خالد مسعود خانکالملکھاری

نامکمل موٹروے کا افتتاح۔۔خالدمسعودخان

میرے ایک دوست کو میرے سڑکوں پر لکھے جانے والے کالمز پر بڑا اعتراض ہے۔ ایک بار نہیں، کئی بار وہ میرے ان کالموں پر مجھ سے شکایت کر چکا ہے۔ آخر تنگ آ کر میں نے اس سے یہ پوچھا کہ کیا سڑکیں صرف میرا ذاتی مسئلہ ہے؟ کیا نظام کی خرابیوں سے صرف میں متاثر ہوتا ہوں؟ کیا موٹروے میرے والد مرحوم میرے لئے ترکے میں چھوڑ کر گئے ہیں کہ میں ان پر لکھوں تو آپ کو یہ گلہ ہو کہ میں اپنی آبائی جائیداد پر لکھ کر اخبار کا صفحہ اور قارئین کا وقت برباد کر رہا ہوں؟ یہ عوام کی مشکلات اور اداروں کی بربادی کی نشاندہی ہے۔ اس پر لکھنا میرا فرض ہے کہ متاثرین میں آپ (میرا وہ دوست) بھی شامل ہیں اور وہ لاکھوں لوگ بھی جو اپنی اس مشکل اور مصیبت کو متعلقہ اداروں اور افراد تک نہیں پہنچا سکتے۔ یہ میری، اور میرے جیسے ان تمام لوگوں کی اخلاقی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے کہ وہ متعلقہ محکموں کی پیشہ ورانہ غفلت، حکومت کی لا تعلقی اور نا اہلی پر آواز اٹھائیں اور اپنی حد تک آواز اٹھا کر، لکھ کر اپنا فرض ادا کریں۔
مورخہ ستائیس اکتوبر کو خانیوال تا عبدالحکیم سیکشن کا ہائی کورٹ کے حکم پر ”افتتاح“ کر دیا گیا۔ یہ میرے علم کے مطابق اپنی نوعیت کا دنیا میں کسی سڑک کا پہلا افتتاح ہے جو عدالتی حکم پر وقوع پذیر ہوا ہے۔ ملتان لاہور اور ملتان اسلام آباد موٹروے یعنی ایم تھری اور ایم فور کے ذریعے سفر کرنے والے تیس بتیس کلو میٹر پر مشتمل صرف ایک چھوٹے سے سیکشن کے نا مکمل ہونے کی وجہ سے گزشتہ ایک سال سے ذلیل ہو رہے تھے۔ درمیان میں کچھ عرصہ اس سیکشن پر غیر سرکاری طور پر لوگوں نے سفر کرنا شروع کر دیا تھا۔ ٹال ٹیکس بوتھ موجود نہ تھے۔ ڈیوائیڈر مکمل نہیں تھے۔ چار چھ کلو میٹر پر اسفالٹ کی دوسری تہہ نہ بچھی تھی۔ دو تین فرلانگ پر محض بجری پڑی ہوئی تھی۔ سڑک کے کناروں پر لوہے کی ریلنگ نامکمل تھی۔ لوگوں اور جانوروں کو موٹروے پر آنے سے روکنے کے لئے موٹروے کی دونوں اطراف پر باڑ (Fence) کئی جگہوں سے ادھوری تھی۔ عدالتی حکم پر اس موٹروے کا افتتاح میرے پیارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مورخہ 27 اکتوبر کو افراتفری میں اس طرح کیا کہ موٹروے کے اس سیکشن کی تقریباً ویسی ہی حالت ہے جیسی میں اوپر بیان کر چکا ہوں کہ گزشتہ ایک سال سے تھی۔


افتتاح شام کوٹ کے انٹرچینج پر ہوا تھا۔ شام کوٹ انٹرچینج پر ملتان سے لاہور یا اسلام آباد جانے والے مسافروں کے لئے ملتان خانیوال روڈ سے موٹروے پر چڑھنے والا دو تین سو گز پر مشتمل راستہ اگلے روز تک نامکمل تھا (میں اٹھائیس اکتوبر کی بات کر رہا ہوں) موٹروے پر چڑھتے ہوئے ٹال ٹیکس لینے والے بوتھ نہ صرف ادھورے تھے بلکہ یہاں کوئی اہلکار بھی موجود نہ تھا۔ سڑک پر تعمیراتی مشینری تارکول وغیرہ بچھا رہی تھی۔ یہ ملتان سے لاہور، اسلام آباد کی طرف جانے والے راستے کا حال تھا۔ واپسی پر موٹر وے اتر کر خانیوال جانے والا راستہ ابھی تارکول کی شکل سے بھی یکسر لاعلم تھا۔ سارا راستہ کچا اور کیچڑ سے بھرا ہوا تھا۔ (اس سے واسطہ لاہور سے واپسی پر پڑا تھا) اس واپسی والے راستے پر تو ٹال ٹیکس بوتھ کی شاید ابھی تعمیر بھی شروع نہیں ہوئی۔ یہ تو صرف آغاز تھا۔ سفر ماشااللہ اس سے بھی کہیں زیادہ ”شاندار“ اور ”محفوظ“ تھا۔


موٹروے کو جی ٹی روڈ سے ملانے والا چند سو گز کا ٹکڑا تو خیر سے ابھی اسفالٹ ڈالنے کے مرحلے سے گزر رہا تھا جبکہ ٹال ٹیکس بوتھ کا (اس طرف والا) محض گرے سٹرکچر ہی بنا تھا۔ روکنے ٹوکنے والا، پوچھنے والا یا الٹی سمت سے چڑھنے کی مخالفت کرنے والا کوئی شخص اس حصے پر موجود نہ تھا۔ ابھی سڑک پر چڑھے دو تین منٹ ہی گزرے تھے کہ سامنے سے ایک کار کو آتے دیکھا۔ یہ الٹی سمت سے آ رہی تھی۔ موٹروے پر الٹی سمت سے گاڑی آنے کا ایک لطیفہ تو سنا تھا لیکن اپنی آنکھوں سے ایسا ہوتے پہلی بار دیکھا۔ اور پھر تو جیسے لائن ہی لگ گئی۔
ایک خاتون سفر کر رہی تھی کہ اسے اس کے خاوند کا فون آیا۔ اس کے خاوند نے گھبرائی ہوئی آواز میں اسے اطلاع دی کہ میں نے ابھی ابھی ٹریفک چینل سے خبر سنی ہے کہ ایک کار موٹروے پر الٹی سمت سے چڑھ گئی ہے اور وہ جس موٹروے کا ذکر کر رہے ہیں وہ وہی موٹروے ہے جس پر تم سفر کر رہی ہو۔ تم ذرا احتیاط سے گاڑی چلانا اور اس غلط سمت سے آنے والی گاڑی کی جانب سے محتاط رہنا۔ اس خاتون نے اپنے خاوند سے بھی زیادہ گھبرائی ہوئی آواز میں جواباً کہا ”تم ایک گاڑی کی بات کر رہے ہو؟ میری والی موٹروے پر تو ساری گاڑیاں ہی الٹی سمت سے آ رہی ہیں“۔


حالانکہ میں موٹروے کی بائیں سڑک یعنی لاہور، اسلام آباد جانے والی ٹھیک سڑک پر تھا لیکن لگتا تھا کہ میں غلط سمت پر چڑھ گیا ہوں۔ ہر دو تین منٹ بعد سامنے سے کوئی گاڑی آ جاتی تھی۔ موٹروے کے اس مختصر سے سیکشن پر دو کتے مرے پڑے تھے جو کسی ایکسیڈنٹ میں ”کتے کی موت“ مرے تھے۔ ظاہر ہے اطراف میں باڑ نامکمل تھی اور آوارہ کتے موٹروے پر مٹر گشت کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔ جانے والی سڑک کی سائیڈ پر حفاظتی جنگلہ مفقود تھا۔ ارد گرد کی آبادی والے موٹروے کے اوپر سے آر پار جا رہے تھے۔ عبدالحکیم والے انٹرچینج سے ایک بار باہر نکلے اور پھر دوبارہ اوپر سے گھوم کر موٹروے پر داخل ہونے والے راستے کے ذریعے موٹروے پر چڑھنے کے لئے ٹال ٹیکس بوتھ سے انٹری کارڈ لیا۔ ٹال ٹیکس بوتھ والے راستے سے ایک عدد کتیا اپنے دو ”کتوروں“ کے ہمراہ ہماری گاڑی کے ساتھ ہی موٹروے پر چلی گئی۔ اللہ جانے اس کا اور اس کے دو بچوں کا بعد میں کیا بنا ہو گا؟


جانے والے راستے کا حفاظتی جنگلہ بہت سی جگہوں پر ابھی نہیں بنا تھا؛ البتہ واپسی والے راستے کے بیشتر حصے پر یہ جنگلہ مکمل تھا (میں شام کوٹ انٹرچینج سے عبدالحکیم انٹرچینج تک کے سیکشن کی بات کر رہا ہوں) دونوں اطراف پر حفاظتی باڑ یعنی Fence جگہ جگہ سے ٹوٹ چکی تھی اور کئی جگہوں پر ابھی لوہے والی جالی لگی ہی نہیں تھی‘ صرف کنکریٹ والے کھمبے نصب تھے۔ موٹروے کا یہ سیکشن میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ پہلے بھی کچھ عرصہ افتتاح سے قبل عملی طور پر چالو رہ چکا تھا اور دونوں اطراف سے آنے والی دو طرفہ ٹریفک کے باعث بعض جان لیوا حادثوں کے باعث اسے مٹی کے اونچے اونچے ڈھیر لگا کر بند کر دیا گیا تھا۔ اب اس افتتاح سے قبل صرف وہ مٹی کے ڈھیر ہی ہٹائے گئے ہیں‘ باقی سارے حالات جوں کے توں ہیں۔ جانوروں اور انسانوں کو موٹروے پر آنے سے روکنے والا حفاظتی جنگلہ نامکمل ہے۔ سڑک کے کنارے لوہے کی ریلنگ ناموجود تھی۔ خانیوال کے قریب شام کوٹ انٹرچینج پر سڑک سے موٹروے پر چڑھنے والی سڑک کی ایک طرف جزوی طور پر نامکمل تھی اور دوسری طرف ابھی صرف مٹی پڑی ہوئی تھی۔ ایک طرف کا ٹال ٹیکس بوتھ ادھورا تھا اور دوسری طرف سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ ہر طرف والی سڑک پر دونوں اطراف ٹریفک آ جا رہی تھی اور کوئی روکنے ٹوکنے والا موجود نہ تھا۔ حتیٰ کہ اس سیکشن پر آتے جاتے ہوئے دونوں بار موٹروے پولیس کی بھی کسی گاڑی پر کم از کم اس عاجز کی نظر تو نہیں پڑی۔ ممکن ہے صرف اسی وقت وہ اس سیکشن پر موجود نہ ہو جب میرا وہاں سے گزر ہوا۔ انسان کو دوسروںکے بارے میں بد گمانی کے بجائے خوش گمانی رکھنی چاہئے۔


میرا ذاتی خیال ہے موجودہ صورت میں کھولی جانے والی موٹروے پر یا تو ضروری لوازمات موجود ہوں اور خاص طور پر ہر دو سمتوں پر جاری دو طرفہ ٹریفک کا کوئی سدباب کیا جائے یا پھر اس سیکشن کو دوبارہ بند کر دیا جائے۔ حادثے کی صورت میں ہونے والے جانی نقصان سے کہیں بہتر ہے کہ سرکار کو توہین عدالت میں سمن آ جائے۔ عدالت میں معافی مانگ کر جان چھوٹ سکتی ہے مگر چلی جانے والی جان واپس نہیں آ سکتی۔ ویسے بھی اس موٹروے کو سارے لوازمات پورے کرنے کے بعد کھولنے کا ایک فائدہ یہ ہو گا کہ شاہ محمود قریشی صاحب اس سیکشن کا دوسری بار افتتاح کر لیں گے۔ آخر سید یوسف رضا گیلانی بھی تو اپنی رہائش گاہ والی ”غوث الاعظم روڈ“ کا دو تین بار افتتاح کر چکے ہیں اور تختیاں بھی لگا چکے ہیں۔ قریشیوں اور گیلانیوں میں پرانی مقابلہ بازی ہے جو جاری رہنی چاہئے۔
(بشکریہ:روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker