ ایک ایسے سائنسدان کا تھا جو م تامل ناڈو کے ایک غریب کسان کا بیٹا تھا۔ ساری تعلیم تامل زبان میں حاصل کی اور بعد میں بنگلور کی ایک یونیورسٹی سے خلائی سائنس میں 1982ءمیں ماسٹر کیا اور پھر اسی شعبے میں مدراس کی یونیورسٹی سے 2006 میں پی ایچ ڈی کرلی ۔ڈاکٹر کے سیون نامی یہ شخص مکمل طور پر بھارتی پراڈکٹ تھا،جس نے خلائی شعبے کی کوئی تعلیم باہر سے حاصل نہیں کی۔ اس نے چندرایان دوم نامی مشن کے ذریعے روس کے خلائی ادارے کی مدد سے وکرم لینڈر چاند گاڑی تیار کی اور یہ اور اس کی ٹیم اس کو چاند پر اتارنے کی تیاری میں تھے۔



سات ستمبر کو دنیا بھارتی زمین سے کچھ ایسا دیکھنے جارہی تھی جو تیسری دنیا کے ممالک کے لیے یقینا ایٹمی ایجاد جیسا تھا ،مگر چاند کی سطح سے دو کلومیٹر دور اس چاند گاڑی نے خلائی ادارے کو سگنل بھیجنا بند کردیے۔ پندرہ منٹ پوری بھارتی قوم کیمروں پر چاند پر اترنے کا اعلان سننے کو بے قرار رہی ،مگر بالآخر یہی معلوم ہوا کہ یہ مشن ناکام ہوگیا اور چاند گاڑی تباہ ہوگئی۔ اس کے بعد انہی کیمروں نے نازی سوچ کے مالک کہلائے جانے والے مودی کو ڈاکٹر کے سیون کو تاریخی تھپکیاں دیتے بھی دیکھا۔ اس کے بعد یوٹیوب، ٹویٹر،فیس بک،وٹس ایپ ،ٹک ٹاک پر بھارت کے اس مشن کی پاکستانیوں نے ٹرولنگ یعنی وسیع پیمانے پر مذاق اڑانے کی وڈیوز اور تصاویر وائرل کرنی شروع کردیں، تجزیے دیے جانے لگے اور یوں ہم جس چیز میں ماہر تھے،ہم نے وہی کیا؟



کشمیر کی حالیہ کشیدگی کی حقیقت اور بھارتی جارحیت کی اصل حقیقت اپنی جگہ ،مگر جو کام بھارت کے سپیس سینٹر میں ہوا یہ یقیناً ہم سب کے کان کھڑے کرنے کے لیے کافی ہونا چاہیے تھا، بالکل ویسے جیسے آج ہم ایٹمی ریاست نہ ہوتے تو بھارت ہم پر حملہ کرچکا ہوتا۔ اس سارے عمل میں سب سے زیادہ ہوش دلانے والی بات بھارت کی سپیس کی ترقی میں زیادہ سے زیادہ کوشش کا ملک کے اندر ہونا تھا،یعنی جو کچھ ہوا اس میں کوئی سائنس دان ملک سے باہر کا نہیں تھا،روس نے مدد ضرور کی،مگر سب کرنے والے بھارتی تھے،بھارتی تعلیمی اداروں سے پڑھے تھے اور تمام تحقیق بھی بھارت میں ہی ہوئی تھی۔



آپ ایک منٹ کے لیے یوٹیوب ،ٹویٹر اور ٹک ٹاک کی بادشاہت کی دنیا سے باہر آئیں اور سوچیں، جو کام بھارتی سپیس سنٹر میں ہوا، کیا ہم ایسا پاکستان میں کرنے کا سوچ بھی سکتے ہیں؟ اور اگر ہاں تو کیا ایک کسان کا بیٹا ایسے اداروں کی سربراہی تک پہنچ کر یہ کام کرو اسکتا ہے؟ اور اگر ہاں تو اس سب میں کتنے سال لگیں گے؟ ہم ہر الزام اپنے کرپٹ سیاست دانوں پر ڈال دیتے ہیں ،بھارت سے ہر شعبے میں پیچھے رہ جانے کی وجہ بھی اگر واقعی ہم سابق حکمرانوں کی بے پناہ کرپشن کو قرار دے دیں، تو بھی یہ ایک بھونڈا سا جواب لگتا ہے، کیونکہ بھارت کے حکمران ، حد سے زیادہ کرپشن میں ملوث پائے گئے ہیں اور ان کو سخت سے سخت سزائیں بھی سنائی گئی ہیں، پھر ایسی کیا وجہ ہے کہ آج ہم لاکھ کوشش کے باوجود ایک ایسے ملک سے پیچھے ہیں ،جس سے کسی بھی طرح کی مات ہمیں قبول نہیں ہے۔



بھارت اکانومی کی دنیا میں آج ایک دیو بن چکا ہے، 2014 ءکے اعداد و شمار کے مطابق اس کا ہجم 2050 بلین ڈالر تھا، جبکہ ہمارا 250 بلین ڈالر تھا۔بھارت اس وقت دنیا کی تیسری، جبکہ ہم 43 بڑی اکانومی ہیں۔ورلڈ اکانومی فارم کی تحقیق کے مطابق،ترقی کے چودہ جائزوں پر پرکھنے کے بعد، پاکستان کو 144 میں سے 122 نمبر پر، جبکہ بھارت کو 76 نمبر پر رکھا گیا۔ تعلیم کے تجزیہ میں پاکستان کا 144 میں 127 نمبر ، جبکہ بھارت کا 93 واں نمبر ہے۔اسی طرح صحت کے شعبے میں بھارت بطور ریاست پاکستان کو بہت پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ وہاں جگر کے ساتھ دل ،پھیپھڑوں تک کی پیوندکاریاں ہورہی ہیں اور ہم کہاں کھڑے ہیں۔بھارتی کرنسی کے مقابلے میں ہماری کرنسی کہا ں ہے؟ میں نے معروف بھارتی سرجن ڈاکٹر سبھاش گپتا کا انٹرویو کیا،ڈاکٹر سبھاش پاکستانی ڈاکٹروں کو اکثر جگر کی پیوند کاری میں مدد دینے پاکستان آتے رہتے ہیں۔ انہوں نے بھارت کے صرف دہلی شہر میں جتنے ایسے سنٹر گنوائے وہ پورے پاکستان کے سنٹرز سے دس گنا زیادہ تھے۔ وجوہات اس سب کی بہت طویل ہیں،مگر یہ بات درست ہے کہ ہم آنے والی تین دہائیوں میں شاید بھارت سے سائنس ٹیکنالوجی،صحت اور انٹرنیشنل شناخت میں اتنا پیچھے رہ جائیں،جتنا آج یورپ سے ہیں۔



ہماری دفاعی طاقت کا مستحکم ہونا اپنی جگہ مگر بھارت ہم سے اب جس جنگ کی تیاری میں ہے،ہم نے دور دور تک اس کی کوئی تیاری نہیں کررکھی۔ میں تاریخ کے اوراق کریدوں تو جب دسمبر 2001ء میں انڈین پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تو بھارت میں Cold Start Doctrine نامی ایک پراکسی وار اٹیک کے منصوبے پر کام کا آغاز کیا گیا۔ یہ منصوبہ پاکستان پر محدود حملے کا تھا۔ اس کی تفصیل یہ تھی کہ بھارتی فوج ایسی تیاری کرے کہ وہ جب چاہے پاکستان پر سرجیکل سٹرائیک کرے اور پاکستان کو اس طرح نقصان پہنچائے کہ اسے دفاعی طور پر مفلوج کردے اور بدلے میں پاکستان نہ بھارت پر فوری حملہ کر سکے اور نہ ہی یہ سٹرائیک اس قدر شدید ہو کہ یہ پاکستان کو یہ جواز فراہم کردے کہ پاکستان بھارت پر ایٹمی حملہ کردے۔ یوں جنگ بھی بھارت شروع کرے،نقصان بھی شدید پہنچائے اور پاکستان کچھ بھی نہ کرسکے۔ یہ وہ منصوبہ تھا جس کی باز گشت آپ 2008 ءممبئی حملوں کے بعد بھی سنتے رہے اور بعد میں مودی سرکار پلوامہ میں ہوئے حملے کو جواز بنا کر Cold Start Doctrine کو عملی طور پر کرکے ووٹ سمیٹنے کی کوشش کرتی رہی، بعد میں پاکستان کیBallistic missile ٹیکنالوجی چند سالوں میں Cold Start Doctrine منصوبے کے جواب میں مزید جدیدت پر استوار کی گئی اور بھارت کسی طور ایسے منصوبے سے باز رہا۔



مگر انہی سالوں میں وہ پاکستان کو بالی وڈ فلموں میں بدنام کرکے اور طالبان اور کشمیر مجاہدین کو ایک ہی پلیٹ میں سجا کر ان پر دہشت گردی کا لیبل لگوانے میں کامیاب ضرور ہوگیا۔ آرٹیکل 370 ہٹانے پر مشرقی وسطی کی مسلم ریاستوں سمیت پوری دنیا کی حمایت بھی لے لی،امارات کا آرڈر آف زید بھی لے لیا اور کشمیر میں بد ترین بربریت بھی قائم کردی ۔وہ یہ سب صرف اس لیے کر پایا کیونکہ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی اکانومی تباہ ہوچکی تھی اور پاکستان اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ وہ باہر کی دنیا کو بھارت کے اس سنگین غلط اقدام پر اپنے ساتھ ملا پاتا۔ یہ سب وضاحت اس لیے کہ ہم نے بھارت کے کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کا جواب Ballistic missile ٹیکنالوجی سے دے لیا، مگر ہم کمزور اکانومی اور غیر مستحکم بین الاقوامی تشخص کی وجہ سے بھارت سے کشمیر کاز میں ایک بہت بڑا معرکہ ہار گئے۔بھارت آج چاند پر نہ پہنچ سکا مگر دوسری بار کوشش ضرور کرڈالی۔ صحت،سائنس و ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی شناخت ہمارا اس قدر پیچھے ہونا مستقبل میں ایک بڑی ہار کو دعوت دے رہا ہے۔ ہم پاکستانی یوٹیوبرز، ٹک ٹاک اور ٹرولرز کی دنیا کے بادشاہ تو بن گئے،مگر آج بھی یہ نہ جان سکے کہ بھارت کے ڈاکٹر کے سیون نے کیا کیا۔ ہم مذاق اڑاتے رہے کہ مودی نے چاند گاڑی میں نوسو کر وڑ برباد کردیے، مگر یہ نہ سمجھے کہ بھارت نے نوسو کروڑ کھوئے نہیں ہیں، وہ اگلی بار چاند پر پہنچ جائے گا اور ہم ٹوئیٹر پر ان کا مذاق اڑاتے رہ جائیں گے۔



مودی لاکھ نازی سوچ کا مالک سہی، اس نے جس انداز میں آج ڈاکٹر کے سون کو ناکامی پر تھپکی دی ،ہمیں اس کی قدر کرنا ہوگی۔ہمیں اب ایٹمی سحر سے باہر آنا ہوگا۔ جنگ جیتنے کے لیے جو اصل ایٹمی ہتھیار ہیں،بھارت اب ان پر کام کررہا ہے ، اگر ہم اب بھی نہ جاگے تو ہم تاریخ کے صفحوں سے مٹ جائیں گے۔ کیا آپ نے مغلوں کے زوال کی تاریخ نہیں پڑھی؟
( بشکریہ : روزنامہ ایکسپریس )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker