خالد مسعود خانکالملکھاری

Social Distancing کے دوران موج میلہ۔۔خالد مسعودخان

کیا زمانہ تھا جب گھروں میں ماہانہ رسائل آیا کرتے تھے۔ کتابیں پڑھی جاتی تھیں اور لوگ رات کو اکٹھے بیٹھ کر حالاتِ حاضرہ پر تبصرے اور باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کرتے تھے۔ ہمارے گھر آدھی درجن رسائل آتے تھے۔ اردو ڈائجسٹ اور سیارہ ڈائجسٹ بڑوں کیلئے‘ زیب النسا اور حور میری بہنیں اور والدہ پڑھتی تھیں اور تعلیم و تربیت‘ نونہال اور بچوں کی دنیا پڑھنے والا صرف میں تھا۔ پھریوں ہواکہ میں نے بچوں کی دنیا‘ نونہال اور تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ اردو ڈائجسٹ اور سیارہ ڈائجسٹ پر بھی ہاتھ صاف کرنے شروع کردیئے۔ پڑھنے کی رفتار جب بہت زیادہ ہوگئی اور ایک مہینے بعد گھر میں آنے والے سب رسالے دو دن میں ختم ہونے لگ گئے تو پڑھنے کے چسکے نے حور اور زیب النسا تک کو نچوڑ کر رکھ دیا۔ کبھی کبھار ایک اور ماہنامہ بھی نظر آ جاتا تھا اس کا نام غالباً جرس تھا۔
پھر گھر میں بچوں کی دنیا‘ تعلیم و تربیت اور نونہال آنا بند ہو گئے۔ وجہ یہ تھی کہ اب دل ننھے کے کارنامے کے بجائے عمران سیریز اور کیپٹن حمید اور کرنل فریدی کا اسیر ہو گیا تھا۔ ابن صفی ہمارا پسندیدہ ادیب تھا۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی آسانی یہ ہوئی کہ ابن صفی کو گھر میں مشترکہ قاری میسر تھے۔ بڑا بھائی مرحوم طارق محمود خان اور کسی حد تک دونوں بہنیں بھی عمران سیریز کی علت میں مبتلا تھیں۔ ان تینوں کے بعد کتاب میرے ہاتھ لگتی تھی۔ کچھ عرصہ بعد کتابوں کی خریداری کے رقم کا بندوبست مشترکہ پول کے ذریعے ہونا شروع ہو گیا تو کافی آسانی ہو گئی۔ مشترکہ پول میں تینوں بڑے بھائی‘ بہن اپنے ماہانہ ملنے والے پیسوں میں سے برابر رقم ڈال کر کتابیں خریدتے۔ میں ان دنوں چھوٹا ہونے کے باعث محض ”مفت بری‘‘ میں مزے کرتا تھا؛ تاہم مجھے کتاب تب ملتی جب تینوں اسے پڑھ کر فارغ کر دیتے۔ میں کتاب پڑھنے کے بعد ڈیوڑھی کے بعد والے پہلے کمرے میں موجود اپنی الماری میں سجا لیتا تھا۔ یہ میری پہلی لائبریری تھی۔
ملتان میں حرم گیٹ کے باہر پھولوں والی اور نوٹوں کے ہاروں والی دکانوں کے ساتھ ہی ایک بک سٹال تھا۔ اس پر ہر ماہ ایک گتے کا بورڈ ستلی سے لٹکا دیا جاتا۔ اس پر لکھا ہوتا کہ ابن صفی کا نیا ناول آ گیا ہے۔ یہ سٹال ہمارے گھر کے قریب رہنے والے اعجاز عرف اجّو اور سجاد عرف سجّو کے والد کا تھا۔ وہ کتاب کی خریداری پر چار آنے کی رعایت کرتے تھے۔ ہم اس رعایت کا فائدہ اٹھانے کے لیے حرم گیٹ جا کر ابن صفی کی کتابیں خریدا کرتے تھے۔ ابن صفی بھی ایک نشہ تھا۔ مرحوم ابن صفی کی کتابوں کی مقبولیت نے ہمارے ہاں ایک نئی طرح ڈال دی۔ دیکھا دیکھی کوئی این صفی میدان میں آ گئیں‘ پھر ملتان سے مظہر کلیم نے اس میدان میں پاؤں رکھا۔ ابن صفی نے علی عمران‘ صفدر‘ جولیانا فٹز واٹر‘ خاور‘ بلیک زیرو‘ قاسم‘ سنگ ہی‘ تھریسابمبل بی بوہیمیا (ٹی تھری بی)‘ جوزف‘ جیمسن‘ سر رحمان اور کیپٹن فیاض کے کرداروں کو عمران سیریز میں اور کرنل فریدی اور کیپٹن حمید کو فریدی سیریز میں اس طرح متعارف کروایا گیا کہ یہ کردار بعد میں آنے والے مصنفین نے بھی ایسے استعمال کیے جیسے ان کے ذاتی ہوں۔ مظہر کلیم نے اپنے جاسوسی ناولوں میں شکیل اور جوانا کے کردار بھی ڈالے۔
گھنٹہ گھر ملتان کے پاس کتابوں کی دکانیں تھیں۔ چچا عمر خان ابا جی مرحوم کے دوست تھے۔ تب وہ پاکستان بک سنٹر میں پارٹنر تھے۔ میں ہر مہینے ملنے والا جیب خرچ لے کر وہاں چلا جاتا اور فیروز سنز کی کتابیں خریدتا۔ شروع شروع میں یہ کتابیں کم قیمت پر دستیاب تھیں۔ بعد ازاں کافی عرصہ تک اڑھائی سے تین روپے میں دستیاب تھیں؛ تاہم چچا عمر خان اڑھائی روپے والی کتاب تقریباً ڈیڑھ روپے میں دیتے تھے۔ ایک روپے کی رعایت تب ایسے لگتی تھی کہ گویا ہماری لاٹری نکل آئی ہے۔ داستان امیر حمزہ اور طلسم ہوشربا سیریز کی دو درجن سے زائد کتب کئی ماہ کے جیب خرچ کا نتیجہ تھیں۔ اس کے علاوہ بھی بیسیوں کتابیں ان سے خریدیں۔ پھر یوں ہوا کہ سب رنگ ڈائجسٹ آ گیا۔
سب رنگ ڈائجسٹ کے احسانات کی تعداد لاتعداد ہے اور شکیل عادل زادہ کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے عالمی سطح کے ادب کے ساتھ ساتھ اردو کا بہترین ادب عام قاری تک پہنچایا۔ عام قاری سے میری مراد وہ لوگ ہیں جو محض ”ڈائجسٹی ادب‘‘ کے رسیا تھے۔ انہیں معیاری ادب کا چسکا شکیل عادل زادہ صاحب نے لگایا۔ مافوق الفطرت سے لیکر حقیقت تک ‘ ہر قسم کی داستان کی چاٹ انہوں نے لگائی۔ شوکت صدیقی کا جانگلوس اور مافوق الفطرت ”انکا‘‘ اور سب سے بڑھ کر بابر زمان اور استاد بٹھل کی ”بازی گر‘‘۔ ان کا تو ایسا نشہ لگا کہ پندرہ دن کے بعد ہی بک سٹال والے سے پوچھنا شروع کر دیتے کہ سب رنگ آیا ہے یا نہیں؟ پھر سب رنگ ہر ماہ کی بجائے دو ماہ‘ پھر تین ماہ پھر سال کے سال اور اب سالوں سے منتظر ہم ہیں اور ہماری آس۔
ہاں ایک بات بھول گیا۔ اس دوران نسیم حجازی نے اپنا رنگ جمائے رکھا۔ تھوڑا عرصہ ہوا کسی بزعم خود روشن خیال اور سچ بولنے کے دعویدار دوست نے کہا کہ نسیم حجازی نے ہمیں گمراہ کیے رکھا اور ایسے لوگوں کو ہمارا ہیرو بنا دیا جو اس کے اہل ہی نہ تھے۔ میں نے کہا آپ سراسر غلط ہیں اور آپ کا تجزیہ مکمل طور پر متعصبانہ ہے۔ بچپن میں انسان کے ایسے ہی ہیرو ہونے چاہئیں جیسے نسیم حجازی کے تھے۔ بڑے ہو کر آپ کو بہت سی باتوں کا پتا چلتا ہے لیکن بچپن اور لڑکپن میں انسان کے ہیرو اسے بہادری‘ دلیری‘ جذبۂ حریت اور ایسی ہی مثبت چیزوں سے روشناس کرواتے ہیں اور بچپن کی یہ Hero worship آپ کو خواب میں گھوڑے پر چڑھاتی ہے۔ تلوار سے دشمن کے کشتوں کے پشتے لگواتی ہے۔ آپ کو ایسا بننے کی طرف مائل کرتی ہے۔ بچپن اور لڑکپن کو ایسے ہی ہیروز کے درمیان خیال کے گھوڑے دوڑاتے ہوئے گزارنا چاہئے۔ چند سال قبل میں جہانگیر بک ڈپو کے فواز نیاز کے پاس گیا تو نسیم حجازی کا پورا سیٹ نئے سرے سے شائع ہوا تھا۔ پورا سیٹ پیک کروا لیا اور اپنے ساتھ ملتان لے آیا۔ اس سے میرے لڑکپن کی یادیں جڑی ہوئی ہیں۔ پھر سعید احمد کے تاریخی ناول۔ آنہ لائبریری کے بارے میں تو میں کئی بار لکھ چکا ہوں اور اب بھی اس کی کمی بڑی شدت سے محسوس کرتا ہوں لیکن کیا کیا جائے؟ وقت کو ری وائنڈ کرنا نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی کسی کو اس پر قدرت حاصل ہے۔
ایک اورضروری بات یہ کہ تب گھروں میں خواتین کے ناول بہت مقبول تھے۔ ماں جی مرحومہ نے سینکڑوں ناول پڑھے ہوں گے۔ گھر میں ہمہ وقت دوچار ناول موجودہوتے تھے۔ حاجرہ مسرور‘ خدیجہ مستور اور عصمت چغتائی کے افسانوں سے ہٹ کر خواتین مصنفین کے ناول بھی تب بڑی تعداد میں چھپا کرتے تھے۔ ان میں دوچار نام تو ذہن پر ایسے نقش ہیں گویا کل کی بات ہو۔ رضیہ بٹ‘ سلمیٰ کنول‘ اے آرخاتون اورزبیدہ خاتون تب معروف ترین نام تھے۔ رضیہ بٹ کے کئی ناولوں پر ڈرامے بھی بنے۔ سلمیٰ کنول کے ناولوں میں تیرے بنا‘ دل کی چوکھٹ‘ لالہ‘ لکیریں‘ اکیلی‘ پتھر‘ سہاگن‘ سنگسار اور عروج بہت مقبول ہوئے۔ زبیدہ خاتون کے مشہور ناولوں میں نہالہ‘ ریشمہ‘ شوخیاں‘ ترنم اور زندگی و فریب تھے۔ سچ یہ ہے کہ شاید یہ نام یاد نہ آتے مگر کل اچانک شوکت گجر کی میز پر سلمیٰ کنول کا ناول صدف دیکھا تو ماضی کی فلم سی آنکھوں کے سامنے چل پڑی۔
ہر طرف کورونا کا رولا پڑا ہوا ہے اور لاک ڈاؤن کافی مریل حالت میں چل رہا ہے۔ قوم موج میلے کی شوقین ہے اور وہ کورونا وائرس میں سے بھی تفریح کا کوئی پہلو نکالنے کی آرزو مند ہے اور لاک ڈاؤن انہیں محض روکنے سے کوشش کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ میرے سامنے تین راستے تھے۔ وہی کچھ کروں جو ہمیشہ سے کرتا آ رہا ہوں یعنی آوارہ گردی کروں۔ دوسرا یہ کہ گھر میں بیٹھ کر ٹی وی دیکھوں اور بور ہو جاؤں اور تیسرا یہ کہ حال پر کڑھنے کے بجائے ماضی کے مزے لوں۔ سو میں ماضی کے مزے لے رہا ہوں۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ان یادوں کے ساتھ رہنے سے‘ ان سے گلے ملنے سے‘ ان سے جپھیاں ڈالنے سے اور ساتھ لپٹانے سے Social Distancing کی حالیہ ہدایت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ احتیاط اور موج میلہ ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔ کالم ختم ہوا۔ میں ذرا اپنے ہاتھ اچھی طرح دھو لوں۔ باقی اللہ اپنا کرم کرے گا۔ ان شا اللہ۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker