خالد مسعود خانکالملکھاری

چوہدری بھکن سے ملاقات۔۔خالدمسعودخان

چوہدری بھکن اب تقریباً عید کا چاند ہو گیا ہے‘ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔ فون پر تو رابطہ کسی نہ کسی طرح ہو جاتا ہے‘ لیکن ملاقات‘ اور وہ بھی تفصیلی‘ تو اب خواب و خیال ہو گئی تھی۔ کل اچانک ہی چوہدری آگیا‘نا صرف آیا‘ بلکہ آکر بیٹھتے ہی حسب ِسابق والی جلدی ڈالنے کی بجائے کہنے لگا: کوئی چائے پانی حاضر کرو‘ بسکٹ بھی ہوں‘ اگر کیک مل جائے تو عیاشی ہوگی۔
مجھے اندازہ ہو گیا کہ آج چوہدری بھکن گپ شپ کے موڈ میں ہے اور اسے کوئی جلدی ہرگز نہیں ہے۔ بیٹھتے ہی کہنے لگا: یہ حکومت کا کیا حال ہے؟ چوروں اور لوٹ مار کرنے والوں کا کیا مستقبل ہے اور یہ جو آٹا اور چینی مافیا حکومت میں بیٹھا ہوا ہے‘ اس کا کیا بنے گا؟ میں نے کہا: تم نے وزیراعظم کا بیان نہیں پڑھا کہ انہوں نے بڑے شدومد سے کہا ہے کہ وہ پیسہ بنانے کے لیے مہنگائی کرنے والے مافیا کو نہیں چھوڑیں گے۔ چوہدری زور سے ہنسا اور کہنے لگا: اس سے تم کیا مراد لے رہے ہو؟ میں نے کہا: ”مراد لینے‘‘ سے تمہاری کیا مراد ہے؟ بڑی سیدھی سی بات ہے کہ وزیراعظم نے لوٹ مار کرکے پیسہ بنانے والے مافیا کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اس کو نہیں چھوڑیں گے۔
چوہدری نے ہنسنا بند کیا اور کہنے لگا: تمہیں دراصل ساری بات کی سمجھ ہی نہیں آئی۔ یہ لوٹ مار کرنے والے‘ پیسہ بنانے والے‘ ذخیرہ اندوزی کرنے والے اور آٹے و چینی سے دنوں کے اندر اربوں بنانے والے وزیراعظم صاحب کے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہی لوگ خان صاحب کے مشیر ہیں۔ یہی مافیا ان کے ارد گرد چھایا ہوا ہے۔ وہ ان کو واقعتاً نہیں ”چھوڑیں گے‘‘۔
میں نے کہا: تم کہنا کیا چاہتے ہو؟ چوہدری مسکرا کر کہنے لگا: وہی کہنا چاہتا ہوں جو تم سمجھے اور نہیں بھی سمجھے۔ اللہ کے بندے۔ میں وہی تمہیں بتا رہا ہوں کہ خان صاحب اپنے ان قریبی رفقا کو‘ اپنے ہمدردوں کو‘ اپنے ارد گرد بیٹھے ہوئے لوگوں کو‘ اپنے محبت کرنے والوں کو‘ آٹا اور چینی سے پیسہ بنانے والوں کو واقعی نہیں چھوڑیں گے۔ اور انہیں چھوڑنا چاہئے بھی نہیں۔ بھلا اتنی معمولی باتوں پر اپنے ساتھیوں کو چھوڑنا چاہیے؟ تم خود بتائو۔ انصاف سے کہو کہ حکمرانوں کو اپنے دست و بازو قسم کے لوگوں کو اس طرح پیسہ بنانے پر‘ ذخیرہ کی گئی چینی پر نفع کمانے پر اور گندم و آٹے کے ہیر پھیر سے چار پیسے بنانے پر چھوڑ دینا چاہیے؟ یہ کوئی نئی بات ہے؟ زرداری صاحب کے ساتھیوں اور دوستوں نے پیسے بنائے۔ زرداری صاحب نے انہیں چھوڑا؟ نہیں۔ میاں نواز شریف اینڈ کمپنی اس لحاظ سے تھوڑی مختلف تھی۔ انہوں نے یاروں‘ دوستوں وغیرہ کو اس قسم کا کوئی موقعہ نہیں دیا۔ اس سہولت سے صرف قریبی عزیز لطف اندوز ہوتے رہے۔ مثلاً میاں شہباز شریف کا داماد شریف۔ میاں نواز شریف کا سمدھی شریف اور اسی قسم کے دیگر شریف وغیرہ وغیرہ۔ کیا میاں نواز شریف نے اپنے ان عزیزوں اور رشتے داروں کو چھوڑا؟ نہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی کے رشتہ داروں اور دوستوں از قسم ڈاکٹر جاوید صدیقی وغیرہ نے ان کے نام پر اور چھتری تلے لوٹ مار کی۔ گیلانی صاحب نے ان کو چھوڑا؟ نہیں۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بھائی صاحب عوام کے اربوں روپے لوٹ کر اڑن چھو ہو گئے۔ جنرل صاحب نے اپنے بھائی کو چھوڑا؟ نہیں۔
بھائی صاحب! جب پہلے والوں نے اپنے کسی دوست‘ رشتہ دار‘ عزیز و اقارب وغیرہ کو لوٹ مار کرنے پر اور پیسہ بنانے پر نہیں چھوڑا تو عمران خان صاحب انہی جرائم میں اپنے دوستوں اور ساتھیوں کو کیوں چھوڑیں؟ وہ کوئی آسمان سے اترے ہیں کہ ہم ان سے اس بات کی امید رکھیں ‘جس کا ماضی میں کوئی وجود نہیں تھا۔ آخر کو عمران خان بھی انسان ہیں اور ان کے دوست اور ساتھی بھی ویسے ہی ہیں‘ جیسے پہلے حکمرانوں کے دوست اور عزیز و اقارب۔ تو بھلا ان بے چاروں کو کیوں تنگ و پریشان کیا جائے؟ ان لوگوں کو بھی وہی سہولیات کیوں نہ ہوں‘ جیسی گزشتہ حکمرانوں کے ساتھ جڑے ہوئے لوگوں کو میسر تھیں؟ ویسے بھی آئین تمام شہریوں کو برابر کی سہولیات اور مواقع کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔
چوہدری نے اپنی طویل تقریر ختم کرکے میری طرف داد طلب نظروں سے دیکھا۔ میں نے چوہدری کو داد دیتے ہوئے کہا: چوہدری! تم کافی دنوں کے بعد آئے ہو اور کافی معقول گفتگو کرنے لگ گئے ہو۔ لگتا ہے‘ اس دوران معقول لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے رہے ہو۔ عقلمندوں کی کمپنی میں بیٹھنے کے کافی فوائد ہوتے ہیں۔ چوہدری نہایت رازدارانہ لہجے میں کہنے لگا: میں اس سارے عرصے میں نہ تو اچھی کمپنی میں بیٹھا ہوں اور نہ ہی عقلمند لوگوں میں اٹھا بیٹھا ہوں۔ میں اس دوران صرف تم جیسے لوگوں سے دور رہا ہوں۔ یہ اسی دوری کا فیضان ہے کہ میں سمجھداری کی باتیں کر رہا ہوں۔
میں نے کہا: چوہدری ! تم ماشاء اللہ آج معقولیت پر آمادہ ہو تو لگے ہاتھوں اور باتوں پر بھی روشنی ڈال دو۔ یہ سینیٹ نے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے اور خاندان والوں کے لیے بزنس کلاس کی ہوائی جہاز کی ٹکٹوں کا مطالبہ کر ڈالا تھا اور کچھ ارکان نے چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہ میں چار سو فیصد اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے اڑھائی لاکھ سے بڑھا کر آٹھ لاکھ ستر ہزار کرنے‘ دیگر ارکان کی تنخواہ میں سو فیصد اضافے کے ساتھ ساتھ بیوی بچوں کے لیے ہوائی سفر کی بزنس کلاس کی مفت ٹکٹوں کا مطالبہ کیا تھا اور چیئرمین اینڈ سپیکر (سیلریز‘ الاؤنسز اینڈ پرویلجز) ایکٹ 1975ء میں ترمیم کی غرض سے اسے سینیٹ میں جمع کروایا تھا‘ جو ابتدائی رائے شماری میں ہی مسترد ہو گیا۔تمہارا کیا خیال ہے اس بارے میں؟
چوہدری کہنے لگا: اس میں حیرانی کی کیا بات ہے؟ جب دو افراد اور ایک جاندار پر مشتمل مختصر سا خاندان دو لاکھ میں گزارہ نہیں کر سکتا تو بھلا دیگر اراکین اسمبلی و سینیٹ کا گزارہ کس طرح خالی خولی تنخواہ میں ہو سکتا ہے؟ ان کا تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ ٹھیک ہے۔ بندے کو ویسے بھی حساب کتاب تو اسی آمدنی کا دینا ہے‘ جو کاغذوں میں درج ہے۔ اب لاکھ ڈیڑھ لاکھ روپے تنخواہ میں بچوں کی پڑھائی کا خرچ بھی پورا نہ ہوتا ہو تو ارکان اسمبلی اپنے باقی اخراجات کا حساب کہاں سے دیں گے؟ پھر نیب پوچھے گا کہ آمدنی سے زیادہ خرچے کا حساب دیں۔ باقی رہ گئی بات اس کی ابتدائی رائے شماری میں مسترد ہونے کی بات تو وہ تمہارے جیسے شر پسندوں سے ڈر کر قرار داد مسترد کی گئی ہے‘ ورنہ اس کے خلاف ووٹ دینے والے بھی مخالفت میں ووٹ ڈالتے ہوئے آپ جیسوں کو دل میں کوس رہے تھے۔
میں نے کہا: چوہدری! گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں یونین کونسل کے ناظم الیکشن پر خرچہ پچاس لاکھ سے زیادہ ہوا ہے تو قومی اسمبلی کے الیکشن کا خرچہ کتنا ہوا ہوگا؟ تمہیں کوئی اندازہ ہے؟ چوہدری نے سر ہلایا اور کہنے لگا: ہاں! پتا ہے۔ ایک کروڑ سے دو اڑھائی کروڑ تک کا خرچہ ہوتا ہے۔ میں نے کہا: جو بندہ الیکشن پر دو اڑھائی کروڑ لگاتا ہے ‘بھلا وہ صرف تنخواہ پر بیٹھا ہوتا ہے؟ اور ویسے بھی جو بندہ صرف رکن اسمبلی ہونے کی تنخواہ لیتا ہے‘ وہ دو اڑھائی کروڑ الیکشن پر کیسے لگا سکتا ہے؟ اور جو یہ پیسے لگا سکتا ہے ‘وہ صرف تنخواہ کا محتاج کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ جو ترقیاتی فنڈز ہیں آخر یہ کس مرض کی دوا ہیں؟ اور ارکان اسمبلی آخر ان ترقیاتی فنڈز کے لیے بے حال کیوں ہوئے جاتے ہیں؟
چوہدری ہنسا اور کہنے لگا: تمہارے سب سوالوں کا جواب تمہارے سوال میں ہی پوشیدہ ہے۔ یہ جو دو اڑھائی کروڑ روپے الیکشن میں لگائے جاتے ہیں بھلا یہ صرف ممبری کی تنخواہ سے وصول ہو سکتے ہیں؟ اللہ کے بندے یہ بزنس ہے۔ پہلے سرمایہ کاری کی جاتی ہے اور پھر نفع کی صورت ِ حال پیش آتی ہے۔ یہ کاروبار ہے اور بزنس کرنے والوں کو بزنس کلاس کی مفت ٹکٹیں ملنی چاہئیں۔ تنخواہوں میں اضافہ ہونا چاہئے۔
ترقیاتی فنڈز کی ریل پیل ہونی چاہیے۔ کم از کم تنخواہ جو سرکاری کاغذات میں پندرہ ہزار روپے ہے‘ بہت سے لوگوں کے لیے اب بھی محض خواب ہے اور عوامی نمائندوں کا گزارہ ڈیڑھ دو لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ‘ جو ان کی اوپر کی آمدنی ہے‘ میں نہیں ہوتا۔ قانون ہونا چاہیے کہ رکن اسمبلی کی سرکاری تنخواہ کم از کم مقرر کردہ تنخواہ کے مساوی ہو گی۔ جس کا دل کرے الیکشن لڑے اور جس کو منظور نہیں‘ وہ گھر بیٹھے۔ اس طرح عوامی نمائندوں کو پتا چلے گا کہ مہنگائی کتنی ہے اور گزارہ کیسے ہوتا ہے؟
اب میرے ہنسنے کی باری تھی۔ میں ہنسا اور چوہدری سے پوچھا: تمہارا کیا خیال ہے‘ ارکان اسمبلی سبزی گوشت اسمبلی سے وصول کردہ تنخواہ سے خریدتے ہیں اور ان کا گزارہ اس تنخواہ پر ہوتا ہے؟ تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ تو اس لالچ کے باعث ہے ‘جو بنی نوع انسان کا خاصا ہے۔ نبیٔ آخرالزمانﷺ نے فرمایا تھا: انسان کا پیٹ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker