خالد مسعود خانکالملکھاری

خالد مسعودخان کا کالم۔۔چینی‘ کچرا‘ جہاز اور وزیر ہوا بازی

کس کس چیز کو روئیں اورکس کس بات کا ماتم کریں؟ مافیا کو کنٹرول کرنا تو رہا ایک طرف‘ ہر قسم کا مافیا ا تنا بے لگام ہے کہ خدا کی پناہ۔ لوٹ مار توخیر سے ہمارا مقدر ہے لیکن اس طرح؟ اتنی دیدہ دلیری اور دادا گیری سے؟ ابھی گندم کا سیزن شروع ہوا تھا اور گندم کم پڑ گئی اور آٹے کا ریٹ آسمان پر چلا گیا۔ چینی مافیا نے عوام کو جو لوٹنا تھا وہ خیر اس نے گزشتہ سال کے دوران ایسا لوٹا کہ اگلے پچھلے سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ پھر گنے کی کرشنگ کا سیزن شروع ہوا‘ چینی ایک سو چار پانچ روپے فی کلو سے کم ہو کر بمشکل اسی پچاسی روپے فی کلو گرام پر آئی تھی اور حکومتی وزیروں‘ مشیروں نے اپنی قابلیت کے ڈھول بجانے اور اپنی گڈگورننس کے شادیانے کھڑکانے شروع کر دیے۔ ابھی خیر سے گنے کی کرشنگ کا سیزن چل رہا ہے اور اس کا نصف بھی نہیں گزرا کہ چینی کا ریٹ پھر سے اوپر جانا شروع ہو گیا ہے۔ ایسا اس سے پہلے کم از کم پاکستان میں نہیں ہوا تھا ‘ہاں نئے پاکستان کی بات اور ہے۔
حکومت نے چینی کی قیمت کم کروانے کیلئے شوگر ملز کو زور زبردستی کر کے قبل از وقت گنے کی کرشنگ کا حکم جاری کیا اور گنے کی کرشنگ شروع کروا دی۔ سچ تو یہ ہے کہ اس سے کسان کو تو فوری طور فائدہ ہوگیا کہ اس نے گنے کی کٹائی اور ملز کو سپلائی جلد شروع کر دی لیکن اس کے جو حقیقی منفی اثرات تھے ان کو نظر انداز کر دیاگیا۔ ابھی گنے میں پوری مٹھاس پیدا نہیں ہوئی تھی اور اس کی کرشنگ شروع کر دی گئی۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ گنے سے چینی کی ریکوری کم ہو گئی۔ جیسے جیسے سردی پڑتی ہے ویسے ویسے گنے میں مٹھاس یعنی Sucrose کا لیول بڑھتا جاتا ہے اور جہاں تاخیر سے کٹائی کئے گئے پختہ گنے سے چینی کی حاصل کردہ مقدار دس فیصد سے زیادہ ہوسکتی ہے وہیں جلد کٹائی اور اس کے نتیجے میں گنے کی کم مٹھاس کے باعث چینی کی حاصل کردہ مقدار سات آٹھ فیصد رہ جاتی ہے۔ صرف ا س جلد کرشنگ شروع کرنے کے نتیجے میں کم از کم ملکی چینی کی پیداوار میں اڑھائی تین لاکھ ٹن کی کمی آئے گی۔ اب شوگر ملز والے نہ تو احمق ہیں اور نہ ہی حاتم طائی کے عزیز و اقارب کہ سخاوت پر اُتر آئیں اور کم پیداوار کا بوجھ اپنے بے پناہ نفع میں سے منہا کر اپنے منافع کو تھوڑا کم کر لیں‘ لہٰذا انہوں نے شروع سیزن میں ہی چینی کی قیمت کو دوبارہ سے ا پنے قابو میں کرتے ہوئے بڑھا دیا ہے اور اپنی کم پیداوار کا سارا نقصان دوبارہ سے پورا کر لیاہے۔ نقصان صرف اور صرف عوام کا ہواہے جوابھی چینی مافیا کے ہاتھ سے لٹ کر ٹھیک طرح سانس بھی نہ لے پائے تھے کہ ریٹ دوبارہ سو روپے کی طرف گامزن ہے۔ عمران خان کو اس صورتحال میں بھی اپنا کرپشن کے خلاف رٹا رٹایا سبق نہیں بھولا اور وہ عوام کو چوروں اور لٹیروں سے بچانے کے بجائے چوروں اور لٹیروں کے خلاف اپنا زبانی کلامی جہاد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مملکت خداداد پاکستان میں ویسے تو ہر بندہ دوسرے کو لوٹنے پر تیار بیٹھا ہے لیکن ایسے کبھی نہیں ہوا تھا کہ دھونس دھاندلی اور دیدہ دلیری سے عوام کو لوٹا جا رہا ہے ا ور حکومتی مشینری بمعہ سیاسی قائدین ٹھنڈ پروگرام کر کے بیٹھے ہوں۔ جب لٹیرے سارا میلہ لوٹ کر بھاگ جائیں گے تب کمیشن قائم ہو جائیں گے اور پھرکمیشن کی رپورٹ جاری کرکے اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑے جائیں گے کہ ہم نے رپورٹ شائع کردی ہے‘ اس سے پہلے ملک میں ایسی رپورٹیں پبلک کرنے کا رواج نہیں تھا‘ یہ کام ایسا ہے کہ اس پر حکومت داد کی مستحق ہے۔ لٹنے والے گئے بھاڑ میں اور لوٹنے والے بے فکراورمحفوظ دندناتے پھرتے ہیں۔ اب بھلا عوام کو ایسے کمیشن‘ اس کی رپورٹ اور پھر اس رپورٹ کے پبلک ہو جانے کا کیا فائدہ کہ نہ ان کی جیب سے نکلنے والی رقم واپس ملی اور نہ جیب کاٹنے والے کا ہی بال بیکا ہوا؟ فی الحال حکومت اسی کام میں لگی ہوئی ہے۔
ایک خرابی دوسری خرابی کا نہ توجواز ہے اور نہ ہی معیار۔ کسی خرابی کا ذکر کریں تو ڈھنڈورچی وزیر اور مشیر اسی قسم کا کوئی واقعہ نکال کر گزشتہ حکومت کے لتے لینے شروع کردیتے ہیں۔ گزشتہ حکومت کی خرابیوں سے تنگ آ کر لوگوں نے متبادل قیادت کوموقع دیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ آنے والے گزشتہ خرابیوں کو ٹھیک کریں گے لیکن ہوا یہ ہے کہ وہ اپنی نئی قسم کی خرابیوں کے جواز گزشتہ حکومت کی خرابیوں میں تلاش کرتے ہیں اور اپنی غلطیوں کا ملبہ بھی گزشتہ حکومتوں پر ڈال کر کام چلانے کی کوشش کر رہے ہیںحتیٰ کہ عالم یہ ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر کوڑا اٹھانے میں ناکامی کا ملبہ بھی گزشتہ حکومت پر ڈالا جا رہا ہے۔ لاہور میں گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے گندگی اور کوڑے کی انتہائی خراب صورتحال پر ایک روایتی قسم کا بیان جاری کیا کہ گندگی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس کے ذمہ داران کو چھوڑا نہیں جائے گا۔ ساتھ ہی صوبائی وزیر اسلم اقبال صاحب نے فرما دیا کہ لاہور میں کچرے اور گندگی کی ساری ذمہ داری گزشتہ حکومت پر ہے اور اس کی نالائقی اور نااہلی کے باعث لاہور میں اتنی گندگی پھیلی ہے۔ ایمانداری کی بات ہے کہ ان کی اس منطق پر سمجھ نہیں آتی کہ رویا جائے یا ہنسا جائے؟ کیا عجب صورتحال ہے کہ اڑھائی سال سے آپ حکمران ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر شہرمیں اکٹھا ہونے والے کوڑے کواٹھانے میں ناکامی کی ذمہ دار گزشتہ حکومت ہے۔ وزیر صاحب نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کوڑا اٹھانے والی ترک کمپنی کے ساتھ معاہدے میں بے ضابطگیوں‘ مشینری کی خرابیوں اور دیگر تکنیکی وجوہات کو بنیاد بنایا ہے۔ اگر معاہدے میں بے ضابطگیاں تھیں‘ مشینری خراب تھی اور دیگر انتظامی نقائص تھے تو ان کو اس بات کا پتا اڑھائی سال بعد چلا ہے؟
ادھر پی آئی اے کا طیارہ ملائیشیا میں لیز کی رقم کی عدم ادائیگی پر پکڑ لیا گیا ہے۔ کسی کو اندازہ نہیں اس سے ملک کی کتنی بدنامی اور سبکی ہو رہی ہے۔ لطیفے چل رہے ہیں کہ یہ عمران خان کی حکومت کی خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے کہ اس نے سفارتی فتح حاصل کرتے ہوئے پکڑے جانے والے جہاز میں سے ایک سو ستر مسافروں کو چھڑوا لیا وگرنہ گزشتہ حکومت ہوتی تو ملائیشیا کی عدالتوں نے ان مسافروں کو بھی بحقِ سرکارضبط کر لینا تھا۔ دوسرا لطیفہ یہ چل رہا ہے کہ جہاز کو چھڑوانے کیلئے حکومت نے چندے کی غرض سے بینک اکاؤنٹ کھول دیا ہے۔ ملائیشیا سے پی آئی اے کا جہاز واپس منگوانے کیلئے (جہاز) لکھ کر xxxxپر میسج کریں۔ ایک ستم ظریف نے لکھا ہے کہ جس گاڑی کی قسطیں شارٹ ہوں سمجھدار لوگ اسے لاہور سے باہر نہیں لے کرجاتے کہ کہیں پکڑی نہ جائے۔ دہائی رب دی یہ جہاز کو ملائیشیا لے گئے۔ لطیفے تو اور بھی بہت ہیں مگر ٹاپ کا یہ ہے کہ جب ملائیشیا کے عوام کو پتا چلا کہ یہ جہاز ملتِ اسلامیہ کے محبوب قائد اوراُمہ کے سب سے بڑے لیڈر عمران خان کے ملک سے ہے تو خوشی کے مارے جہاز کو چومنے والوں کی قطاریں لگ گئیں۔ مہاتیر محمد نے تو باقاعدہ جہاز سے لپٹ کر رونا شروع کر دیا اور کہا کہ یہ میرے پیارے عمران خان کی نشانی ہے میں اسے واپس نہیں جانے دوں گا۔
پی آئی اے کو پوری طرح برباد کرنے کی غرض سے روز نیا پاکھنڈ کیا جاتا ہے۔ پہلے پائلٹوں کے لائسنس کا بم پھوڑا گیا اور یورپ وغیرہ میں پی آئی اے کی فلائٹس بند کروا دیں۔ جن ممالک میں ابھی پروازوں پر پابندی نہیں لگی تھی اب جہاز پکڑوا کر وہاں جانے والے مسافروں کا تراہ نکال دیا ہے کہ نہ سواری ہوگی اور نہ پروازیں چلیں گی۔ صاف ظاہر ہے کہ جہاز کی لیز کی قسط میں تاخیر کی ذمہ دار بھی گزشتہ حکومت تھی اور نادہندہ جہاز کو بھی انہوں نے ہی چن کر ملائیشیا بھجوایا تھاتاہم ابھی اس حماقت کی کوئی معقول وجہ وزیر ہوابازی کی سمجھ میں نہیں آئی‘ جونہی آئی عوام کو بتا دی جائے گی۔ ابھی انتظار کریں۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker