خالد مسعود خانکالملکھاری

ریاست کا اصل کام اور امتحان۔۔خالد مسعودخان

اللہ جنت نصیب کرے خلیفہ قائم دین کو، کیا کمال کا آدمی تھا۔ چٹا ان پڑھ، لیکن صرف ان پڑھ تھا‘ جاہل ہرگز نہیں تھا۔ انگریزی میں ایک لفظ ہے Folk Wisdom یعنی ”لوک دانش“۔ خلیفہ قائم دین اس دانائی کا پروردہ تھا۔ گفتگو کرنے کے فن سے مالا مال اور اچھے بھلے پڑھے لکھے اور خود کو بڑی شے سمجھنے والے کسی بھی دانشور کو کسی بھی وقت چھکا مار کر پریشان اور باﺅنسر مار کر ”لم لیٹ“ کروا دیتا تھا۔ اس کی دوکان پر گاہک بھی ہوتے تھے لیکن مجمع بازوں کی تعداد گاہکوں سے ہمیشہ زیادہ ہوتی تھی۔ باہر پڑے ہوئے دونوں ”پھٹے“ انہی مجمع بازوں کے زیر تصرف رہتے تھے۔ گاہک تو کھڑے کھڑے خریداری کرتے۔ ذرا شوقین مزاج گاہک اپنی مطلوبہ چیز خریدنے کے بعد ان پھٹوں پر بیٹھ جاتے یا ان کے ارد گرد کھڑے ہو کر تھوڑی دیر لطف لیتے۔ تھوڑی بہت دخل اندازی بھی کرتے اور اپنی راہ لیتے۔ پھٹوں کے مستقل مکین بھی دراصل کوئی نہ کوئی چیز خریدنے کے لیے گھر سے آتے تھے اور اکثر اوقات ان کے گھر سے دوسری پارٹی اس شے کی وصولی کے لیے آتی؛ تاہم یہ کسی ایمرجنسی والی خریداری کے سلسلے میں ہوتا تھا وگرنہ گھنٹوں بعد گھر جاتے ہوئے وہ خریدی گئی شے ساتھ لے جاتے۔ لیکن سب سے دلچسپ صورتحال تب ہوتی جب گھنٹوں بیٹھ کر کوئی گھر جاتا تو گھر والے پوچھتے کہ جو چیز خریدنے گئے تھے وہ کہاں ہے؟ پھر وہ دوبارہ صرف مطلوبہ شے خریدنے کے لیے آتا۔ یہ بھلے وقتوں کی بات ہے۔ یہ سب کچھ محلوں میں ہوتا تھا۔ کالونیاں، ہاﺅسنگ سکیمیں اور ڈی ایچ اے وغیرہ، اب ان ساری ”نعمتوں“ سے محروم ہیں۔
خلیفہ قائم دین کی دوکان ہمارے محلے کے ساتھ والے محلے میں تھی۔ سامنے سے گزرتے ہوئے ہم بھی دو چار منٹ وہاں رک جاتے۔ بحث کا موضوع عموماً وہی ہوتا جو ہم پاکستانیوں کا پسندیدہ موضوع ہے یعنی سیاست۔ تب پی ٹی آئی کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھی۔ بس دو پارٹیاں تھیں۔ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی۔ ضیاءالحق کے زمانے میں شروع ہونے والی کرپشن خاصا زور پکڑ چکی تھی۔ دونوں پارٹیاں دو دو باریاں لے چکی تھیں اور ابھی شہرہ آفاق میثاق جمہوریت کی پیدائش بھی نہیں ہوئی تھی۔ دونوں پارٹیوں کے ورکروں کے درمیان بڑے زوردار معرکے ہوا کرتے تھے۔ ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات کی بوچھاڑ ہوتی تھی۔ ملک میں دو سیاسی گروہ تھے۔ بھٹو کے حامی، اور بھٹو کے مخالفین۔ پیپلز پارٹی پہلے گروہ پر مشتمل تھی اور مسلم لیگ دوسرے گروہ کی نمائندگی کرتی تھی۔ ایک دن میں وہاں سے گزر رہا تھا۔ خلیفہ قائم دین دوکان کے بجائے پھٹے پر بیٹھا ہوا تھا۔ دوکان اس کے بیٹے نے سنبھالی ہوئی تھی۔ شام کو اکثر ایسا ہی ہوتا تھا اور خلیفہ قائم دین دوکانداری بیٹے کے سپرد کر کے خود بھی ”انجمن پھٹہ بازاں“ میں شمولیت اختیار کر لیتا تھا۔ اس روز بھی بحث بڑے زوروں پر تھی اور موضوع وہی سیاست تھا اور سیاست میں بھی کرپشن۔ ہر دو پارٹیوں کے حامی سارے الزامات ایک دوسرے پر لگا رہے تھے۔ مسلم لیگیوں کے نزدیک ساری مسلم لیگ دودھوں نہائی ہوئی تھی اور میاں صاحبان بمعہ چوہدری شجاعت حسین اینڈ کمپنی سب کے سب ایمانداروں کے ڈی آئی جی تھے اور ملک میں ساری کرپشن کی جڑ پیپلز پارٹی اور خصوصاً آصف علی زرداری تھے۔ تب موصوف پر صرف ”ٹین پرسنٹ“ کا ملبہ ڈالا جاتا تھا۔
دوسری طرف پیپلز پارٹی والے اپنے آپ کو شہید بھٹو کا وارث (تب بے نظیر بھٹو حیات تھیں) قربانیوں کی تاریخ والی پارٹی اور جمہوریت کے لیے اپنی جدوجہد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ کو فوجیوں کی باقیات‘ اسٹیبلشمنٹ کی ٹاﺅٹ اور مال پانی بنانے والے کاروباریوں کی پارٹی قرار دے رہے تھے اور مسلم لیگ کی قیادت کی ٹیکنیکل کرپشن پر روشنی ڈال رہے تھے کہ مسلم لیگ کے حکمران کس طرح ریفنڈ، کک بیک، سبسڈی کے ایس آر اوز اور امپورٹ وغیرہ میں گھپلوں کے ذریعے مال کما رہے ہیں۔ (تب لندن کی پراپرٹی کا غلغلہ نہیں تھا) غرض ہر پارٹی خود کو نیک پروین اور دوسری کو کرپشن کنگ قرار دے رہی تھی۔ خلیفہ قائم دین نے سب سے سوال کیا کہ کیا ملک میں کرپشن نہیں ہو رہی ہے؟ سب لوگوں کا متفقہ جواب تھا کہ ہو رہی ہے۔ نہ صرف ہو رہی ہے بلکہ بڑی زوروں پر ہے۔ خلیفہ قائم دین نے پوچھا کہ کیا یہ کرپشن میں کر رہا ہوں؟ سب کا جواب تھا، ہرگز نہیں۔ خلیفہ نے پوچھا کیا یہ کرپشن آپ کر رہے ہیں؟ جواب ملا: بالکل نہیں۔ خلیفہ نے پوچھا: کیا یہ کرپشن آپ کے گھر والے کر رہے ہیں؟ جواب وہی تھا‘ یعنی بالکل نہیں۔ خلیفہ کہنے لگا: اللہ کے بندو! یہ کرپشن میں بھی نہیں کر رہا‘ آپ بھی نہیں کر رہے‘ آپ کے گھر والے بھی نہیں کر رہے‘ پیپلز پارٹی والے حکمران اور ان کے وزیر مشیر نہیں کر رہے‘ مسلم لیگ کے حکمران اور سیاسی پارٹی بھی نہیں کر رہی‘ تو پھر یہ کرپشن کون کر رہا ہے؟ کسی کے پاس جواب نہیں تھا۔ خلیفہ نے سب کو چار منٹ میں ناک آﺅٹ کر دیا۔
یہ سوال آج بھی اتنا ہی تازہ اور جاندار ہے کہ اگر اس ملک کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے نہیں لوٹا۔ شریف خاندان اور زرداری اینڈ کمپنی نے کرپشن نہیں کی تو پھر اس ملک میں کرپشن کون کر رہا ہے؟ اگر ان کے زیر سایہ ادارے یہ کام کر رہے تھے۔ لوگ لوٹ مار کر رہے تھے تو اس کو روکنے کی ذمہ داری کن پر تھی؟ کیا ان دونوں کے علاوہ کوئی تیسری پارٹی ماسوائے غاصب ڈکٹیٹروں کے پاکستان پر حکمران رہی ہے؟ ان دونوں پارٹیوں نے کرپشن نہیں کی تو کس نے کی ہے؟ اگر شریف خاندان اور زرداری خاندان نے لوٹ مار نہیں کی تو ان کی پراپرٹی، کاروبار اور املاک میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں گنا اضافہ کیسے ہوا؟ ان کے پاس اس ساری جائیداد، کاروبار اور املاک کی خریداری وغیرہ کی منی ٹریل کیوں نہیں؟ بے نامی اکاﺅنٹس سے ہونے والی ساری ٹرانزیکشنز کون کر رہا تھا؟ فالودے والے اور ریڑھی والے کے اکاﺅنٹس میں سے ٹرانسفر ہونے والے اربوں روپے کا مالک کون تھا؟ سندھ میں آدھی شوگر ملوں کی خرید اور لندن میں اربوں روپے کی جائیداد اگر دونوں خاندانوں نے ناجائز پیسوں سے نہیں بنائی تو اس کا ذریعہ خریداری کیا ہے؟ بلاول ہاﺅس کراچی کے اردگرد کی جائیداد اور اندرون سندھ زمینیں اگر زور آوری سے نہیں خریدی گئیں تو ان کے مالکان نے یہ زمینیں اور جائیدادیں مارکیٹ ریٹ سے ناقابل یقین حد تک کم قیمت پر کیسے فروخت کر دیں؟ کیا ان کے مالکان اندھے تھے کہ انہیں کچھ نظر نہیں آ رہا تھا؟ لندن کی جائیدادوں کی خریداری کے لیے جو رقم خرچ ہوئی وہ کہاں سے آئی؟ کوئی تو ثبوت ہونا چاہیے۔ اگر یہ کرپشن کی رقم سے نہیں بھی خریدی گئیں تو کم از کم منی لانڈرنگ کے ذریعے تو خریدی گئی ہیں۔ اگر منی لانڈرنگ ہوئی ہے تو پھر یقینا یہ رقم ٹیکس چوری کر کے بچائی گئی ہے (یہ کم سے کم والا جرم ہے اور اس سے کم جرم تو اس ساری صورتحال میں ممکن ہی نہیں)
سندھ میں تو اور بھی برا حال ہے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا ڈی جی منظور نادر کاکا، ایڈمنسٹریٹر ثاقب سومرو، ڈاکٹر عاصم، فشرمین کواپریٹو سوسائٹی کا نثار مورائی‘ شرجیل انعام میمن اور اسی قبیل کے بے شمار سرکاری افسر اور سیاسی رہنماﺅں نے لوٹ کھسوٹ کا وہ بازار گرم کر رکھا تھا کہ خدا کی پناہ۔ سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی کروڑوں کی کرپشن۔ کسی محکمے نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی کہ سندھ میں کیا ہو رہا ہے؟ پورے ملک میں عموماً اور سندھ میں خصوصاً انتظامیہ اور کرپشن کی روک تھام پر مامور ادارے‘ سب کے سب ناکام رہے۔
اب ملزموں کے خلاف گھیرا تنگ ہو رہا ہے تو انتقام کا شور مچ رہا ہے۔ ملزم عنقریب مجرم ثابت ہوں گے لیکن سوال یہ ہے کہ ان کے خلاف تو احتساب کا شکنجہ کسا جا رہا ہے لیکن جو ادارے اپنا فریضہ سرانجام دینے میں ناکام ہوئے‘ ان کا کیا بنے گا؟ ان کے خلاف ایکشن ہونا چاہئے۔ ان محکموں میں موجود کرپٹ لوگوں کی تطہیر ہوئے بغیر یہ نظام تادیر نہیں چل سکتا۔ سسٹم جب تک Automation پر نہیں آ جاتا‘ ریاست کو اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے اداروں کو ٹھیک کرنا ہو گا۔ انفرادی حرام خوروں کا احتساب درست، لیکن جب تک حرام خور اداروں کی درستی نہیں ہوتی یہ سلسلہ نہیں رک سکتا۔ وقت آ گیا ہے کہ ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے اور اداروں کو ٹھیک کرے خواہ اس کے لیے کرپشن روکنے والے اداروں کے حرام خور افسروں کو پھانسی تک کی سزا ہی کیوں نہیں دی جاتی۔ اس گلے سڑے نظام کو نئے سرے سے ٹھیک کرنا مشکل ضرور ہے ناممکن ہرگز نہیں۔ یہی اصل امتحان ہے۔
(بشکریہ:روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker