خالد مسعود خانکالملکھاری

کتاب بینی کے فروغ کے لیے ایک اور کاوش۔۔خالد مسعودخان

کتاب اور حرف سے ہمارا مجموعی رشتہ جس بدترین سطح پر پہنچ چکا ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کالم ہرگز نہیں لکھنا چاہئے تھا مگر شکر ہے خداوندِ قدوس کا کہ مجھے یہ یقین ہے‘ جو لوگ کالم پڑھتے ہیں وہ اس ملک کے ان چند فیصد لوگوں میں شامل ہیں‘ جو کتاب بھی پڑھتے ہیں۔ کالم اور کتاب پڑھنا انہی کے نصیب میں ہے جو حرف اور کاغذ سے جڑے ہوئے ہیں، جو رب ذوالجلال کی طرف سے پہلی وحی کے پہلے حرف ”اقرا“ سے بندھے ہوئے ہیں۔ یہ وہ چیز ہے جو اس عاجز کو کتاب پر کچھ لکھنے کا حوصلہ اور جواز فراہم کرتی ہے۔
میں ہر دوسرے چوتھے مہینے کسی نہ کسی حوالے سے کتاب پر کچھ لکھ دیتا ہوں۔ میرا تو یہ شاید ”مینوفیکچرنگ فالٹ“ ہے اور یہ وہ خرابی ہے جو کسی طور دور نہیں ہو سکتی۔ جس گاڑی میں کوئی مینوفیکچرنگ فالٹ ہو کمپنی عموماً مارکیٹ سے وہ گاڑی واپس اٹھوا لیتی ہے۔ یہ ناقابل اصلاح خرابی ہے۔ میرے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہے۔ اس کی وجہ بڑی معقول اور منطقی ہے۔ ابا جی مرحوم لائبریرین تھے۔ گھر میں دیگر چیزوں کے ساتھ کتاب بھی ایک لازمی شے تھی‘ جو گھر میں ہر جگہ نظر آتی تھی۔ ابا جی کے بیڈ روم میں دو الماریاں تھیں۔ ایک ان کی وارڈروب اور دوسری کتابوں والی الماری۔ ڈرائنگ روم میں دو الماریاں تھیں۔ ان دونوں الماریوں میں صرف اور صرف کتابیں تھیں۔ بڑے کمرے میں دو الماریاں تھیں۔ ایک میں چینی کے برتن اور دوسری الماری میں بھی کتابیں۔ ابا جی کے بیڈ روم کی بڑی کھڑکی گلی کی طرف کھلتی تھی۔ یہ کھڑکی سدا سے بند تھی۔ اس کے سامنے اندرونی طرف ایک سرے سے دوسرے سرے تک کتابیں لگی ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ ہر دوسرے چوتھے دن لائبریری سے آنے والی کتابیں بھی تھیں۔ گھر میں ہر طرف کتابوں کی ریل پیل تھی۔
چار بہن بھائیوں میں سب سے زیادہ کتابوں سے مجھے دلچسپی تھی اور پھر میری بڑی بہن مرحومہ کو۔ بڑے بھائی مرحوم طارق محمود خان کو اور چھوٹی بہن کو کتابوں سے اتنی دلچسپی نہ تھی جتنی ہم دونوں کو، لیکن مہینے میں چار چھ کتابیں بہرحال یہ دونوں بھی پڑھ لیتے تھے۔ ابنِ صفی کی کتابیں تو بھائی طارق ہی خرید کر لاتے تھے اور ان کے کتاب ختم کرنے کے بعد باری باری (بلحاظ عمر) ہم باقی تینوں بھائی بہن یہ کتاب پڑھتے تھے۔ اس حساب سے سب سے آخر میں میری باری آتی تھی۔ اب آپ خود بتائیں میری کتاب سے دلچسپی اور محبت کیوں نہ ہوتی؟ بچپن کی ذہن میں پھنسی ہوئی چیزیں مرتے دم تک آپ کے اندر اٹکی رہتی ہیں۔ کتاب اور میرا تعلق بھی ایسا ہی ہے۔ اور میں اپنے کالم میں اس موضوع پر عادتاً یا مجبوراً لکھتا رہتا ہوں ‘اس یقین کے ساتھ کہ جو لوگ ابھی تک لکھا اور چھپا ہوا کالم پڑھنے کی نعمت سے مالا مال ہیں‘ بھلا وہ کتاب سے دلچسپی کیوں نہیں رکھتے ہوں گے؟ حتیٰ کہ نیٹ پر اخبار اور کالم پڑھنے والے بھی حرف دوست تو ہوں گے ہی۔ سو آپ جیسے حرف دوستوں اور کتاب دوستوں سے دل کا دکھڑا بیان کرتا رہتا ہوں۔
گزشتہ سے پیوستہ روز نشتر میڈیکل کالج و ہسپتال کی جامع مسجد کے امام اور خطیب مولانا حبیب الرحمان میرے پاس تشریف لائے۔ ان کے آنے کا بنیادی مقصد نئی نسل میں کتاب سے دوری کے روز بروز بڑھتے ہوئے رجحان کا کوئی حل نکالنا تھا۔ ان کے دل میں بڑی درد مندی تھی کہ نئی نسل کتاب سے دور ہوتی جا رہی ہے اور کسی کو بھی اس انتہائی اہم مسئلے کا احساس نہیں ہے۔ میں کئی سال تک مولانا حبیب الرحمان کی امامت میں نشتر کی جامع مسجد میں باقاعدگی سے جمعہ مبارک کی نماز پڑھتا رہا ہوں۔ مسجد میں ہال کے اندر آخری قطار کی انتہائی دائیں جانب دیوار کے ساتھ مخصوص جگہ پر نماز پڑھنے والے سے بھلا امام مسجد کی واقفیت کس طرح ہو سکتی تھی؟ مولانا سے ملاقات مرحوم ہمدمِ دیرینہ ذوالکفل بخاری کے توسط سے ان کے گھر میں ہوئی اور ایک بار نہیں کئی بار ہوئی تھی۔ مولانا اپنی تجاویز تحریری صورت میں میرے پاس لائے تھے۔ وہ کتاب بینی کی روایت کو پھر سے زندہ کرنے کے لیے سارا زور پرائمری سکول کی سطح پر لگانے کی تجاویز لائے تھے۔ سچ یہ ہے کہ ان کا یہ موقف درست ہے کہ کوئی بھی عادت اوائل عمری ہی میں ڈالی جا سکتی ہے بعد میں یہ ناممکن ہو کر رہ جاتا ہے۔ ممکن ہے لفظ ”ناممکن“ تھوڑا غیر منطقی محسوس ہو لیکن ایک آدھ استثنا کے علاوہ کتاب سے دوستی بچپن ہی میں ممکن ہے۔
بیس بائیس کروڑ کی آبادی کے ملک میں آج بھی کوئی کتاب ہزار سے زائد کے ایڈیشن میں نہیں چھپتی بلکہ اکثر کتابیں تو پانچ سو کی تعداد میں چھپتی ہیں‘ اور اگر گنتی کے چند ”بیسٹ سیلر“ ادیبوں کے علاوہ کسی ادیب یا شاعر کی ہو تو یہ کتاب برسوں بعد بھی مکمل فروخت نہیں ہوتی اور آخر کار ردی فروش کے طفیل یہ بارِ گراں پبلشر یا خود ادیب (اگر اس نے پلے سے کتاب چھپوائی ہے) اپنے کندھوں سے اتارنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
مولانا کی تجویز تھی کہ پرائمری سکول کی سطح پر بچوں کا کتب خانہ قائم کیا جائے۔ ہر پرائمری سکول میں ایک لائبریری‘ خواہ وہ ابتدا میں کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو‘ قائم کی جائے اور اس میں خالص بچوں کی دلچسپی کی کتابیں رکھی جائیں۔ تعلیم و تربیت، نونہال اور پھول جیسے ماہانہ رسائل یہاں لگوائے جائیں اور بچوں کو کتاب پڑھنے کی ترغیب دی جائے، ان کی حوصلہ افزائی کی جائے اور مختلف حیلوں بہانوں سے ان کو کتاب کی طرف راغب اور مائل کیا جائے۔ ان کتب خانوں میں رکھی جانے والی کتب نہ صرف یہ کہ بچوں کی عمر اور ذہنی استعداد کے مطابق ہوں بلکہ اسلام، پاکستان اور مشرقی اقدار سے محبت کا باعث بننے والی بھی ہوں۔ مزید برآں یہ کتب فرقہ واریت، گروہ بندی اور مسلکی چھاپ سے پاک ہوں۔ ان کی تجویز تھی کہ ابتدائی طور پر دعوة اکیڈمی اور ہمدرد نونہال کی شائع کردہ کتب ان لائبریریوں میں رکھی جائیں۔
ہمارے زمانے میں ہائی سکول کی سطح پر ”بزم ادب“ کا ایک ہفتہ وار پیریڈ ہوتا تھا۔ اللہ جانے اب ہوتا ہے یا نہیں‘ لیکن پرائیویٹ اور انگریزی میڈیم سکولوں میں تو اس کا نام و نشان نہیں ملتا۔ سرکاری سکولوں کا اب کیا حال ہے‘ خبر نہیں۔ اگر یہ پیریڈ موجود ہے تو اسے فعال کیا جائے اور اگر ختم ہو چکا ہے تو اسے نئے سرے سے فعال کرکے بچوں کو شروع سے ہی ”ہم نصابی“ سرگرمیوں کی عادت ڈالی جائے۔ اس طرح فنِ تقریر، ادب سے آگاہی اور کتاب بینی سے محبت کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔
ہر پرائمری سکول میں ایک کمرہ لائبریری کے لیے مختص کیا جائے اور وہاں بیٹھ کر پڑھنے کا ماحول بنایا جائے تاکہ بچپن کی اس عادت کے طفیل ہماری معدودے چند بچی کھچی پبلک لائبریریوں کی رونق بحال ہو سکے۔ اب عالم یہ ہے کہ ملتان میں دو پبلک لائبریریاں ہیں: ایک پرائیویٹ ٹرسٹ کے زیراہتمام چلنے والی ”پبلک لائبریری باغ لانگے خان“ اور دوسری ڈسٹرکٹ پبلک لائبریری قلعہ کہنہ قاسم باغ۔ ہر دو لائبریریاں ویرانی کا عالم پیش کر رہی ہیں۔ پبلک لائبریری قلعہ کہنہ قاسم باغ میں آخری لائبریرین چچا اشرف سیال تھے۔ ہر مہینے ابا جی مرحوم کے پاس آتے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد نہیں لیکن بیس سال سے تو زیادہ عرصہ ہو گیا ہے بلکہ شاید پچیس سال سے بھی زیادہ۔ چچا اشرف سیال ریٹائر ہوئے اور پھر اس لائبریری کو کسی لائبریرین کی شکل دیکھنا نصیب نہیں ہوئی۔ کلرکوں نے لائبریری کیا چلانا تھی۔ بالکل ہی برباد ہو گئی۔ اچھی کتابیں ضلعی افسران لے گئے اور لائبریری خالی ہو گئی۔ دو سال پہلے میں نے پنجاب لائبریری فاﺅنڈیشن سے اس لائبریری کو دس لاکھ کی گرانٹ لے کر دی۔ کتابیں خریدیں گئیں‘ لیکن یہ الماریوں میں بند ہیں۔ کتاب بینی کا کلچر دم توڑ رہا ہو تو بھلا الماریوں میں بند کتابیں کیا کر سکتی ہیں؟۔
پرائمری سکولوں میں اگر لائبریری قائم کرنے کی مہم شروع کی جائے تو اس شہر کے مخیر حضرات‘ تاجروں، صنعتکاروں اور مختلف تنظیموں کو اس کارخیر میں حصہ ڈالنے کے لیے ترغیب دلائی جا سکتی ہے؛ تاہم اس سلسلے میں صرف یہ خیال رہے کہ ان لائبریریوں کے قیام کے معاملے میں وہ کچھ نہ کیا جائے جو چند سال پہلے جرمنی کی طرف سے ملنے والی کئی کروڑ ڈالر کی گرانٹ کے ساتھ کیا گیا تھا کہ لائبریریوں کی زینت ایسی کتابیں بنا دی گئیں جو بچوں کی ذہنی استعداد سے ہزار گنا اوپر کی تھیں۔ اس سے بہت سے ادیبوں، پبلشروں اور کتب فروشوں کی چاندی ہو گئی اور کتابیں الماریوں میں پڑی گل سڑ گئیں۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker