خالد مسعود خانکالملکھاری

سیاستدان اور سچائی۔۔خالد مسعودخان

میاں نواز شریف کی گزشتہ دنوں اے پی سی میں ہونے والی دھواں دھار تقریر سے ایک شعر بڑی شدت سے یاد آیا:
تمہارے وصل سے یہ راز تو کُھلا مجھ پر
کہ مجھ کو ہجر جو لاحق ہے وہ تمہارا نہیں
ان کی چوّن منٹ پر مشتمل صحت مند تقریر سن کر ہم پر یہ عقدہ تو کھلا کہ ان کو جو بیماری لاحق ہے وہ کم از کم جسمانی ہرگز نہیں وگرنہ اس دوران کسی قسم کی کمزوری یا ضعف سے اس کی نشاندہی ضرور ہوتی‘ مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔ قریشی اس دوران اپنے محبوب قائد کی صحت کے بارے میں بڑا پریشان تھا اور جوں جوں تقریر لمبی ہو رہی تھی توں توں اس کی حالت غیر ہوتی جا رہی تھی کہ کہیں اس طویل تقریر سے اس کے محبوب قائد کو غش ہی نہ پڑ جائے۔ اور ہمیں یہ فکر تھی کہ اگر ایسا ہوا تو ہمیں قریشی کو بھی سنبھالنا پڑے گا؛ تاہم شاہ جی اس تماشے کے اسی طرح منتظر تھے جیسے کوئی خوش فہم اونٹ کے نچلے ہونٹ کے گرنے کے انتظار میں بیٹھا رہے۔ جب تقریر ختم ہوئی تو نہ میاں صاحب کو کچھ ہوا اور نہ ہی قریشی کو کچھ ہوا۔ ہماری تو خیر ہے‘ شاہ جی بڑے مایوس ہوئے کہ بقول ان کے وہ گھنٹہ بھر اس تقریر کے لیے نہیں بلکہ سکرین پر ایک عدد غش اور اس کے نتیجے میں آنکھوں کے سامنے قریشی کو پڑنے والے غش کے انتظار میں بیٹھے رہے مگر ان کے ساتھ وہی کچھ ہوا جو چچا غالبؔ کے ساتھ ہوا یعنی
تھی خبر گرم کہ غالبؔ کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے پہ تماشا نہ ہوا
کل لاہور میں میاں نواز شریف کے عاشق ایک صحافی دوست سے ملاقات ہوئی تو وہ چھوٹتے ہی مجھ سے پوچھنے لگاکہ تقریر کیسی تھی؟ میں نے کہا: حقیقت یہی ہے کہ میاں نواز شریف کی تقریر پوری اے پی سی سے آگے نکل گئی تھی بلکہ یوں کہیں کہ ان کی تقریر پیپلز پارٹی کی اے پی سی کو کھا گئی تھی۔ میرے وہ دوست بہت ہی خوش ہوئے اور کہنے لگے: آپ نے بالکل درست کہا۔ میں نے کافی کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب کی یہ تقریر جہاں اے پی سی کو کھاگئی وہیں شہباز شریف کے بیانیے کو بھی کھاگئی ہے۔ میرے وہ صحافی دوست اور زیادہ خوش ہوئے۔ میاں نواز شریف کے بیانیے سے متفق اور متاثرین اور بہت سے لوگوں کی طرح میرا یہ دوست بھی میاں شہباز شریف کی ہر قسم کی سیاسی پسپائی پر بڑا خوش ہوتا ہے۔ وہ مجھ سے پوچھنے لگا: آپ اس تقریر کے بارے میں کیا کہیں گے؟ میں نے کہا: اگر کوئی بندہ چار ہزار نو سو ستر کلومیٹر کے فاصلے پر ہو تو ایسی بہادری دکھانا زیادہ مشکل کام نہیں‘ خواہ تقریر پاکستان سے ہی لکھ کر کیوں نہ بھجوائی گئی ہو؛ تاہم یہ بات طے ہے کہ یہ تقریر میاں نواز شریف کیلئے فائدہ مند اور مسلم لیگ ن کیلئے ضرر رساں ثابت ہو گی۔
دوست پوچھنے لگا: وہ کیسے؟ میں نے کہا: میاں نواز شریف لندن میں ہیں اور مزے میں ہیں۔ ما شا اللہ صحت مند ہیں اور عقلمند بھی۔ ان کی صحت مندی تو ان کی تقریر میں نظر آنے والی انرجی سے واضح ہو گئی تھی؛ البتہ ان کی اس تقریر کے جو دانشمندانہ اور عقلمندانہ پہلو ہیں وہ آپ پر آہستہ آہستہ کھلیں گے۔ اب میاں صاحب کا پاکستان آنا کم از کم میرے نزدیک تو ممکن نہیں اور یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ اس پر دکھی ہوا جائے‘ یہ میاں صاحب نے جان بوجھ کر اور سوچ سمجھ کرکیا ہے۔ میاں صاحب آہستہ آہستہ‘ بڑے غیر محسوس طریقے سے الطاف حسین والے فارمولے آزما رہے ہیں۔ پہلے انہوں نے فرمایا کہ وہ پاکستان آنا چاہتے ہیں لیکن اس کا فیصلہ ان کی پارٹی کرے گی۔ اب پارٹی کیا ہے؟ گھر کی لونڈی۔ مریم نواز نے کہہ دیاکہ میاں نواز شریف کا اس حالت میں پاکستان آنا بالکل مناسب نہیں۔ ساری پارٹی نے باآواز بلند نعرہ لگا دیاکہ میاں صاحب کا پاکستان آنا کسی طور مناسب نہیں اور ہم اس حق میں نہیں کہ وہ پاکستان آئیں۔ چلیں معاملہ طے ہوگیا کہ میاں صاحب تو واپس آنا چاہتے تھے مگر پارٹی کے پُرزور اصرار پر واپس پاکستان نہیں آرہے۔ الطاف حسین بھی اسی طرح کا ڈرامہ کیا کرتے تھے کہ دو چار مہینوں بعد پارٹی کی رہبری اور قیادت سے دستبرداری اور علیحدگی کا اعلان کرتے اور پھر کراچی کے عوام کے پر زور اصرار پر اور رابطہ کمیٹی و کارکنان کے مجبور کرنے پر مستعفیٰ ہونے کا ارادہ بدل لیتے‘ یعنی ع
رند کے رند رہے، ہاتھ سے جنت نہ گئی
وکیلوں کی کارکردگی سے مایوس نواز شریف نے بعدازاں اپنی ساری امیدیں ڈاکٹروں سے وابستہ کرلی تھیں۔ ان کی یہ حکمت عملی پوری طرح کامیاب ہوئی اور وہ ان رپورٹوں کو بنیاد بناکر بظاہر کوئی ڈیل کیے بغیر پاکستان سے لندن آگئے۔ جدہ جاتے ہوئے انہوں نے دس سال کا ایک معاہدہ کیا جو کئی بار ان کے گلے پڑا۔ اس بار انہوں نے سب کچھ زبانی کلامی طے کیا اور اپنے برادر خورد کے دستخطوں والا پچاس روپے کا اشٹام پیپر عدالت میں جمع کروا کر برطانیہ آ گئے۔ قانون کا پیٹ اس پچاس روپے کے کاغذ سے بھرگیا اور حکمرانوں کا دل اطمینان سے بھرگیا کہ چلیں بیمار قیدی سے جان چھوٹی جو یہاں رہ کر خواہ مخواہ تنگ کررہا تھا۔ حکمرانوں کا سارا زورِ بیان کرپشن کے خلاف تھا اور وہ کسی کرپٹ کو نہ چھوڑنے کا نعرہ لگا کر برسر اقتدار آئے تھے۔ انہوں نے پہلے ان میڈیکل رپورٹوں کی آڑ میں میاں نواز شریف سے اپنی جان چھڑوا لی اور بعد میں رولا ڈال دیا‘ حالانکہ یہ سارا طے شدہ سکرپٹ تھا‘ لیکن حکومت کو یہ زعم تھاکہ وہ کسی بھی وقت عدالتی حکم اور میاں شہباز شریف کے ضمانت نامے کی بنیاد پر میاں نواز شریف کو واپس بلوا لے گی۔ میاں صاحب ان سے زیادہ ہوشیار، جہاندیدہ اور ڈیل گزیدہ شخص تھے‘ سو انہوں نے اس تقریر کے ذریعے اپنی کسی قسم کی پاکستان طلبی کو روکنے کیلئے اپنا سٹیٹس مجرم سے زیادہ سیاسی پناہ گزین کا بنا لیا ہے اور اب وہ شاید ہی واپس آئیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے وہ ان فلیٹس میں بڑی آرام دہ زندگی گزاریں گے جو ان کے دعوے کے مطابق سرے سے ان کی یا ان کے بچوں کی ملکیت ہی نہیں ہیں۔
اس تقریر کے تیر سے انہوں نے کئی شکار کیے ہیں۔ اپنا برطانیہ میں رہائشی سٹیٹس تبدیل کرنے کا مضبوط انتظام بھی کرلیا اور میاں شہاز شریف کے بیانیے کی منجی بھی ٹھوک دی۔ مسلم لیگ ن کے کارکنوں نے میاں صاحب کیلئے وہ قربانی نہیں دی تھی‘ جس کی وہ توقع کر رہے تھے‘ لہٰذا جس طرح مسلم لیگ ن کے کارکنوں نے مصیبت اور مشکل میں ان کے ساتھ ہاتھ کیا اور اب میاں صاحب نے اس تقریر کے ذریعے ان کے ساتھ ہاتھ کرکے ان کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ اس پورے معاملے میں پاکستان میں صرف مریم نواز شریف واحد شخصیت ہیں جو سراسر فائدے میں ہیں اور اس تقریر کے سارے جذباتی اور مثبت ثمرات سمیٹنے میں کامیاب رہیں۔
سیاسی کارکنوں کی ذہنی غلامی کا یہ عالم ہے کہ ادھر میاں نواز شریف کا بیانیہ اپنے جھنڈے گاڑ رہا ہے اور دوسری طرف ان کے بالکے انہی کے چرن چھو رہے ہیں‘ جن کے بارے میں میاں صاحب کی چوّن منٹ کی تقریر کی تھی۔ مریم نواز نے پہلے تو کہاکہ عسکری قیادت سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ پھر کہاکہ ملاقات کرنے والے میاں نواز شریف کے نمائندے نہیں تھے جبکہ ملاقات کرنے والوں میں مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف، میاں نواز شریف کے بیانیے کے علمبردار خواجہ آصف، محمد زبیر اور احسن اقبال شامل تھے۔ اب آخر میں پھڈا یہ آن پڑا ہے کہ ملاقات ون آن ون نہیں تھی۔ چلوجی! گل بھی مک گئی اور یہ بھی پتا چل گیا کہ سیاستدان اور سچائی کبھی بھی ایک نہیں ہو سکتے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیاـ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker