خالد مسعود خانکالملکھاری

نصف ایمان کے بغیر ایمان کامل نہیں ہو سکتا۔۔خالدمسعودخان

ہر طرف کورونا، کورونا ہو رہا ہے۔ باقی سب چیزیں ثانوی ہو گئی ہیں۔ میں خود دو بار اپنی یورپ کی ٹکٹ کینسل کروا کر مبلغ پینتیس چالیس ہزار روپے ٹکٹ منسوخی کی مد میں جرمانہ ادا کر چکا ہوں۔ کل رات جب فرینکفرٹ کی فلائٹ دوسری بار کینسل کروائی تو اس کے تھوڑی دیر بعد قطر ائر ویز والوں کی ای میل آ گئی کہ آپ کی فرینکفرٹ کی فلائٹ کے لیے خاص رعایتی ٹکٹ دستیاب ہے۔ اب ائر لائن والوں کا زور ٹکٹ کی فروخت سے زیادہ منسوخی والے جرمانوں کی آمدن پر ہو گیا ہے۔ یعنی ٹکٹ بک کروائیں اور پھر کینسل کروا دیں۔ ہر منسوخی پر پندرہ بیس ہزار روپے بھریں اور چین سے گھر بیٹھیں۔ یعنی کھایا پیا کچھ نہیں، شیشے کا گلاس توڑا ہے ”دس روپے‘‘۔
کل رات آسٹریلیا سے سارہ کا فون آیا اور وہ پوچھنے لگی کہ میں نے ٹکٹ کینسل کروائی ہے یا نہیں؟ میں نے جواب دیا کہ نہیں کروائی ۔ پوچھنے لگی: آپ کا کیا پروگرام ہے؟ میں نے کہا: اب ستائیس مارچ کی ٹکٹ بک کروائی ہے۔ سوال کیا کہ میں یورپ آخر کس لیے جا رہا ہوں؟ میں نے کہا: دراصل میں یہاں پاکستان میں بیٹھ کر کورونا کا انتظار کرنے کے بجائے اس کا پیچھا کرتے ہوئے اسے جا کر پکڑنا چاہتا ہوں۔ سارہ نے میری بات کو باقاعدہ مائنڈ کرتے ہوئے کہا: بابا جان! یہ کوئی مذاق کی بات نہیں‘ معاملہ خاصا سیریس ہے اور آپ عمر کی اس حد میں آتے ہیں جہاں اس بیماری کے حملے کا امکان انتہائی حد تک زیادہ ہے۔ آپ کو تو لگتا ہے کہ ہم لوگوں کی کوئی فکر نہیں مگر ہمیں نہ صرف آپ کی ضرورت ہے بلکہ فکر بھی ہے۔ میں نے اسے کہا کہ کیا وہ مجھے Emotional Blackmail کر رہی ہے؟ وہ کہنے لگی: ایسی کوئی بات نہیں، لیکن ڈریں آپ اس وقت سے اگر آپ کو فرینکفرٹ ائر پورٹ پر اترتے ہی قرنطینہ میں چودہ دن کے لیے ڈال دیا گیا۔ آپ تو کہیں دو دن ٹک کر نہیں بیٹھ سکتے، یہ قرنطینہ والے چودہ دن ایک جگہ پر بیٹھ کر کیسے گزاریں گے؟ میں نے کہا: تمہاری یہ دلیل کافی معقول ہے اور دل کو لگتی ہے۔
سو میں نے ایک بار پھر اپنی ٹکٹ کینسل کروائی اور ائر لائن کو اس مصیبت کے وقت اپنی طرف سے مالی امداد فراہم کی۔ اب ائر لائن مجھے ای میل بھیج کر دوبارہ سستی ٹکٹ کے بہانے لوٹنے کے موڈ میں ہے۔ملک میں مارکیٹس کھلی ہیں، بازاروں میں کھوے سے کھو اچھل رہا ہے۔ ریستوران آباد ہیں۔ بڑے بڑے دفاتر کھلے ہیں۔ کاروباری اداروں میں اور فیکٹریوں میں کام ہو رہا ہے۔ صرف تعلیمی ادارے بند ہیں۔ بقول ایک دوست کے، لگتا ہے یہ کورونا وائرس چین سے ہمارے ہاں صرف تعلیم حاصل کرنے آیا ہوا ہے۔
ہینڈ سینیٹائزر اول تو کہیں سے مل نہیں رہا اور اگر مل رہا ہے تو تین چار گنا قیمت پر۔ اب ایک افواہ یہ پھیلی ہے کہ سبزی منڈی بند ہو رہی ہے۔ اللہ جانے منڈی بند ہوتی ہے یا نہیں، لیکن سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ پہلے سے مہنگی سبزی مزید مہنگی ہو گئی ہے۔ اوپر سے قرنطینہ سنٹرز کا حال ایسا خراب ہے کہ بجائے بیماری کنٹرول کرنے کے بیماری پھیلانے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ ایران سے آنے والے زائرین کو پہلے بلا تشخیص اکٹھے ایک جگہ پر بند کر دیا گیا۔ یعنی صحتمند اور کورونا سے متاثر، سب ایک جگہ جمع کر دیئے گئے۔ جن کو وائرس نہیں تھا ان کو بھی اس سے متعارف کروا دیا گیا۔ اوپر سے ہر قرنطینہ سنٹر سے روزانہ ایک دو مریض بھاگ رہے ہیں۔ یہ مریض اس وائرس کو حتی الامکان حد تک پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں۔ یہ جس بس، ویگن یا ٹرین پر سوار ہو کر بھاگتے ہیں اس کی سیٹوں کو، ہینڈلوں کو، انتظارگاہ کی کرسیوں کو، راستے میں کھانے پینے کے ہوٹلوں پربیٹھنے کی جگہوں کو، برتنوں کو‘ علیٰ ہٰذاالقیاس ہر ممکنہ جگہ کو جسے وہ چھوتے ہیں اس وائرس سے متاثر کر رہے ہیں اور یہ متاثرہ جگہیں بعد میں آنے والے لوگوں کے ہاتھوں وغیرہ کے ذریعے اس وائرس کو آگے پھیلانے کا موجب بن رہی ہیں۔
بندہ کیا کرے اور کہاں جائے؟ دکاندار سے چیز لیتے ہیں۔ اب گھر آنے والی ہر چیز کو کہاں تک اور کیسے Disinfect کریں؟ ایک دوست کو ملنے اس کے دفتر گیا۔ لفٹ کا بٹن دبایا۔ اب کیا کریں؟ لفٹ سے نکل کر اس کے کمرے کے دروازے کے ہینڈل کو پکڑ کر کھینچا۔ اب اس کا کیا حل ہے؟ ان سب کاموں کے بعد ہاتھ کو ہینڈ سینیٹائزر سے دوبارہ صاف کیا۔ اب اس دوست کے کمرے میں کرسی پر جا کر بیٹھا۔ کرسی کے ہینڈل سے ہاتھ بچائے تو میز پر رکھنا پڑے۔ کافی پیتے ہوئے کپ کو ہاتھ میں پکڑا۔ واپسی پر پھر لفٹ کے بٹن کو انگلی سے دبا کر نیچے آیا۔ رات ایک جگہ کھانا کھایا۔ بعد میں بیسن پر ہاتھ دھوئے۔ ہاتھ دھو کر صاف کیے اور پھر ٹونٹی کو بند کرتے ہوئے دوبارہ ہاتھ سے کام لیا۔ اب سب دھلا دھلایا زیرو ہو گیا۔ کس کس چیز کی احتیاط کی جائے اور کس کس چیز کو چھونے سے بچا جائے؟ کام کرنے والے کا کسی چیز سے بچنا نا ممکن ہے۔
میرے گزشتہ کالم کے حوالے سے ڈاکٹر انعام الحق مسعود کا فون آیا۔ چھوٹتے ہی مجھے لتاڑنا شروع کر دیا کہ میرے گزشتہ کالم سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ کورونا ہماری گندگی اور Unhigienic حالات کے باعث یہاں کے لوگوں کو متاثر کر ہی نہیں سکتا۔ برادر عزیز ڈاکٹر انعام نے کہا کہ میرا کالم اس جہالت کو مزید فروغ دینے کا سبب بن جائے گا جو ہمارے ہاں پہلے ہی با افراط موجود ہے۔ میں نے کہا: ڈاکٹر صاحب! میرا پہلے بھی، اور اب بھی یہی تھیسس ہے کہ یہ بیماری ہماری بیماری نہیں؛ البتہ باہر سے کوئی لے آئے تو اس کا کیا کیا جائے؟ اور اب صورتحال یہ ہے کہ اسے پھیلانے والاکوئی ایران سے آیا ہے اور کوئی اٹلی سے۔ہمارے ہاں اس نئی بیماری سے متعلق لوگوں میں قوت مدافعت موجود ہے۔ اسی لیے علاج نہ ہونے کے باوجود مریض صرف اور صرف احتیاط کے زور پر صحتمند ہو کر فارغ ہو کر گھروں کو بھی جا رہے ہیں۔ اگر ان میں قدرتی قوت مدافعت نہ ہوتی تو اب تک ہمارے ہاں سینکڑوں مریض اللہ کو پیارے ہو چکے ہوتے۔ آپ کا کیا خیال ہے یہ جو ہمارے ہاں مریض صحتمند ہو رہے ہیں یہ کسی علاج کے طفیل ہو رہے ہیں؟ یہ اپنی اس قوت مدافعت کے طفیل صحت یاب ہو رہے ہیں جو پہلے سے جسم میں موجود ہے تاہم زیادہ عمر والے، جیسے میں ہو گیا‘ اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ تاہم وہ بھی اس صورت میں جب کوئی ایسا مریض جو اسے باہر سے لے کر آیا ہے اس کا کیریئر بنے اور آگے پہنچائے۔
اس بیماری کے بارے میں بے شمار Conspiracy Theories مارکیٹ میں ہیں۔ نئی نئی کہانیاں ہیں کہ کیسے بعض مغربی ممالک نے یہ وائرس پہلے پیدا کیا اور پھر اسے سازش کے تحت چین کے شہر ووہان میں پھیلا کر چین کی ساری معیشت کو بیک جنبش وائرس لپیٹ کر رکھ دیا۔ کیسے اس وائرس کے بناتے ہی اس کی ویکسین بھی بنا لی گئی تھی اور اسے اب اتنی جلدی مارکیٹ میں لایا جا رہا ہے۔ یہ کہ اس ساری سازش میں تین چار ممالک شامل تھے اور اب چین کی معیشت کو برباد کرنے کے بعد وہ اس ویکسین سے کروڑوں اربوں ڈالر کمائیں گے۔ یہ ساری تھیوریاں بنیادی طور پر سوشل میڈیا کی ”سائنسی تحقیقات‘‘ کا نتیجہ ہیں۔ سوشل میڈیا پر جتنے بڑے بڑے سائنسدان بیٹھے ہوئے ہیں ایسی محیرالعقول تھیوریاں پیش کر رہے ہیں۔ اگر اس سے آدھی تحقیق بھی وہ اس وائرس کی تلفی، علاج، ویکسین کی ایجاد میں کرتے تو دنیا میں اب تک سکون پیدا ہو چکا ہوتا۔ لیکن ان سوشل میڈیائی سائنسدانوں کی تحقیقات کا سارا زور صرف اور صرف سازشی تھیوریوں کو بے نقاب کرنے پر صرف ہو رہا ہے۔
اللہ سے دعا کے ساتھ دوا کرنا ضروری ہے اور با جماعت نماز پر زور دینے اور ایمان کے زور سے وائرس کو برباد کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایمان کو مکمل کرنے کے لیے اس کے نصف پر عمل کیا جائے اور نصف ایمان صرف اور صرف صفائی میں پوشیدہ ہے۔ جب تک یہ والا نصف ایمان ہماری روز مرہ زندگی کا حصہ نہیں بنتا باقی والا آدھا ایمان بھلا ایمان کامل کیسے کہلا سکتا ہے؟
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker