Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعرات, جون 4, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • معیشت کے بارے میں بے بنیاد دعوے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • عید قرباں اورلائیو سٹاک کا ڈوبتا سرمایہ : برملا / نصرت جاوید کا کالم
  • قاتل کی بیوی اور بیٹا پروفیسر محی الدین کے فارم ہاؤس پر ملازم تھے : قتل کے حقائق کیا ہیں ؟ ان کہی / نسیم شاہد کا کالم
  • طوفانی بارش اور ژالہ باری : کے پی کے میں چھت گرنے سے 6 بچے ہلاک
  • علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین ’ذوالحج کے آخر یا محرم کی ابتدا‘ میں ہوگی: ایرانی عہدیدار
  • دہشت گردی کے خاتمے میں علماء کرام کا کردار بہت اہم ہے : پروفیسر ڈاکٹر طحہ قریشی
  • ایران نے صدر مسعود پزشکیان کے استعفے کی تردید کر دی
  • لبنان میں اسرائیل کے عزائم کیا ہیں؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • لبنان کے تاریخی قلعے پر اسرائیلی قبضہ : فرانس نے سلامتی کونسل کا اجلاس بلا لیا
  • فرانس میں چیمپیئنز لیگ کے جشن کے بعد ہنگامے، 400 سے زیادہ افراد گرفتار
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»کالم»سو جوتے اور سو پیاز کھانے والا محاورہ۔۔خالد مسعودخان
کالم

سو جوتے اور سو پیاز کھانے والا محاورہ۔۔خالد مسعودخان

ایڈیٹردسمبر 1, 20200 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

اگر ملتان میں جلسہ ہونے یا نہ ہونے کا پھڈا نہ پڑتا تو یہ جلسہ محض ایک دن کا شو تھا لیکن حکومت کی طرف سے اسے روکنے کی فضول اور بالآخر ناکام کوششوں نے اسے چار دن کا شو بنا دیا اور شو بھی ایسا کہ گزشتہ چار روز سے پرنٹ میڈیا میں بھی ہیڈ لائن بنا ہوا ہے اور الیکٹرانک میڈیا میں بھی یہی چھایا ہوا ہے اور آئندہ چار دن بھی اسی کا تذکرہ ہی چلے گا۔ اگریہ جلسہ ایک دن میں ہو جاتا تو زیادہ سے زیادہ یہ معاملہ زیربحث رہتا کہ شرکاکی تعداد کتنی تھی؟ اس کے علاوہ شاید کسی بات پر بھی کھینچا تانی نہ ہوتی مگر حکومت کی جانب سے اس جلسے کو روکنے کی کوششوں نے اسے مقامی سے زیادہ قومی سیاسی مسئلہ بنا دیا اور کیا حکومت اور کیا اپوزیشن‘ سب صرف اور صرف اسی جلسے کو عزت و آبرو کا مسئلہ بنائے بیٹھے تھے۔ گزشتہ رات سے قلعہ کہنہ قاسم باغ کی جانب جانے والے راستوں کو بند کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ آج صبح (مورخہ تیس نومبر) گھنٹہ گھر اور قلعہ کہنہ قاسم باغ جانے والے سارے راستے نہایت ہی فضول طریقے سے بند کر کے جلسہ روکنے کی منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ مخلوق خدا کو تنگ و پریشان کرنے کی حتی المقدور کوشش میں سرکار کو کافی حد تک کامیابی ہوئی ہے۔ شہر کے داخلی و خارجی راستے بند تھے مسافروں کو بہت زیادہ تنگی کا سامنا کرنا پڑا البتہ فضل الرحمن اور مریم نواز شریف کو شہر میں داخل ہونے میں کوئی دقت پیش نہیں آئی۔ رانا ثنا اللہ ہوٹل میں محصور رہے اور پولیس انہیں پکڑنے کی پوری تگ و دو کرتی رہی ہے اب پتا نہیں وہ ہوٹل کے اندر ہی رہیں گے یا پھر پکڑے جائیں گے؛ تاہم اس آنکھ مچولی کے نتیجے کا پتا چلنے سے پہلے کالم اپنی منزل مقصود تک پہنچ چکا ہو گا۔
یہ شو پیپلز پارٹی نے اپنے یومِ تاسیس کے حوالے سے قابو کر لیا تھا اور اس جلسے کے حوالے سے یوسف رضا گیلانی اور ان کے برخورداران کی لاٹری نکل آئی۔ گیلانی خاندان نے اس جلسے کے زور پر اپنی سیاسی دکانداری جو خاصی ناگفتہ بہ صورتحال کا شکار تھی‘ خاصی حد تک دوبارہ چمکا لی ہے۔ پی ڈی ایم کے گزشتہ سارے جلسوں میں سید یوسف رضا گیلانی سیاسی طور پر پچھلے بینچوں پر بیٹھے دکھائی دے رہے تھے حتیٰ کہ راجہ پرویز اشرف کو یوسف رضا گیلانی سے کہیں زیادہ اہمیت اور پذیرائی مل رہی تھی ۔اب اس جلسے کے طفیل یوسف رضا گیلانی اپنے چاروں بیٹوں سمیت بہت زیادہ لائم لائٹ میں آ گئے ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی پہلے اکیلے الیکشن لڑتے تھے۔ پھر ان کے بڑے فرزند عبدالقادر میدان میں آ گئے۔ تب تیسرے فرد یوسف رضا گیلانی کے برادر خورد سید مجتبیٰ گیلانی المعروف مجّو سائیں بھی سیاسی وراثت میں حصہ دار تھے۔ گزشتہ سے پیوستہ الیکشن (2013ء) میں یوسف رضا کے تین چھوٹے جڑواں بیٹوں میں سے ایک علی موسیٰ گیلانی این اے 148 ملتان I سے پیپلز پارٹی کے امیدوار تھے۔ یہاں سے مسلم لیگ کے عبدالغفار ڈوگر نے علی موسیٰ اور شاہ محمود قریشی کو شکست دی تھی۔ ان کے بڑے بیٹے عبدالقادر این اے 151ملتان II سے قومی اسمبلی کے امیدوار تھے انہوں نے سکندر بوسن سے شکست کھائی۔ خود سید یوسف رضا گیلانی پانچ سالہ نااہلی کے باعث الیکشن نہ لڑ سکے؛ تاہم انہوں نے 2018 ء کے الیکشن میں ساری کسریں نکال لیں اور ان کے گھرکے چار لوگ الیکشن میں امیدوار تھے۔ خود سید یوسف رضا این اے 158 ملتان V سے امیدوار قومی اسمبلی تھے‘ گیلانی صاحب اس حلقے سے ابراہیم خان سے شکست کھا گئے۔ حلقہ این اے 157 ملتان IV سے علی موسیٰ گیلانی امیدوار تھے اور شاہ محمود کے فرزند زین قریشی سے سات ہزار ووٹوں سے پیچھے رہ گئے۔ صرف ان کا ایک بیٹا علی حیدر گیلانی صوبائی نشست پی پی 211 ملتان I سے الیکشن جیت کر پنجاب اسمبلی کا ممبر بنا۔ ان کا چوتھا بیٹا علی قاسم سیاست سے دور تھا لیکن ملتان کے حالیہ جلسے کا سارا انتظام وانصرام علی قاسم کے ذمے تھا۔ یہ ان کے خاندان کا آخری فرد (مردوں میں) تھا جو سیاسی میدان میں داخلے سے محروم تھا سواب ان کی یہ محرومی بھی ختم ہو گئی۔اس سارے شو کا سب سے زیادہ فائدہ گیلانی خاندان کو ہوا اور وہ ایک بار پھر قومی خبروں کا مرکز ہیں۔ گزشتہ سے پیوستہ روز جب پولیس نے سٹیڈیم کے تالے توڑنے پر علی موسیٰ کودیگر رہنماؤں کے ہمراہ گرفتار کیاتو تھانے لے جانے کے بعد ایس ایچ او نے ان کو کہا کہ وہ لوگ رات کیلئے گھرجا سکتے ہیں اور صبح دوبارہ تھانے آ جائیں توانہوں نے گھر جانے سے انکار کرتے ہوئے کہاکہ وہ گھر جانے کے بجائے صبح عدالت جانا چاہیں گے اور وہ اگلے روز ضمانت کرواکر واپس گھر آ گئے۔ حالانکہ حالت یہ تھی کی رات کو علی موسیٰ کی قیادت میں نکلنے والی ریلی میں شرکاکی تعداد شرمناک حد تک مایوس کن تھی؛ تاہم اس طرح سرکار نے اپنی حماقت سے انہیں ایک بار پھر متحرک سیاسی لیڈرکے طور پر متعارف کروا دیا۔ اسی دوران مسلم لیگ (ن) کا سابقہ ایم این اے عبدالغفار ڈوگر پتلی گلی سے کھسک گیا۔ پولیس سے اپنے پرانے تعلقات اور رابطوں کے طفیل پولیس نے بھی اسے ”راہداری‘‘ کی سہولت مرحمت فرمائی ا ور وہ بھی اپنے سابقہ ریکارڈ کے باعث پولیس کی ہدایت سے سرتابی کی جرأت نہ کر سکا اور آرام سے کھسک گیا۔ صرف عبدالرحمان کانجو ا ور عبدالغفور حیدری تھے ‘جو سٹیڈیم میں ڈٹے رہے ۔
دو دن پہلے رات کو پولیس نے جوآپریشن کیا وہ صرف اس لئے کامیاب ہوا کہ پوری پی ڈی ایم اپنے اپنے لیڈر کی قیادت میں بکھری ہوئی تھی۔ عبدالغفار ڈوگرتو رضا کارانہ طور پر غائب ہو گیا‘باقی ہر لیڈر اپنے سو پچاس ہمراہیوں کے ساتھ علیحدہ علیحدہ دکان سجائے بیٹھا تھا‘ کہیں علی حیدر تھا تو کہیں علی قاسم‘کہیں وحید ارائیں تھا تو کہیں طارق رشید۔ قریب ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ لوگوں کو سو ڈیڑھ سو پولیس اہلکاروں نے مزے سے تتر بتر کردیا۔ پلاننگ میں کی جانے والی حماقت کا یہ عالم تھا کہ جلسے سے تین دن پہلے سٹیڈیم میں بستروں سمیت کارکنوں کو بلا گیا گیا‘حالانکہ یہ کام آخری رات کرنا چاہئے تھا۔ آج (تیس نومبرکو) صورتحال یہ تھی کہ پنجاب بھر کی پولیس ملتان میں براجمان ہے اور یہ سینکڑوں لوگ بسوں میں اس طرح ٹھونس کر لائے گئے ہیں کہ کوروناایس او پیز کی دھجیاں اڑا کررکھ دی گئی ہیں۔ جلسے سے تو کورونا پھیلے یا نہ پھیلے‘ پولیس کی اس طرح سے نقل و حرکت سے ضرور پھیلے گا‘ بھلا وائرس کو کیا علم ہو سکتا ہے کہ پھیلانے والا سرکاری اہلکار ہے یا اپوزیشن کا بندہ ہے۔ حکومت کو بھی کورونا کا پھیلاؤ صرف اسی جلسے میں نظر آ رہا ہے۔ملتان میں اس جلسے کے پینا فلیکس دیکھ کرجلسے والوں کی ذہنیت پربھی افسوس ہوا۔ مسلم لیگ ن کی جانب سے لگائے گئے بڑے بڑ ے پینافلیکس پر لکھا ہوا تھا؛ چلو چلو قلعہ کہنہ قاسم باغ چلو۔ مریم نواز آ رہی ہے۔
یہ وہ حکومت ہے جو کہتی تھی کہ اگر اپوزیشن دھرنا دینا چاہے تو ہم اسے کنٹینر بھی فراہم کریں گے اور کھانا بھی پہنچائیں گے۔ اب یہ عالم ہے کہ جلسہ روکنے کیلئے شہر کے نالوں پر کنٹینر دھرے ہوئے ہیں اور کھانا جیل یا حوالات میں پہنچایا جا رہا ہے۔ وعدہ تو پورا کیا لیکن کس طرح؟ اس افراتفری میں نوبت یہاں تک پہنچی کہ پولیس نے جلال پور پیروالہ سے پی ٹی آئی کے ضلعی کوآرڈینیٹر کو بھی حوالۂ زنداں کر دیا۔ یہ سارا کھڑاک کھڑا کرنے کے بعد عین وقت پر حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور رکاوٹیں ہٹا لی گئیں۔ جلسہ قاسم باغ میں نہ سہی گھنٹہ گھر میںسہی ‘لیکن ہوگیا۔ اس متوقع بے وقعت سے جلسے کو کامیاب کرنے کے پیچھے حکومتی حماقتوں کا کوہ ہمالیہ کھڑا ہے۔ میرے خیال میں یہ اپنی نوعیت کا ایسا سب سے کامیاب جلسہ ہے جو ہونے سے پہلے ہی کھڑکی توڑ ہفتہ منا چکا تھا۔ ایسی صورتحال کیلئے ہی سوجوتے اور سو پیاز کھانے والا محاورہ استعمال ہوتا ہے۔
(بشکریہ:روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleخود ساختہ ایڈوائزر کی باتیں۔۔امر جلیل
Next Article وہ چار دن جن میں مسئلہ کشمیر پہلے پیچیدہ ہوا، پھر ناقابل حل۔۔فاروق عادل
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

معیشت کے بارے میں بے بنیاد دعوے : سید مجاہد علی کا تجزیہ

جون 4, 2026

عید قرباں اورلائیو سٹاک کا ڈوبتا سرمایہ : برملا / نصرت جاوید کا کالم

جون 4, 2026

قاتل کی بیوی اور بیٹا پروفیسر محی الدین کے فارم ہاؤس پر ملازم تھے : قتل کے حقائق کیا ہیں ؟ ان کہی / نسیم شاہد کا کالم

جون 3, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • معیشت کے بارے میں بے بنیاد دعوے : سید مجاہد علی کا تجزیہ جون 4, 2026
  • عید قرباں اورلائیو سٹاک کا ڈوبتا سرمایہ : برملا / نصرت جاوید کا کالم جون 4, 2026
  • قاتل کی بیوی اور بیٹا پروفیسر محی الدین کے فارم ہاؤس پر ملازم تھے : قتل کے حقائق کیا ہیں ؟ ان کہی / نسیم شاہد کا کالم جون 3, 2026
  • طوفانی بارش اور ژالہ باری : کے پی کے میں چھت گرنے سے 6 بچے ہلاک جون 3, 2026
  • علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین ’ذوالحج کے آخر یا محرم کی ابتدا‘ میں ہوگی: ایرانی عہدیدار جون 3, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.