ملتان::سینئر سیاست دان اور پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر خاور علی شاہ نے کہا ہے کہ میں نے سیاست میں بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے۔ 1970ءسے عملی سیاست میں ہوں۔ اب تک پانچ مرتبہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوچکا ہوں ۔چار مرتبہ آزاد حیثیت میں کامیابی حاصل کی اور ایک مرتبہ پاکستان مسلم لیگ(ن )کے ٹکٹ پر کامیاب ہوا.
خصوصی بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ میاں نوازشریف میرے ذاتی دوستوں میں سے ہیں۔انہوں نے مجھے ہمیشہ احترام دیا۔میں جب بھی ملاقات کے لیے گیا نوازشریف اور محترمہ کلثوم نواز نے مجھے غیرمعمولی عزت دی اورانہی کے کہنے پرمیں آئی جے آئی اورپھر مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوا۔پرویزمشرف کی جانب سے نوازشریف حکومت کاتختہ الٹے جانے کے باوجود میں نے ن لیگ کے ساتھ طویل وابستگی برقراررکھی۔ انہوں نے کہاکہ حلقے کی عوام نے ہمیشہ مجھ پر اعتماد کیا اوراس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ میں نے عوام کے اعتماد کوٹھیس نہیں پہنچائی۔ انہوں نے کہاکہ میں ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہوں اور میں نے اس زمانے میں ایم بی بی ایس کیا جب بہت کم لوگ ایم بی بی ایس کے میرٹ پر پورا اترتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ میری پریکٹس بہت اچھی تھی اور میں لوگوں کامفت علاج کرتاتھا لیکن جب میں سیاست میں آیا تو مجھے زیادہ وقت حلقے سے باہررہناپڑتاتھا اورمیں مریضوں کودستیاب نہیں ہوتاتھا۔پھرمجھے محسوس ہوا کہ یہ دونوں شعبے ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ ڈاکٹر کے ساتھ لوگوں کی زندگیاں وابستہ ہوتی ہیں اور اگر لوگ آئیں اور ڈاکٹر موجودنہ ہو تو یہ اچھی بات نہیں۔ انہوں نے کہاکہ 1970کے انتخابات میں بھٹو صاحب کی جانب سے بھی مجھے ٹکٹ کی پیشکش کی گئی لیکن میں اپنے چچا نوبہارشاہ کے حکم پر پی ڈی پی کے امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑرہاتھا سو میں نے ان کی پیشکش قبول نہیں کی۔انہوں نے مزید کہاکہ سیاست میں ضد کبھی نہیں چلتی۔ مجھے آج بھی خان عبدالولی خان کا یہ جملہ یاد ہے کہ سیاستدان کو اپنے آپشن کھلے رکھنے چاہیے جبکہ بھٹو صاحب نے کہا تھا کہ صحیح وقت پر صحیح فیصلے کرنا ہی سیاست ہے۔
فیس بک کمینٹ

